ہوناور میں پریش میستا کی موت کو تین سال مکمل: کیا یہ معاملہ بھی  بے نتیجہ معاملات کی طرح ہوجائے گا ؟ ابھی تک سچ کا پتہ کیوں نہیں چلا ؟

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 10th December 2020, 7:46 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 10؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) پڑوسی تعلقہ ہوناور میں تین سال قبل  پریش میستا نامی نوجوان کی مشتبہ طورپر  موت واقع ہوئی تھی، مگر اس کی ہلاکت کو لےکر سی بی آئی کو جانچ  کرنے کی ذمہ داری دینے کے باوجود ابھی تک اس بات کا پتہ نہیں چل پایا ہے کہ آخر اس کی موت کے پیچھے کس طرح کی سازش کارفرما تھی اور اس نوجوان کی ہلاکت کے معاملے کا  سچ کیا ہے۔ ضلع اُترکنڑا کے  عوام میں اس نوجوان کی موت کو لےکر ابھی تک  اس کی موت پر سے پردہ نہ ہٹنے کو لے کر  چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ کہیں یہ معاملہ بھی نتیجہ بر آمد نہ ہونے والے معاملات کی طرح  نہ ہوجائے۔

6دسمبر 2017کو ہوناور شہر میں برپا ہوئے  تشدد کے دوران  شہر کے ادیم نگر کا  مکین 19سالہ پریش میستا لاپتہ ہوگیا تھا، 8دسمبر کو اس کی نعش ایک تالاب سے برآمد ہوئی تھی ۔ دو فرقہ کے درمیان ہوئی جھڑپ کے دوران مسلم مخالف تنظیموں نے  اس کی موت کو لے کر مسلم لوگوں پر اس کے قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا  جس کے بعد   ضلع بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے جس کےدوران دیگر علاقوں میں جھڑپوں کی وارداتیں پیش آئی تھی۔

پریش میستا کی ہلاکت کے وقت ریاست میں سدرامیا کی قیادت والی کانگریس حکومت برسراقتدار پر تھی ،  مگر اس نوجوان کی موت ہوتے ہی بی جےپی لیڈران سڑک پر اتر  آئے تھے اور بڑے بڑے احتجاجات کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ ’’ہمیں ریاستی حکومت پر اعتماد نہیں ہے ،  لہٰذا معاملہ سی بی آئی کو سونپاجائے‘‘۔ ریاستی حکومت نے 13دسمبر 2017کو ہی معاملہ کی جانچ  سی بی آئی کے حوالے کردی تھی ۔ لیکن سی بی آئی  کو جانچ کی ذمہ داری دے کر  تین برس مکمل ہورہےہیں لیکن  ابھی تک پریش میستا کی موت  کی وجہ کا سچ  ظاہر نہیں ہواہے۔ سی بی آئی کے افسران کئی مرتبہ ہوناور اور کمٹہ کا دورہ کرتےہوئے بہت سارے لوگوں سے پوچھ تاچھ بھی کی تھی  اور پریش میستا کے گھر جا کر بھی جانچ کی تھی ۔ جانچ شروع کرکے طویل عرصہ گزرنےکے بعد بھی سی بی آئی افسران سچ کا پتہ لگانے میں تاخیر  کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

تازہ صورتحال یہ ہے کہ  اِس وقت مرکزمیں بی جےپی کی حکومت ہے، ریاست میں بھی بی جے پی کی سرکار ہے، مہلوک پریش میستا کے خاندان کےساتھ انصاف کا مطالبہ کرنے والی بی جے پی ریاست اور مرکز میں یعنی دونوں جگہ اقتدار میں رہنے کے باوجود اس معاملے کو لے کر خاموش ہیں، عوام کامطالبہ ہے کہ کم ازکم اب تو سہی ، ہلاکت کے پیچھےکا راز فاش کریں۔

قطرہ قطرہ خون کےساتھ انصاف کہاں ؟:پریش میستاکی نعش جس دن ملی تھی اسی دن ہوناور پہنچ کر شمالی کینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے  ’قطرہ قطرہ خون کا انصاف دلائیں گے ‘‘ کا بیان دیا تھاتو اس کی گونج ضلع بھر میں سنائی دی تھی۔ رکن پارلیمان کے بیان پر عوام نے اعتماد کیا تھا کہ میستا کے خاندان کو بہت جلد انصاف ملے گا۔ لیکن کیا کریں ، بی جےپی کو حکومت سنبھالے تین برس ہوچکے ہیں ابھی تک میستا کی موت کا راز نہیں کھلا ہے۔ لیڈران بھی تین برسوں سے خاموش رہنےکی وجہ سے حالیہ دنوں میں  ایم پی ہیگڈے کابیان کافی ٹرول ہواتھا۔ سوشیل میڈیا پر ’’قطرہ قطرہ خون ۔۔۔۔۔‘‘والا بیان کا ٹرول وڈیو کافی وائرل ہواہے۔ کئی لوگ میستا معاملہ میں انصاف نہ  ہونے کی بنا پر بی جےپی اور ایم پی کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں

تشدد میں ملوث افراد کے کیس واپس : پریش میستا کی ہلاکت کے بعد ضلع کے کمٹہ ، ہوناور ، کاروار اور سرسی میں تشدد کے واقعات پیش آئے  تھے۔ فسادات کو لےکر سیکڑوں نوجوانوں پر کیس درج ہوئے تھے۔انتخابی تشہیر کے دوران  بی جے پی لیڈران نے تیقن دیا تھا کہ اگر  بی جےپی اقتدار سنبھالتی ہے تو  جتنے بھی فسادات کے کیس ہیں  سب واپس لئے جائیں گے۔

یڈیورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت بنی تو ضلع کے ارکان اسمبلی روپالی  نائک، سنیل نائک، دنیکر شٹی ، شیورام ہیبار وغیرہ نے وزیر اعلیٰ پر دباؤ بنایا تھا کہ میستا کی موت کے بعد  ہوناور، کمٹہ، سرسی وغیرہ میں جو پرتشدد احتجاج ہوئے تھے اور پولس پر پتھراو سمیت پولس کی ایک وین بھی نذر آتش کی گئی تھی، ان تمام  کے مقدمے واپس لئے جائیں۔ کافی دباو کے بعد وزیر اعلیٰ نے ان تمام  کیسوں کو واپس لے لیا تھا۔ لیکن اب سب کچھ ٹھیک ہوچکا ہے لیکن ہلاکت کا سچ  سی بی آئی کے ذریعے بھی باہر نہیں آسکا ہے جس  پر عوام کا کہنا ہے کہ موت کاسچ سب کے سامنے ظاہرہونا ضروری ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یلاپور میں پٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کےخلاف لاری مالکان تنطیموں کا احتجاج

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار اضافے کی مخالفت میں لاری مالکان کے مختلف تنظیموں نے جمعہ کو شہر میں بند منایا۔ لاری، آٹو، ٹیاکسی اوردیگر تجارتی سواریوں نے بھی بند میں شامل ہوتےہوئے حمایت کی۔ تنظیموں نے تحصیلدار کی معرفت ریاستی گورنر اور ضلع نگراں کار وزیر کو میمورنڈم ...

یلاپور کی نندولی دیہات کی طالبہ کا اغواء کاری معاملہ : ماں کے خوف سےخود لڑکی نے  گھڑی تھی جھوٹی کہانی  

یلاپور تعلقہ نندولی دیہات میں دسویں میں زیر تعلیم طالبہ کے اغواءکاری معاملے کی  سچائی کا پتہ چلتے ہی جانچ میں جٹی پولس ٹیم حیرت میں پڑگئی ہے۔ لڑکی نے جھوٹی کہانی گھڑتے ہوئے خود اغواء ہونےکا ناٹک رچے جانے کی بات لڑکی نے پولس کے سامنے بیان کی ہے۔

بھٹکل رتھ اتسوا امن و شانتی کے ساتھ ہوا اختتام پزیر

بھٹکل چن پٹن ہنومان مندر کا رتھ اتسوا امن و شانتی کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔ سالانہ جاترا کی مناسبت رتھ اتسوا اپریل کے مہینے میں منعقد ہوتا ہے۔ لیکن کووڈ وباء اور لاک ڈاون کے پیش نظر گزشتہ سال یہ تہوار منایا نہیں گیا تھا۔ اس لئے امسال کے طے شدہ تہوار سے قبل 26 فروری کو گزشتہ سال کا ...

شکایت کنندہ کامکمل نام اور پتہ کی تصدیق کے بعد ہی سرکاری ملازمین کے خلاف جانچ کارروائی

ریاستی حکومت نے سرکاری ملازمین کےخلاف موصول ہونے والی گمنام و انجان شکایتوں پرجانچ  کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ سرکاری ملازمین کے خلاف گمنام وانجان شکایات کرتےہوئے قانون کاغلط استعمال کئے جانےکی وجہ سے یہ فیصلہ لئے جانےکا ریاستی حکومت نے بتایا ہے۔

میسورو: جے ڈی ایس کی رکمنی مادے گوڈامیئر انور بیگ ڈپٹی میئر منتخب

بروز چہارشنبہ میسور سٹی کارپوریشن کے کونسل ہال میں منعقدہ میسور کے مئیر اور ڈپٹی مئیر کے انتخابات میں کانگریس اور جنتا دل(ا یس) نے ایک دوسرے کی حمایت کی، جس کی وجہ سے جے ڈی ایس کی وارڈ نمبر36کی کارپوریٹر رکمنی مادے گوڈا مئیر اور کانگریس کے وارڈ نمبر 10کے کارپوریٹر انور بیگ عرف ...

ریزرویشن بحران سے نپٹنے میں ایڈی یورپا حکومت ناکام: ایچ وشواناتھ

کرناٹک میں مختلف طبقات کی طرف سے ریزرویشن کے معاملہ پر تحریکیں شدت اختیار کررہی ہیں۔ ریزرویشن کی مانگ کرتے ہوئے مختلف طبقات کے افراد سڑکوں پر اتررہے ہیں اور احتجاجات شروع ہو چکے ہیں، لیکن ریاستی حکومت اس صورتحال سے نپٹنے میں پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ یہ تبصرہ بی جے پی کے ہی رکن ...

بی بی ایم پی اڈمنسٹریٹر نے مختلف تعمیری کاموں کا معائنہ کیا

بروہت بنگلور مہا نگر پا لیکے(بی بی ایم پی) کی جانب سے اولڈ ائر پورٹ پر سگنل فری کاریڈار پراجیکٹ کے تحت ونڈ ٹینل روڈ جنکشن،سروجنی داس جنکشن اور کندلہلی جنکشن پر جاری انڈر پاس کے تعمیری کاموں کا آج بی بی ایم پی اڈمنسٹریٹر گورو گپتا نے معا ئنہ کیا اور کنٹراکٹروں کو مقررہ وقت پر ...

’ وشوگرو‘ کسے کہاگیا ؟ : عوامی تحریکات کو غلط رخ دینے والے ’آندولن جیوی‘ کون ہیں ؟ معروف کنڑا روزنامہ پرجاوانی کی خصوصی رپورٹ

کرناٹک کی بات کریں تویہاں  بی جےپی کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی ۔ ہبلی عیدگاہ میدان اور چک منگلورو کے بابابڈھن گری جیسے تنازعوں کے سہارے بی جے پی  یہاں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ہے، گائے ذبیحہ کا معاملہ چھیڑ کر  اور  فرقہ وارانہ نفرت بو کر بی جے پی نے  ساحلی پٹی پراپنی  جڑیں ...

مسلمانوں پر ملک کی آبادی بڑھانے کا الزام غلط۔سابق چیف الیکشن کمشنر نے اپنی نئی کتاب میں اعداد وشمار پیش کئے ، 70سال میں مسلمانوں کی آبادی صرف4فیصد بڑھی

ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر اور چار کتابوں کے مصنف ایس وائی قریشی نے اپنی تازہ تصنیف’آبادی کا تصور۔ ہندوستان میں اسلام،فیملی پلاننگ اورسیاست‘ منظر عام پر پیش کی ہے۔

ریزرویشن معاملہ: حکومت کا تعصب ایک طرف لیکن مسلمان اپنے حقوق کی حصولیابی اورسرکاری اسکیمات سے فائدہ اٹھانے میں بھی ناکام۔۔۔۔ روزنامہ سالارکا تجزیہ

کرناٹک میں مختلف طبقات کی طرف سے ریزرویشن کی مانگ کو لے کر ماحول جس طرح دن بہ دن گرمی اختیار کرتا جا رہا ہے اسی درمیان یہ بات بھی سامنے آئی کہ تمام طبقات کیلئے حکومت کی طرف سے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ریزرویشن دینے کا وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی طرف سے اعلان کیا گیا-

انکولہ کے ڈونگری دیہات کے طلبا جان ہتھیلی پرلے کرتعلیم حاصل کرنے پر مجبور؛ ایک ماہ کے اندر بریج تعمیر کرکے دینے کا ایم ایل اے نے کیا وعدہ

انکولہ تعلقہ کے  ڈونگری  دیہات کے طلبا کےلئے تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہاں کے طلبہ کو  ہر روز خطرناک حالت میں جان ہتھیلی پر لےکر ندی پارکرتےہوئے  اسکول پہنچنا ہوتاہے۔

 کیا بھٹکل جالی ساحل سیر و تفریح کے لئے ہوگیا ہے غیر محفوظ؟ شہریوں کے لئے کیا ہے اس کا متبادل ؟!

بھٹکل تعلقہ میں  مرڈیشور ساحل اور مرڈیشور کا  مندر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ سیاحتی مرکز ہے۔ اس کے بعد بھٹکل شہر سے قریب جالی بیچ ان دنوں سیر و تفریح کرنے والوں کے لئے بہت زیادہ دلکش بنتا جارہا ہے۔