مولانا کلیم صدیقی پر زبردستی مذہب تبدیل کروانے کا الزام بے بنیاد: مولانا ارشد مدنی

Source: S.O. News Service | Published on 24th September 2021, 12:06 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24؍ستمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) مولانا محترم کی گرفتاری پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مولانا کلیم صدیقی کی اتر پردیش اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتاری کی خبر ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں کے لئے باعث تسویش ہے۔ تبدیلی مذہب کے الزام میں مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کو جس طرح سے میڈیا پیش کر رہا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے معاملہ میں میڈیا کا جج بن جانا اور انہیں مجرم بنا کر پیش کرنا میڈیا کی جرنلزم کے پیشہ کے ساتھ بد دیانتی ہے۔

اس پورے معاملے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ میڈیا کے ٹرائل سے پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ نیز انصاف کی جدوجہد کرنے والوں پر عرصہ حیات تنگ ہو جاتا ہے۔ ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ مولانا کلیم صدیقی پر غیر قانونی طریقہ سے تبدیلی مذہب کرانے، غیر ممالک سے فنڈنگ حاصل کرنے جیسے کئی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جو سراسر بے بنیاد اورغلط ہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جا سکتا۔ عقیدہ جاننے کا نہیں بلکہ ماننے کا نام ہے، اس کا تعلق انسان کے دل سے ہے، جو کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔

مولانا ارشد مدنی نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ رہی بات فنڈنگ کی تو مولانا کلیم صدیقی نے ہریانہ اور پنچاب کے ان مختلف علاقوں میں جہاں مسلمان بہت کم ہیں اور دین سے بالکل ناواقف ہیں اور اپنے آپ کو صرف مسلمان سمجھتے ہیں ان جیسے لوگوں کو دین اسلام سکھلانے کے لیے مدارس قائم کر رکھے ہیں۔ وہاں مولانا کلیم مدارس پر پیسہ خرچ کرتے ہیں نہ کہ غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کے لیے۔ اور اگر زور زبردستی، یا لالچ دے کر مسلمان بنایا جا سکتا تھا تو خلیج اور خاص کر سعودی عرب میں پچاسوں لاکھ غیر مسلم کام کر رہے ہیں، ان کو مسلمان بنا دیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ اسلام جاننے کا نہیں بلکہ دل سے ماننے کا نام ہے۔

اخیر میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مولانا کلیم کی گرفتاری نے ایک بار پھر کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں، اور اس گرفتاری کو ہندو-مسلم منافرت کو فروغ دینے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ تمام انصاف پسند لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فرقہ پرستوں کی اس مذموم کوششوں کی بھرپور مخالفت کریں کیونکہ فرقہ پرستی ملک کے لئے انتہائی نقصاندہ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 نومبر سے شروع ہوسکتاہے

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس نومبر کے چوتھے ہفتے سے شروع ہونے کا امکان ہے۔ پارلیمانی ذرائع نے جمعہ کوبتایاہے کہ ایک ماہ طویل سرمائی سیشن نومبر کے چوتھے ہفتے سے COVID-19 پروٹوکول کے مطابق شروع ہونے کا امکان ہے۔

1971 کی جنگ انسانیت اور جمہوریت کے وقار کی حفاظت کے لیے لڑی گئی تھی: راج ناتھ سنگھ

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 1971 کی جنگ مین سیاسی اور عسکری قیادت اور تینوں افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو فتح کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے جمعرات کے روز کہا کہ یہ جنگ زمین پر یا وسائل پر حق جمانے کے لیے نہیں بلکہ ‘انسانیت’ اور ‘جمہوریت’ کے وقار کے تحفظ کے لیے لڑی گئی تھی۔