جنوبی افریقہ کےبلے باز اے بی ڈی ویلیئرس نے بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th May 2018, 12:28 PM | اسپورٹس |

نئی دہلی،23؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) جنوبی افریقہ کے 360 ڈگری بلے باز کے طور پر مشہور اے بی ڈی ویلیئرس نے بین الاقوامی کرکٹ سے اچانک ہی ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا ہے اور اس کی وجہ انہوں نے خود کا تھکا ہونا بتائی ہے۔ ڈی ویلیئرس آئی پی ایل۔ 11 میں رائل چیلنجرس بنگلورو کا حصہ تھے اور بنگلورو ٹیم کے پلے آف کی دوڑسے باہر ہوجانے کے چار دن بعد ہی 34 سالہ ڈی ویلیئرس نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعہ اپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔

ڈی ویلیئرس نے بدھ کو کہا کہ میں بہت تھک گیا ہوں۔ میں نے فوری طور پر سبھی طرح کی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 114 ٹیسٹ، 228 ون ڈے اور 78 ٹی۔20 بین الاقوامی میچ کھیلنے کے بعد میرے لئے ریٹائرمنٹ لینے کا وقت آگیا ہے تاکہ دوسرے کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع مل سکے۔ ایمانداری سے کہوں تو میں بہت تھک گیا ہوں۔

دنیا کے بہترین بلے بازوں میں شمار ڈی ویلیئرس نے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ میں نے اس بارے میں طویل غور و خوض کیا تھا کہ میں ٹاپ پر رہتے ہوئے ہی کھیل سے ریٹائرمنٹ لوں۔ ہندوستان اور آسٹریلیا کے خلاف شاندار سیریز جیتنے کے بعد میں اب محسوس کرنے لگا تھا کہ مجھے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دینا چاہیے۔

ڈی ویلیئرس نے کہا کہ میرے لئے ایسا فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ میں اپنے ملک کی ٹیم کے لئے فارمیٹ کا اپنے حساب سے انتخاب کروں۔ یا تو میرے لئے سب کچھ ہوگا یا کچھ نہیں ہوگا۔ میں کرکٹ جنوبی افریقہ کے کوچوں اور اسٹاف کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اتنے برسوں تک میرے ساتھ تعاون کیا۔ میں سب سے زیادہ اپنے ٹیم کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کے لئے میں اپنے کیریئر میں کھیلا۔ ان کے تعاون کے بغیر میں اس سطح پر نہیں پہنچ سکتا تھا۔

اپنے ریٹائرمنٹ کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی ویلیئرس نے کہا کہ یہ اس بات کو لیکر نہیں ہے کہ میں کہیں اور کمائی کروں گا۔ مجھے لگتا ہے کہ میری توانائی کھیل کے لئے ختم ہوچکی ہے اور میرے لئے ریٹائرمنٹ لینے کا یہ صحیح وقت ہے۔ ہر چیز کا خاتمہ ہوتا ہے۔ میں جنوبی افریقہ اور دنیا بھر میں کرکٹ شائقین کو ان کے حمایت کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

ڈی ویلیئرس نے ساتھ ہی کہا کہ میری غیر ممالک میں کھیلنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ میں گھریلو کرکٹ میں ٹائٹنس کے لئے دستیاب رہوں گا۔ میں فاف ڈو پلیسز اور جنوبی افریقہ کا سب سے بڑا حامی رہوں گا۔

34سالہ ابراہم بینجامن ڈی ویلیئرس نے اپنے بہترین کریئر میں 114 ٹسٹ میچوں میں 50.66 کے اوسط سے 8765 رن بنائے جن میں 22 سنچریاں اور 46 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ڈی ویلیئرس کو موجودہ وقت میں ہندوستان کے وراٹ کوہلی اور نیوزی لینڈ کے کین ولیمسن کے ساتھ بہترین بلے باز مانا جاتا ہے۔ ان کا بہترین اسکور ناٹ آؤٹ 278 رن رہا۔

ڈی ویلیئرس بلے باز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاندار وکٹ کیپر بھی رہے جنہوں نے ٹسٹ میچوں میں 222 کیچ لئے اور پانچ اسٹمپ کئے۔ انہوں نے 228 ون ڈے میں 53.50 کے شاندار اوسط سے 9577 رن بنائے جن میں 25 سنچری اور 53 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ انہوں نے وکٹ کے پیچھے 176 کیچ لئے اور پانچ اسٹمپنگ کی۔

ٹونٹی۔ 20 بین الاقوامی میچوں میں ڈی ویلیئرس نے 78 مقابلوں میں 1672 رن بنانے کے علاوہ وکٹ کے پیچھے 65 کیچ اور سات اسٹمپ کئے۔ ڈی ویلیئرس نے اپنا ٹسٹ کریئر 17 دسمبر 2004 کو پورٹ الیزبیتھ میں انگلینڈ کے خلاف، ون ڈے کیریئر دو فروری 2005 کو بلوم فونٹین میں انگلینڈ کے خلاف اور ٹی۔20 کیریئر 24 فروری 2006 کو جوہانسبرگ میں آسٹریلیا کے خلاف شروع کیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی