کیرالہ میں ایمبولنس اور لاری کی ٹکر میں آٹھ افراد ہلاک

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th June 2019, 11:09 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

پلكڑ،10؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) کیرالہ میں پلكڑ ضلع کے تھاننسري میں اتوار کو ایمبولینس اور لاری کی ٹکر میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ پولس ذرائع نے بتایا کہ اس ایمبولینس میں کچھ زخمی اور سات لوگ تھے اور یہ پلكڑ کے ضلع اسپتال میں علاج کے لئے آ رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ایمبولینس میں جن زخمیوں کو لایا جا رہا تھا وہ نليامپتھي میں ایک گاڑی کے کھائی میں گرنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں کو علاج کے لئے پہلے کے ایس آر ٹی سی کی بس سے نےنمارا کے اسپتال میں لایا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے بہتر علاج کے لئے وہاں سے پلكڑ 'ریفر' کر دیا ۔اس کے بعد زخمیوں کو لے کر کچھ رشتہ دار ایمبولنس میں پلكڑ روانہ ہوئے۔

اسی دوران تھانسیري میں ایمبولنس مچھلی سے لدی لاری سے ٹکرا گئی جس کی وجہ سے ایمبولنس کے ڈرائیور سمیت آٹھ افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ پولیس کے مطابق مرنے والوں کی شناخت شبیر، نذیر، فواد، شفیع، عمر فاروق، سلیمان اور ایمبولینس ڈرائیور سدھیر کے طور پر ہوئی ہے جبکہ ایک شخص کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

نچلی عدالت نے چار ملزمین کو عمر قید اور ایک ملزم کو باعزت بری کیا، جمعیۃ علماء نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی:گلزاراعظمی

14 سالوں کے طویل انتظار کے بعدآج الہ آباد کی خصوصی عدالت نے رام جنم بھومی (ایودھیا دہشت گردانہ حملہ) معاملے میں اپنا فیصلہ سنایا اور پانچ میں سے ایک جانب جہاں چار ملزمین کو عمر قید کی سزا دی وہیں ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر ایک ملزم کو باعزت بری کردیا۔

علاج کے لئے منگلور جانے والے توجہ دیں: منگلورو اور اڈپی کے اسپتالوں میں کل 17جون کو او پی ڈی خدمات رہیں گی بند

 بھٹکل اور اطراف سے کافی لوگ  علاج معالجہ کے لئے پڑوسی ضلع اُڈپی اور مینگلور کے اسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں،  ان کے لئے  بری  خبر یہ ہے کہ کل  ڈاکٹروں کے احتجاج کے پیش نظر  مینگلور اور اُڈپی کے اسپتالوں میں باہری  مریضوں  کا علاج  نہیں ہوگا۔

آئی ایم اے معاملہ میں نرم رویہ اختیار کرنے کاسوال پیدا نہیں ہوتا: ضمیر احمد خان

آئی مانیٹری اڈوائزری (آئی ایم اے) نامی پونزی کمپنی کے دھوکہ دہی معاملہ میں نرم رویہ اختیار کئے جانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔اس پس منظر میں بی جے پی کی جانب سے عائد کئے جارہے الزامات بکواس ہیں۔