ایودھیا فیصلہ: اتر پردیش میں سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ ڈالنے والے 77 افراد گرفتار

Source: S.O. News Service | Published on 11th November 2019, 11:56 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

لکھنؤ،11/نومبر(ایس او نیوز/ایجنسی) ایودھیا معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ماحول بگاڑنے کے لیے کیے گئے قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں پورے اتر پردیش میں 77 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لکھنؤ پولس کے ذریعہ دیئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 34 معاملے درج کر لیے گئے ہیں اور 77 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 8275 پوسٹ میں سے تقریباً 4563 ایسی پوسٹ پر کارروائی کی گئی ہے جو قابل اعتراض تھے۔ یہ پوسٹ فیس بک، ٹوئٹر اور یو ٹیوب پر کیے گئے تھے۔

اتر پردیش کے پولس ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ نے پہلے ہی بتایا تھا کہ میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کی رپورٹوں پر نظر رکھنے کے لیے ریاست میں پہلی بار ایک ایمرجنسی آپریشن سنٹر (ای او سی) تشکیل دیا گیا۔

اسی درمیان پولس فورس نے شرپسندوں پر کنٹرول کرنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے جیسے احتیاطی قدم اٹھائے، ساتھ ہی حساس اور مصروف بازاروں میں گشتی کر کے سماج دشمن عناصر کو سخت پیغام بھی دیا۔

واضح رہے کہ ہفتہ کے روز ایودھیا معاملہ پر فیصلہ آنے سے پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سبھی خفیہ نظام کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ مل کر سیکورٹی انتظامات کو لے کر ایک تجزیاتی میٹنگ کی تھی۔ فیصلہ آنے کے بعد امت شاہ نے سبھی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے فون پر حالات کی جانکاری لی تھی۔ اس دوران پولس کی اسپیشل سیل کی ٹیم نے خاص طور پر سوشل میڈیا پر اپنی گہری نظر بنائے ہوئی تھی۔

اس درمیان مغربی بنگال، بہار اور کیرالہ جیسی کچھ ریاستوں پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت ان ریاستوں کی خفیہ ایجنسیوں کو خاص طور پر مدد دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے باقی حساس علاقوں میں پولس گشت جاری ہے اور سیکورٹی کافی سخت ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی حکومت کے تحت یونیورسٹیوں کے تمام امتحانات منسوخ

 دہلی حکومت نے کورونا وائرس (کووڈ- 19) کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہفتہ کے روز ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے ما تحت تمام ریاستی یونیورسٹیوں میں فی الحال ہونے والے سالانہ امتحان سمیت تمام امتحانات کو منسوخ کر دیا ہے۔

گزشتہ 100 سالوں میں کورونا سب سے گہرا صحت اور معاشی بحران: گورنر آر بی آئی

آر بی آئی (ریزرو بینک آف انڈیا) کے گورنر شکتی کانت داس نے ہفتہ کے روز کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے 100 سالوں میں سب سے خراب صحت اور معاشی بحران چل رہا ہے، جس کے سبب مینوفیکچرنگ اور نوکریوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

کورونا ہندوستان کو تباہ کرنے کے درپے، ریکارڈ 27 ہزار نئے کیسز درج، مزید 519 ہلاکتیں

  ہندوستان میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کورونا نے ہندوستان کو تباہ کرنے کا عزم کر لیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 27،114 نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں جو ایک دن میں متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے اور اسی عرصہ میں 519 افراد ...

ایمبولینس نے کورونا مریض سے 7 کلومیٹر کے لئے وصول کئے 8 ہزار روپئے، معاملہ درج

مہاراشٹر میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی صورت حال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ مریضوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ اسپتالوں میں بیڈ بھی کم پڑنے لگے ہیں۔ کورونا وبا کے اس بحران کی گھڑی میں بھی کچھ لوگ مریضوں کو لوٹنے سے باز نہیں آ رہے ہیں۔

اُڈپی میں کووڈ۔19 جانچ سنٹر قائم ، روزانہ 300 نمونوں کی جانچ ممکن

ساحلی کرناٹک کے اُڈپی شہر میں 45 لاکھ کی لاگت سے ہائی ٹیک مکمل ایئر کنڈیشنڈ کووڈ۔19 جانچ سنٹر قائم کردیا گیا ہے۔ اس لیب کیلئے ایک  مائکرو بیالوجسٹ اور 8 لیب ٹیکنیشن کا بھی تقرر کردیا گیا ہے۔ ان احباب نے بنگلورو کے نمہانس اسپتال میں تربیت حاصل کی ہے۔

گریجویٹ،پوسٹ گریجویٹ اورڈپلولہ کے سال آخرکے طلبہ کاامتحان ستمبرمیں ہوگا:اشوتھ نارائن

مہاماری کوروناوائرس کے پیش نظرطلبہ کومفادات کی حفاظت کی خاطرریاستی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیاہے۔ریاستی وزیربرائے اعلیٰ تعلیم ونائب وزیراعلیٰ ڈاکٹراشوتھ نارائن نے آج کہا کہ تعلیمی سال 2019-2020ء کے انجینئرنگ،گریجویٹ اورپوسٹ گریجویٹ سمیت ڈپلومہ میں زیرتعلیم انٹرمیڈیٹ سمسٹرکے ...

کیا بھٹکل میں کورونا کے معاملات قابو میں آگئے ؟ ضلع میں پھر آئے 33 پوزیٹیو

اللہ کا شکرہے کہ بھٹکل میں کورونا کے معاملات تھمتے نظر آرہے ہیں اور کورونا کے حالات قابو میں آنے کے امکانات نظر آرہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج جمعہ کو بھٹکل میں کورونا کا کوئی پوزیٹیو معاملہ سامنے نہیں آیا، اسی طرح کل جمعرات بھی بھٹکل میں صرف ایک معاملہ کورونا پوزیٹیو کا ...

بھٹکل سے میڈیکل ضروریات کے تحت اُڈپی یا مینگلور جانے اور واپس آنے میں کوئی روک نہیں ؛ اسسٹنٹ کمشنر کا بیان

میڈیکل ضروریات کے تحت کوئی اگر بھٹکل سے کنداپور یا مینگلور جاتا ہے اور واپس بھٹکل آتا ہے تو اس کے لئے کسی قسم کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے،ایسے لوگ صبح جاکر شام کو  واپس لوٹ سکتے ہیں، اس بات کی اطلاع بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر مسٹر بھرت نے دی۔