ایڈز سے اموات کی تعداد میں 55 فی صد کمی

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 2nd December 2019, 10:43 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن، یکم دسمبر(آئی این ایس انڈیا) چالیس سال سے زیادہ عرصہ قبل جب ایڈز پہلی بار شناخت ہوئی تھی تو اس وقت وہ گویا ایک سزائے موت تصور کی جاتی تھی۔ اس وقت سے اب تک یہ ایک شدید مگر ایک قابل علاج بیماری بن گئی ہے۔ یکم دسمبر ایڈز کا عالمی دن وہ سالانہ موقع ہے جب لوگوں کو یہ احساس دلانے میں مدد کی جاتی ہے کہ ایڈز ابھی تک ہمارے ساتھ ہے اور پیش رفت کے باوجود یہ وبا ختم نہیں ہوئی ہے۔ہر سال دنیا بھر میں کمیونٹیز ایڈز کا عالمی دن اس بیماری کے بارے میں آگاہی، ٹیسٹ کرانے اور اس سے بچاؤ کے پیغامات کے ساتھ مناتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے، آسان ترین طریقہ ہمیشہ کنڈوم کا استعمال ہے۔جب وزرائے صحت نے یکم دسمبر کو ایڈز کا عالمی دن قرار دیا تو انہیں معلوم ہوا کہ دوسری بیماریوں کے بر عکس، ایچ آئی وی وائرس جو ایڈز کا باعث بنتا ہے، عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے۔پال کواٹا جو شروع ہی سے ایڈز کے خلاف ایک سرگرم کارکن رہے ہیں، کہتے ہیں کہ میں شروع کے دنوں میں وہاں تھا۔ میں اس وقت وہاں تھا جب ہم دونوں کو اس کا مقابلہ کرنا تھا اور کام کرنا تھا اور ان بہت سے لوگوں کو سپرد خاک کرنا تھا جنہیں ہم پیار کرتے تھے۔ڈاکٹر انتھونی فاؤچی ایڈز کے خلاف لڑائی میں ابتدا سے شامل تھے۔ انہوں نے ایچ آئی وی کے علاج کی دوا تیار کرنے کے لیے کام کیا۔ یہ علاج اتنا موثر ہو گیا ہے کہ اگر کسی متاثرہ شخص کو روزانہ ایک گولی دے دی جائے تو یہ ناممکن ہے کہ وہ وائرس کسی دوسرے میں منتقل ہو سکے۔ ایک اور دوا، 'ٹروویڈا' جو ایڈز سے پاک کسی شخص کو اس بیماری سے بچاتی ہے۔ ڈاکٹر فاؤچی کہتے ہیں کہ ایڈز کو ختم کرنا ایک سادہ عمل ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ نے وہ دونوں کام کر لیے یعنی احتیاط اور علاج، اور جنہیں خطرہ لاحق ہے، وہ بچاؤ کی یہ دوا لے لیں، تو اگر آپ نے اس پر پوری طرح سے عمل کر لیا تو آپ اس وبا کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ان دواؤں کے استعمال سے ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں نمایاں طو ر پر کمی آچکی ہے۔ 2004 سے ایڈز سے منسلک اموات کی تعداد میں 55 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہو چکی ہے۔ لیکن، ایچ آئی وی کی بیماری کے شکار صرف لگ بھگ 60 فیصد لوگ دوا کا استعمال کرتے ہیں۔پال کواٹا کہتے ہیں کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ایچ آئی وی ایڈز کے ساتھ بہت سے امتیازی روئے اور بدنامی کے پہلو منسلک ہیں۔کواٹا این ایم اے سی کے لئے کام کرتے ہیں جو ایڈز سے مقابلے کے لیے صحت مند برابری اور نسلی انصاف کی وکالت کرنے والی ایک تنظیم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ وائرس ہر اس جگہ پھیلتا ہے جہاں لوگوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ کہ یہ وائرس نمایاں طور پر رنگدار لوگوں کو متاثر کرتا ہے، دوسری بات یہ کہ یہ نمایاں طور پر ہم جنس پرست مردوں کو متاثر کرتا ہے۔ تیسرا یہ کہ یہ نمایاں طور پر غریب لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔امریکہ میں ایڈز کے شکار افراد کی اکثریت غریب ہے۔ امریکہ سے باہر، ایچ آئی وی ایڈز کے شکار لوگوں کی اکثریت کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں میں رہتی ہے۔ ہر جگہ ٹین ایجرز خطرے میں رہتے ہیں۔ انہیں ٹیسٹنگ، ہیلتھ کئیر اور کونسلنگ تک بہت کم رسائی ہوتی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ فاؤچی کہتے ہیں کہ ہمیں دواؤں کے علاوہ کچھ اور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

جرمنی: سی ایس یو کی طرف سے پہلا مسلمان میئر اُمیدوار

اسلام اور جرمنی کی سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین کے مابین تعلقات کو ایک حساس اور مشکل موضوع تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب اسی جماعت نے میئر کی سیٹ کے لیے ایک 37 سالہ مسلمان امیدوار اوزان ایبش کا انتخاب کیا ہے۔ اس مسلمان امیدوار کا انتخاب میونخ کے شمال میں واقع قصبے 'نوئے فارن‘ کی سی ...

کولمبیا میں حکومت مخالف مظاہروں میں جھڑپیں 

کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کی شاہراہوں پر حکومت مخالف مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چار افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے تین پولیس اہلکار تھے۔ منگل کے روز بوگوٹا سٹی ہال میں 20 مظاہروں کی اطلاع دی گئی، جن میں سے بیشتر کو پر امن بتایا گیا۔

انڈونیشیا میں پل گرنے سے9 افراد دریا میں ڈوب کرہلاک؛ 17 کو بچالیا گیا

انڈونیشی جزیرے سماٹرا میں پیدل چلنے والے افراد کے لیے بنائے گئے پل کے گرنے سے نو افراد دریا میں ڈوب گئے ہیں۔ کسی حد تک کمزور پل دریا میں آنے والے زوردار سیلابی ریلے کو برداشت نہ کر سکا۔ اس سیلاب کی وجہ اتوار انیس جنوری کو ہونے والی زور دار بارش تھی۔

آسٹریلیا میں شدید ژالہ باری اور طوفان باد و باراں 

مختلف آسٹریلوی علاقوں کو آج زوردار طوفانِ باد و باراں کے ساتھ ساتھ شدید ژالہ باری کا سامنا رہا۔ انتہائی تیز ہوا، شدید بارش اور ژالہ باری نے لوگوں کو مالی نقصان پہنچایا ہے۔ کم از کم دو افراد ژالے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں اور انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔