کشمیر میں برفانی تودے گرنے کے واقعات میں 5 فوجی اہلکار سمیت 10 افراد جاں بحق

Source: S.O. News Service | Published on 14th January 2020, 9:25 PM | ملکی خبریں |

سری نگر،14/جنوری (ایس او نیوز/یو این آئی) وادی کشمیر میں برفانی تودے گرنے کے تین الگ الگ واقعات میں پانچ فوجی اہلکاروں سمیت کم از کم 10 افراد جاںبحق ہوگئے ہیں۔ برفانی تودے گرنے کے یہ واقعات وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے سونہ مرگ اور شمالی ضلع کپوارہ کے مژھل اور نوگام سیکٹروں میں پیش آئے ہیں۔

بتادیں کہ وادی کشمیر کے بالائی علاقوں میں اتوار اور پیر کو شدید برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں متعدد جگہوں پر برفانی تودے گرے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول کے مژھل سیکٹر میں منگل کے روز فوج کی ایک چوکی بھاری بھرکم برفانی تودے کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں چار فوجی اہلکار جاںبحق ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ برفانی تودہ گرنے کے اس واقعہ میں ایک فوجی اہلکار لاپتہ ہوگیا تھا جس کو بچا لیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اسی ضلع کے نوگام سیکٹر میں بھی بی ایس ایف کی ایک چوکی برفانی تودے کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار کی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر کچھ جگہوں پر بھی برفانی تودے گر آئے ہیں جہاں بچاؤ آپریشن جاری ہے۔

قبل ازیں ضلع گاندربل کے سونہ مرگ علاقہ میں منگل کو برفانی تودہ گرنے کے ایک ہلاکت خیز واقعہ میں پانچ افراد جاںبحق ہوئے۔ گزشتہ ہفتے جموں خطہ کے ضلع پونچھ میں ایل او سی پر برفانی تودہ گر آنے کے ایک واقعہ میں ایک آرمی پورٹر جاںبحق ہوا تھا جبکہ دیگر تین کو بچایا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ بھاری بھرکم برفانی تودے گر آنے کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کے ہلاک ہونے کے واقعات زیادہ تر سیاچن گلیشئر میں پیش آتے ہیں۔ سیاچن گلیشئر دنیا کا بلند ترین جنگی میدان ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان باعث متنازع معاملہ بنا ہوا ہے۔

سیاچن گلیشئر میں سال 2019 کے ماہ نومبر کی 18 اور 30 تاریخ کو برفانی تودے گر آنے کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے تھے جن میں 4 فوجی اہلکار اور 2 فوجی پورٹر ہلاک ہوئے تھے قبل ازیں سیاچن گلیشئر میں ہی سال 2016 کے ماہ اکتوبر کی 18 تاریخ کو ایک بھاری بھرکم برفانی تودے کے نیچے 10 فوجی اہلکار زندہ دفن ہوئے تھے۔

سال گزشتہ کے ماہ جنوری کی 3 تاریخ کو جموں کے ضلع پونچھ میں ایک فوجی پوسٹ برفانی تودے کی زد میں آئی تھی جس کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ سال 2018 کے ماہ فروری کی 2 تاریخ کو کپوارہ کے مژھل سیکٹر میں برفانی تودہ گرآنے کے نتیجے میں 3 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ ماہ جولائی کی 13 تاریخ کو بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں بھاری بھرکم برفانی تودے کی زد میں آکر 10 فوجی اہلکار جانبحق ہوئے تھے۔

سال 2017 کے ماہ جنوری کی 25 تاریخ کو بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر میں برفانی تودے گر آنے کے چار الگ الگ واقعات میں 20 فوجی اہلکار اور 4 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

یوم جمہوریہ کے موقع پر پس مرگ پدما وبھوشن ایوارڈ پانے والوں میں شامل ہیں اڈپی پیجاورمٹھ سوامی اور جارج فرنانڈیز

یوم جمہوریہ کے موقع پر مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو پدما بھوشن اور پدماوبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ امسال جن شخصیات کو پس مرگ پدماوبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس میں پیجاور مٹھ کے سوامی اور سابق مرکزی وزیر ...

شاہین باغ وہ انقلاب ہے جو اب تھمنے والا نہیں ... آز:ظفر آغا

شاہین باغ اب محض ایک پتہ نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس کا سلسلہ 1857 سے ملتا ہے۔ جی ہاں، 1857 میں جس طرح انگریزوں کے مظالم اور ناانصافی کے خلاف بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں ایک بغاوت پھوٹ پڑی تھی، ویسے ہی نریندر مودی کے خلاف شاہین باغ سے ایک بغاوت کا نقارہ بج اٹھا ہے اور ...

دہلی کے شاہین باغ میں لاکھوں مظاہرین نے منایا پورے جوش وخروش کے ساتھ یوم جمہوریہ؛ شہریت قانون کی سخت مخالفت

شہریت قانون کی مخالفت کرنے والے احتجاجیوں نے آج 26 جنوری کے موقع پر پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم جمہوریہ کی تقریب منائی اور لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں  شاہین باغ میں ہی ترنگا جھنڈا لہراتے ہوئے  ملک میں نئے انقلاب  کی جھلک دکھائی۔

شہریت قانون اور این آر سی ملک کے دلتوں، غریبوں اور پسماندہ طبقہ کے خلاف ہے؛ سیتامڑھی میں انسانی زنجیر کے ذریعے احتجاج

  سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اب شہروں سے نکل کر گاوں اور دیہاتوں میں بھی پھیل چکے ہیں اور ملک کے تقریبا ہر علاقوں سے بڑے پیمانے پر ریلیاں اور احتجاج کئے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں، اسی طرح ایک خبر بہار  کےضلع سیتامڑھی کے سونبر سا بلاک کے مہولیا ...

شہریت قانون کی مخالفت میں اب شیموگہ میں نظر آرہا ہے شاہین باغ ؛26 جنوری کی رات کو پبلک پارک میں عورتوں کا جم غفیر!

جیسے جیسے شہریت قانون کی مخالفت میں اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ اُتنی ہی تیزی کے ساتھ اُبھرتی نظر آرہی ہے، اب تازہ خبر ریاست کرناٹک کے شہر شموگہ سے سامنے آئی ہے جہاں 25 جنوری کی شام سے ہی  آر ایم نگر میں موجود پبلک پارک میں خواتین کی بھیڑ جمع ہونی شروع ...

جدوجہد کرنے والے نوجوان گاندھی جی کے عدم تشدد کے پیغام کو ہمیشہ یاد رکھیں: صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کا قوم کو پیغام

صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے جمہوریت کے لئے حکمراں اور اپوزیشن دونوں فریقوں کو اہم قرار دیتے ہوئے عوام خاص طورپر نوجوانوں کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے عدم تشددے کے منتر کو ہمیشہ یاد رکھنے کی تلقین کی۔