امریکہ: نسلی تعصب کے خلاف پر تشدد احتجاج، 45 افراد گرفتار

Source: S.O. News Service | Published on 27th July 2020, 8:14 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن،27؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) امریکہ کے متعدد شہروں میں ایک بار پھر نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔ تاہم اب احتجاج پر تشدد ہونے کے باعث پولیس نے گرفتاریاں بھی کی ہیں جب کہ کئی مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ میں مئی کے آخری ہفتے سے اس وقت سے احتجاج جاری ہے جب میناایپلس میں پولیس کی تحویل میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی موت ہوئی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ پورٹ لینڈ میں صورت حال پر قابو پانے کے لیے وفاقی سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کر چکی ہے۔ جس کے بعد مظاہرین مشتعل ہیں اور احتجاج میں مزید شدت آنا شروع ہو گئی ہے۔

مظاہرین اب نہ صرف نسلی امتیاز کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں بلکہ وہ وفاقی اداروں کے اہلکاروں کی تعیناتی کے خلاف بھی احتجاج کر رہے ہیں۔

ریاست واشنگٹن کے شہر سیٹل میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور فلیش بینگ کا استعمال کیا۔

ہفتے کی شب ہونے والے احتجاج پر تشدد شکل اختیار کر گئے اور کچھ مظاہرین نے املاک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا جب کہ ایک ٹرک کو آگ بھی لگائی گئی۔

احتجاج کے پر تشدد ہونے پر پولیس نے اسے فسادات قرار دیا جب کہ حکام نے 45 افراد کے گرفتار ہونے کی بھی تصدیق کی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فسادات میں ان کے 20 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ہفتے کی شب ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں نسلی تعصب کے خلاف 'بلیک لائیوز میٹر' کے احتجاج پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے اس وقعے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

ریاست کینٹکی کے شہر لوئی ویل میں مسلح افراد نے احتجاج کیا اور بریونا ٹیلر نامی سیاہ فام خاتون کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر انصاف کا مطالبہ کیا۔

رواں سال 13 مارچ کو ریاست کینٹکی میں مبینہ طور منشیات رکھنے کے شبہے میں پولیس اہلکار 26 سالہ سیاہ فام خاتون بریونا ٹیلر کے گھر میں داخل ہوئی تھی۔

پولیس کے بقول خاتون کے دوست نے پولیس پر فائرنگ کی جب کہ جوابی فائرنگ میں بریونا ٹیلر ہلاک ہوئیں۔ بریونا ٹیلر کو آٹھ گولیاں لگی تھیں۔ بعد ازاں ان کے اپارٹمنٹ سے کسی بھی قسم کی منشیات برآمد نہیں ہوئی تھی۔

بریونا ٹیلر کی ہلاکت پر سیاہ فام حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے اسے نسلی تعصب کا شاخسانہ قرار دیا تھا اور واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات کے لیے احتجاج شروع کر دیا تھا۔

ہفتے کو لوئی ویل میں مسلح احتجاج کرنے والی سیاہ فام افراد کی ملیشیا این ایف اے سی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وہ بریونا ٹیلر کی ہلاکت کے معاملے میں شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس معاملے پر ایک پولیس اہلکار کو نوکری سے برخاست کیا جا چکا ہے تاہم دیگر پولیس افسران پر کسی قسم کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔

لوئی ویل میں ہونے والے مسلح احتجاج کے حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں تین افراد اس وقت زخمی ہوئے جب ملیشیا میں شامل ایک شخص کا ہتھیار غلطی سے چل گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

سری لنکا: عام انتخابات میں مہندا راج پکشے کی جماعت فتح یاب

سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجپکشے کی زیرقیادت سری لنکا پڈوجانا پیرامونا (ایس ایل پی پی) نے پارلیمانی انتخابات میں زبردست فتح حاصل کی۔ ملک میں 225 نشستوں کے لئے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ایس ایل پی پی نے 145 نشستوں پر جیت درج کرکے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے۔

لبنان: تین روزہ قومی سوگ کا آغاز، عالمی امداد بھی جاری

لبنان میں جہاں ایک طرف زبردست دھماکے کی وجوہات کی تفتیش جاری ہے وہیں جمعرات سے تین روزہ قومی سوگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ بیروت میں ہونے والے دھماکے میں 135 افراد ہلاک ہوئے تھے۔لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کے روز ہونے والے بم دھماکے سلسلے میں حکومت نے جس تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ...

عالمی ادارہ صحت نے کہا؛ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے سے بڑھ رہے ہیں کورونا کے معاملات، نوجوان مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ نوجوانوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر سے لے کر جولائی کے وسط تک، کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 60 لاکھ ...

جاپانی ماہرین کا کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لئے سوپر کمپیوٹر کے استعمال کا اعلان

کورونا وائرس کی روکتھام کے اقدامات سے متعلق جاپان کے انچارج وزیر نیشی مورا یاسوتوشی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت، مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے، انفیکشنز پر قابو پانے کے نئے موثر اقدامات دریافت کرنے میں، رواں ماہ کے آخر تک کامیاب ہو جائے گی۔ جاپانی ...