بہار پر کورونا وائرس سے زیادہ آسمانی بجلی کا قہر، ایک ہفتہ میں 125 سے زائد ہلاکتیں

Source: S.O. News Service | Published on 3rd July 2020, 11:06 PM | ملکی خبریں |

پٹنہ،3؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار میں اب تک جتنے لوگوں کی موت کورونا وبا سے نہیں ہوئی ہے، اس سے زیادہ اموات گزشتہ ایک ہفتہ میں آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے ہو گئی ہے۔ بہار میں گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران 125 سے زیادہ لوگوں کی موت آسمانی بجلی کی زد میں آنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ جمعرات کو ایک بار پھر بہار میں آسمانی بجلی گرنے کا واقعہ سرزد ہوا جس میں 26 لوگوں کی موت ہو گئی۔

بہار کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ مختلف ضلعوں سے فون پر ملی خبر کے مطابق ریاست میں جمعرات کو آسمان سے بجلی گرنے سے 26 لوگوں کی موت ہو گئی۔ ان میں پٹنہ میں 6، مشرقی چمپارن میں 4، سمستی پور میں 7، کٹیہار میں 3، شیوہر اور مدھے پورہ میں 2-2 اور پورنیہ و مغربی چمپارن ضلع میں 1-1 افراد کی موت آسمانی بجلی کی زد میں آنے سے ہو گئی۔

اس درمیان محکمہ موسمیات نے اگلے 48 گھنٹے میں بہار میں زبردست بارش اور بجلی چمکنے کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے منگل کو بہار کے مختلف اضلاع میں آسمانی بجلی گرنے سے 11 لوگوں کی موت ہو گئی تھی جب کہ 26 جون کو ریاست میں اسی طرح کے حادثہ میں 96 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ بہار میں کورونا وبا کی وجہ سے اتنی اموات نہیں ہوئیں جتنی کہ آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے محض ایک ہفتے میں ہو گئی ہیں۔ جہاں تک کورونا کے قہر کا سوال ہے تو بہار میں اب تک 10 ہزار سے زائد لوگ اس وائرس کے انفیکشن میں اب تک مبتلا پائے گئے ہیں جن میں سے 78 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اس سے صاف ہے کہ کورونا جیسی کسی وبا سے زیادہ بہار کے لوگوں کے لیے غریبی اور خط افلاس کی زندگی خطرناک ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ آسمانی بجلی کا شکار زیادہ تر غریب اور بے گھر لوگ ہی ہوتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی حکومت سے کانگریس کے 4 سوال

زرعی قوانین کے خلاف کسانوں نے آج دہلی میں بڑے پیمانے پر ’ٹریکٹر پریڈ‘ نکالی، لیکن اس درمیان کچھ مقامات پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات سے کسانوں کی تحریک میں بدنما داغ بھی لگ گیا۔

اتر پردیش: دیوریا میں سماجوادی پارٹی کارکنان کو ’ٹریکٹر ریلی‘ نکالنے سے روکا گیا

تر پردیش کے دیوریا میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسان تحریک کی حمایت میں ٹریکٹر ریلی نکالنے والے سماجوادی پارٹی کارکنان کو پولس نے روک دیا۔ تحصیل اے ہیڈ کوارٹر میں سماجوادی پارٹی کارکنان ٹریکٹروں پر ترنگا لگا کر کسانوں کی حمایت میں ریلی نکال رہے تھے، لیکن ضلع انتظامیہ نے مستعدی ...

یوم جمہوریہ پر’جمہوریت‘ کی فکر ضروری: مایاوتی

کسان تحریک کا براہ راست ذکر کیے بغیر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے کہا کہ یوم جمہوریہ کو محض رسم ادائیگی کے بطور منانے کے بجائے غریب، کمزور، کسان اور محنت کش افراد کی زندگی اور ان کے گذر بسر کا جائزہ لینا چاہیے۔

کسانوں نے لال قلعہ پر اپنا جھنڈا لہرایا

کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران مکربا چوک، ٹرانسپورٹ نگر، آئی ٹی او اوراکشردھام سمیت دیگرمقامات پر ہوئے تصادم کے درمیان کسانوں کا ایک جتھا لال قلعہ احاطے میں پہنچ کر کسانوں کا جھنڈا لہرادیا ہے۔

تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں:راہل گاندھی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے یوم جمہوریہ کے موقع پر قومی دارالحکومت دہلی میں کسان تحریک کے دوران ہوئے تشدد کے درمیان زراعت سے متعلق تینوں قانونوں کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور اس سے نقصان ملک کا ہی ہوتا ہے۔