پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں زبردست برفباری؛ 22 لوگوں کی موت؛ گاڑیوں میں بیٹھے بیٹھے سیاحوں نے توڑا دم

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th January 2022, 12:49 AM | عالمی خبریں |

راولپنڈی 8 جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے پہاڑی علاقے مری میں ہوئی زبردست برفباری کے دوران راستے میں ہی پھنس کر کم از کم 22 افراد کی موت واقع ہوگئی۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق تفریحی مقام  مری میں شدید برفباری اور رش میں پھنس کر 22 افراد کی ہلاکت کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ برفباری میں پھنسے افراد کی آوازیں انتظامیہ تک تو پہنچ گئیں، لیکن انتظامیہ متاثرہ افراد تک نہیں پہنچ سکی جس کے نتیجے میں لوگ 20 گھنٹوں تک آسمان سے گرتی برف میں پھنس کر رہ گئے، ان کی گاڑیاں برف میں دھنس گئيں۔

گاڑیوں میں ہی پناہ لینے پر مجبور بے بس افراد کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ گاڑی بند کرکے حکومتی امداد کا انتظار کریں ، اسی انتظار میں گاڑیوں کے اندر ہی موت ان تک پہنچ گئیں، لیکن ان کی مدد کے لئے انتظامیہ نہیں پہنچ سکیں۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق اس واقعے کے بعد جہاں ایک طرف حکومت کی جانب سے سیاحوں کی بڑی تعداد کو سانحے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے تو وہیں اپوزیشن اس سانحے کو حکومت اور انتظامیہ کی نااہلی قرار دے رہی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے 5 جنوری کو جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا تھا کہ مری میں 6جنوری سے 9 جنوری تک شدید برف باری متوقع ہے۔ تاہم اس کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد کے مری پہنچنے اور انتظامیہ کی طرف سے انہیں داخلی پوائنٹس پر نہ روکنے کو لے کر سوشل میڈیا پرسوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ 

تازہ اطلاعات کے مطابق مری میں شدید برف باری کے باعث پھنسے سیاحوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے پاکستانی آرمی، ایئرفورس، پنجاب پولیس اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ پتہ چلا ہے کہ  مری اور ملحقہ علاقوں میں شدید برف باری کی وجہ سے پھنسے سیاحوں میں سے شدید سردی اور دم گھٹنے سے ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں۔

ریسکیو ٹیم کے اراکین کے مطابق تمام پھنسی ہوئی گاڑیوں کو چیک کیا گیا ہے اور ان میں موجود سیاحوں کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ  روڈ پر موجود برف کو صاف کرنے کا کام بھی جاری ہے۔

میڈیا رپورٹوں میں راولپنڈی پولیس کےحوالے سے بتایا گیا ہے کہ مری کی 90 فیصد سڑکوں کو صاف کرالیا گیا ہے۔ گاڑیوں میں سے بچوں اور فیملیز کو نکال کر سرکاری گیسٹ ہاؤسز اورمحفوظ مقامات پرمنتقل کر دیا گیا ہے۔ راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق متعلقہ اداروں کے بروقت اقدامات کی وجہ سے امدادی کاروائیاں تیزی سے جاری ہیں اور صورتحال  بہتر ہو رہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

’تائیوان پر بڑے حملہ کی تیاری کر رہا چین‘، تائپے کے وزیر خارجہ کا دعویٰ

تائیوان کے وزیر خارجہ جوسیف وو نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ چین خود مختار جزیرہ پر زوردار حملہ کرنے کی تیاری میں ہے اور اسی کے لیے اس کے آس پاس بڑے پیمانے پر فوجی تربیت کر رہا ہے۔ آر ٹی کے مطابق جوسیف وو نے کہا کہ ’’چین نے تائیوان پر حملہ کی تیاری کے لیے تربیت اور اپنی فوجی پلے ...

بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی ایک بڑی تعداد امدادکی منتظر، ہزاروں بے یارو مددگار

پاکستان کے بلوچستان صوبہ میں سیلاب متاثرین کو اب تک امداد نہیں مل سکی ہے۔ اس دوران سیلاب سے زراعت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔  ہزاروں ایکڑ رقبہ پرمشتمل تیار فصلیں سیلابی ریلوں میں بہہ گئی ہیں جس سے دھنیا، ٹماٹر، کپاس  اور دیگر فصلیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ کوئٹہ کے علاقے ...

روہنگیا مسلمانوں کی میانمار واپسی، چین مدد کرے گا

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن نے اپنے چینی ہم منصب وانگ وائی کے ساتھ اتوار کے روز ڈھاکہ میں تبادلہ خیال کیا۔ بدھ مت اکثریتی ملک میانمار میں ظلم و جبر سے بچنے کے لیے دس لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان وہاں سے بھاگ کر بنگلہ دیش آگئے تھے۔ ان میں سے بیشتر روہنگیا سن 2017 میں آئے ...

کیوبا میں فیول اسٹوریج میں آتشزدگی، ایک افراد ہلاک، کم از کم 122 زخمی

کیوبا کے ماتنجاس بندرگاہ میں ایک ایندھن ذخیرہ سسٹم میں زبردست آگ لگنے سے ایک شخص کی موت ہو گئی ہے اور کم از کم 122 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ واقعہ آسمانی بجلی گرنے کے بعد پلانٹ میں ایک خام تیل کے ٹینک میں زبردست آگ لگنے سے پیش آیا۔ اس حادثہ کے بعد ملک پر زبردست بجلی ...

اسرائیل کا 41 فلسطینیوں کی شہادت اور جنگ بندی کے بعد زیادہ بڑے حملے کا انتباہ

اسرائیلی قابض فوج نے غزہ میں اتوار کے رات ساڑھے آٹھ بجے سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد خبردار کیا ہے کہ اسرائیل فوج غزہ زیادہ بڑا حملہ کرنے والی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے اس امکانی بڑے حملے کو وسیع دائرے میں غزہ کے عسکریت پسندوں پر حملے کا نام دیا ہے۔