’فانی طوفان‘ سے بنگلہ دیش میں 14 اموات‘ 63 افراد زخمی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th May 2019, 11:52 AM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

ڈھاکہ ، 5؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) بنگلہ دیش میں شدید طوفان ’فانی‘ کے سبب ہونے والی تباہی میں ہفتہ کو کم از کم 14 افراد فوت اور 63 دیگر زخمی ہوگئے۔ ایک روز قبل اس طوفان نے پڑوسی ہندوستان میں تباہی مچائی تھی۔ بنگلہ دیشی حکام نے کہا کہ زائد از 1.6 ملین افراد کو محفوظ تر مقامات کو منتقل کیا گیا جبکہ تقریباً 36 دیہات سیلاب کی زد میں آگئے اور ملک کے ساحلی علاقوں میں طوفان نے کئی پشتوں کو توڑ دیا ہے۔ ڈھاکہ ٹربیون نے رپورٹ دی کہ اموات کی اطلاعات آٹھ اضلاع سے موصول ہوئیں جن میں نواکھلی، بھولا اور لکشمی پور شامل ہیں جو سائیکلون سے بدترین متاثرہ مقامات ہیں۔ متوفیوں میں 2 سالہ لڑکا اور چار خواتین بھی شامل ہیں۔ اخبار کی اطلاع کے بموجب ضلع نواکھلی میں ایک نابالغ فوت ہوا اور اسی فیملی کے کئی دیگر ارکان زخمی ہوئے جب ان کا گھر طوفان کے دوران اُن پر گرپڑا۔ علاوہ ازیں، 30 دیہاتی بھی زخمی ہوئے۔ طوفان نے مجموعی طور پر سینکڑوں مکانات کو تباہ کیا ہے۔ ضلع لکشمی پور میں 70 سالہ انورہ بیگم طوفان کی سبب مکان گرنے سے فوت ہوگئیں۔ ہواؤں کے تیز جھکڑوں کے ساتھ آئے طوفان نے ملک کے ساحلی اضلاع کو شدید متاثر کیا اور کئی سو مکانات تباہ کئے۔ ’ڈیلی اسٹار‘ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے کئی حصوں میں آسمان بدستور ابرآلود ہے اور جمعہ سے ملک بھر میں بارش اور گرج و چمک کے بونداباندی نیز تیز ہوائیں جاری ہیں۔

طوفان شروع ہوتے ہی ملک کے کئی علاقوں سے برقی اور انٹرنٹ کنکشن میں خلل پیدا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مشکل موسمی حالات نے حکام کو ابھی تک متعدد پروازیں منسوخ کرنے اور بعض دیگر میں تاخیر کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سیلاب اور بارش سے کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر وغیرہ بے حال، اَب دہلی پر منڈلایا خطرہ

ہریانہ کے ہتھنی كنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریاکے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے انتہائی سنگین بتائے جا رہے ہیں۔