کرناٹک کے بعد گوا میں کانگریس کو بحران، اپوزیشن لیڈرسمیت 10 اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2019, 11:34 AM | ملکی خبریں |

پنجی،11؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) گوا کے 10 کانگریس اراکین اسمبلی نے بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ خبرہے کہ ان اراکین اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مل کرایک الگ گروپ بنایا ہے۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چندرکانت کاولیکر نے کہا کہ ان کی قیادت میں 10 اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی قیادت سے ناراض ہوکران 10 اراکین اسمبلی نے الگ گروپ بنالیا اوربی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔

گوا کانگریس کمیٹی کے صدرگریش چوڈانکرنے کہا ہے کہ بی جے پی نے اپنے اتحاد کے ساتھی اورہمارے خیمے کے 10 اراکین اسمبلی کو اپنے خیمے میں شامل کرکے اپنے عدم تحفظ کی مثال پیش کی ہے۔ وہ ون نیشن ون الیکشن نہیں بلکہ ون نیشن ون پارٹی کی کوشش کررہے ہیں۔

گوا کے وزیراعلیٰ نے کی تصدیق: گوا کے وزیراعلیٰ پرمود ساونت نے کہا کہ کانگریس کے 10 اراکین اسمبلی اپنے اپوزیشن لیڈرکے ساتھ بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بی جے پی میں شامل سبھی اراکین اسمبلی نے کوئی شرط نہیں رکھی ہے، وہ بلا شرط بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ حالانکہ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ جمعرات کوگوا میں کابینہ کی توسیع کا اعلان ہوسکتا ہے۔

دہلی آرہے ہیں اراکین اسمبلی: کانگریس چھوڑکر بی جے پی میں شامل ہونے والے گوا کے 10 اراکین اسمبلی بدھ کی رات ہی دہلی کے لئے روانہ ہوگئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اراکین اسمبلی یہاں بی جے پی کے کارگزارصدر جے پی نڈا اوروزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

کیا بولے گوا کے ڈپٹی اسپیکر: گوا کے ڈپٹی اسپیکرمائیکل لوبو نے بتایا کہ کانگریس کے 10 اراکین اسمبلی ایک الگ گروپ بناکربی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان اراکین اسمبلی نے آئین کے شیڈول 10 کے تحت بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈرچندرکانت کاویلکر خود بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ چندرکانت نے بی جے پی سے میٹنگ کے بعد میڈیا سے بتایا کہ ہم 10 لوگوں نے آج بی جے پی جوائن کرلی ہے۔ ہم نے ریاست کے وزیراعلیٰ کی جانب سے ریاست کے لئے کئے گئے اچھے کاموں کو نظرمیں رکھ کریہ قدم اٹھایا ہے۔ حالانکہ ہمارے علاقے میں ترقی کا یہ کام ابھی بھی رکا ہوا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔