نوجوان ووٹرس انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں: کے این رمیش ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے میں نوجوانوں نے سب سے زیادہ دلچسپی لی ہے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 11:26 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،16؍اپریل (ایس او  نیوز) اس بار کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں شہر میں نوجوان ووٹروں کے فیصلہ کُن کردار ادا کرنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔ کیونکہ ووٹرلسٹ میں نام اندراج کرنے میں نوجوانوں نے سب سے زیادہ دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ کرناٹک میں اس بار تقریباً 15.42 لاکھ نوجوانوں کے مقابلے بنگلورو کے 2.81 لاکھ نوجوانوں نے ووٹر لسٹ میں اپنے نام درج کرائے ہیں ۔ کرناٹک الیکشن کمیشن کے جوائنٹ چیف کمشنر کے این رمیش نے یہ بات بتائی ۔انہوں نے بتایا کہ اس بار نوجوان ووٹرس کے فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی ) کی حدود میں 28 اسمبلی حلقے ہیں ۔ ہر حلقہ میں 10 ہزار سے زائد ووٹرس پہلی بار اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ نہ صرف نوجوان بلکہ شہرمیں 10-15 ہزار اپارٹمنٹس ہیں جہاں دو لاکھ سے زائد ووٹرس رہائش پذیر ہیں ۔ لیکن وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے میں دلچپسی کا اظہار نہیں کرتے ۔ اگر وہ چاہیں تو سیلی کان سٹی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ بی بی ایم پی کمشنر این منجوناتھ پرساد کے مطابق اس بار خواتین ووٹروں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ ہر پارٹی کیلئے اپناہی ایک ووٹ بینک ہے ۔ نوجوان طبقہ اس ووٹ بینک میں شامل نہیں ہوگا کیونکہ نوجوان سیاست سے واقفیت نہیں ہوتے ۔ نوجوانوں کو ووٹنگ کی اہمیت کے مطابق بیداری لائی جارہی ہے اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ نوجوان ووٹرس اپنے حق رائے دہی کے استعمال میں فیصلہ کن کردار نبھائیں گے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف الیکشن کمیشن نوجوان طبقہ کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے پر زور دے رہا ہے تو دوسری طرف سیاسی پارٹیاں بھی نوجوانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ۔ سیاسی لیڈران کالجوں میں سب سے پہلے نوجوانوں کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ماہرین کاکہناہے کہ اس بار اسمبلی انتخابات گرمیوں کی چھٹیوں میں شروع ہورہے ہیں جس کے نتیجہ میں کئی افراد اپنے آبائی گاؤں چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں ان امیدواروں کے لئے نوجوان طبقہ کے ووٹ ہی اہم ہونگے اس لئے نوجوانوں کو کسی بھی قیمت میں اپنے حق رائے دہی کے استعمال سے محروم نہ رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس بار کے امیدواروں کا مستقبل نوجوان طبقہ کے ووٹ پر منحصر کرتا ہے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔