سعودی فورسز نے خمیس مشیط میں یمنی حوثیوں کا داغا بیلسٹک میزائل ناکارہ بنا دیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 1st December 2017, 8:39 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

ریاض یکم دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے جمعرات کے روز جنوب مغربی صوبے عسیر میں واقع جنوبی شہر خمیس مشیط کی جانب یمن سے آنے والا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا ہے۔یمن سے سعودی عرب کی جانب اس ماہ کے دوران میں یہ دوسرا بیلسٹک میزائل حملہ ہے۔اس سے پہلے سعودی فورسز نے 4 نومبر کو دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک ایک بیلسٹک میزائل ناکارہ بنا دیا تھا۔

عرب لیگ نے 19 نومبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں وزرائے خارجہ کے ایک غیر معمولی اجلاس میں کہا تھا کہ یمن میں مارچ 2015ء میں جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب کی جانب 78 بیلسٹک میزائل داغے جا چکے ہیں۔حوثی باغیوں نے قبل ازیں 10 اکتوبر کو سعودی عرب کے سرحدی علاقے جازان کی جانب زمین سے زمین پر مار کرنے والا ایک میزائل داغا تھا اور وہ ایک گاؤں الجرادیہ میں واقع ایک اسکول کی عمارت پر جا کر گرا تھا۔ اس سے اسکول کی عمارت اور بعض شہری املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

سعودی فورسز نے ستمبر میں حوثیوں کا خمیس مشیط کے ہوائی اڈے کی جانب چلایا گیا ایک اور بیلسٹک میزائل ناکارہ بنا دیا تھا اور یمن میں حوثیوں کی میزائل داغنے کی جگہ کو تباہ کردیا تھا۔حوثی جنگجو آئے دن ایرانی ساختہ بیلسٹک اور دوسرے میزائل سعودی علاقوں کی جانب داغتے رہتے ہیں۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حوثی سرحدی علاقوں میں اسکولوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن : حوثیوں کے لیے کام کرنے والے ایرانی جاسوس عرب اتحاد کے نشانے پر

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے تعز شہر کے مشرقی حصّے میں جاسوسی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس مرکز میں ایرانی ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں جو باغی حوثی ملیشیا کے لیے کام کرتے ہیں۔

شاہ سلمان اور صدر السیسی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے مصر کی سلامتی اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

کرد ملیشیا کی عفرین میں ترکی کے خلاف اسدی فوج سے معاہدے کی تردید

شام کے علاقے عفرین میں ترک فوج کا مقابلہ کرنے والی کردملیشیا ’کرد پروٹیکشن یونٹ‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کرد ملیشیا نے ترکی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسدی فوج کے ساتھ ساز باز کرلیا ہے۔