یمنی فوج نے الحدیدہ میں مزید کمک بھجوادی، سپلائی لائنوں کی سیکیورٹی سخت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th July 2018, 12:18 PM | عالمی خبریں |

صنعاء6جولائی (ایس اونیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) یمن کے عسکری ذرائع کے مطابق ساحلی شہر الحدیدہ میں باغیوں کے انخلاء کی پرامن کوششوں میں ناکامی کے بعد فوجی کارروائی کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کسی بھی مْمکنہ فوجی کارروائی کے لیے الحدیدہ میں سرکاری فوج کو تازہ دم دستے پہنچا دیے گئے ہیں جب کہ المخاء اور الحدیدہ کیدرمیان سپلائی لائنوں کی سیکیورٹی بھی مزید سخت کردی گئی ہے۔

یمن کے عسکری حکام کا کہنا ہے کہ مغربی ساحلی محاذ پر فوج کو نئے معرکے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ الحدیدہ شہراور بندرگاہ کو حوثی باغیوں سے چھڑانے کے لیے پْرامن کوششوں کی ناکامی کے بعد وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد حالات ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے بھی الحدیدہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے پیش نظر اسلحہ اور جنگجوؤں کو الحدیدہ پہنچانا شروع کردیا ہے۔

خیال رہے کہ تزویراتی اہمیت کے حامل یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ کو چھڑانے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی کی کوششوں کے بعد فوجی آپریشن روک دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مندوب یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان الحدیدہ کے حوالے سے بات چیت کررہے ہیں۔ شہر اور بندرگاہ سے باغیوں کو پرامن طریقے سے نکالنے کی پرامن مساعی میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

گولان پہاڑیوں کے قریب باغیوں کے ٹھکانوں پر شام کا قبضہ

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز نے ملک کے جنوب مغرب میں باغیوں کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے فوجی اہمیت کی ایک چوٹی تل الحارہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں سے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

افغانستان میں داعش نے 20 افراد اور طالبان نے 9 پولیس اہل کار ہلاک کر دیے

داعش کے ایک خودکش بمبار نے منگل کے روز شمالی افغانستان میں دھماکہ کر کے 20 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں ایک طالبان کمانڈر بھی شامل ہے۔ جب کہ جنوبی صوبے ہلمند میں ایک سرکاری کمانڈو یونٹ نے طالبان کی جیل سے 54 لوگوں کو آزاد کر ا دیا۔