یمن کے حالات ایرانی منصوبہ بکھر جانے کا ثبوت ہیں:پاکستان علماء کونسل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd December 2017, 7:38 PM | عالمی خبریں |

دبئی ،3دسمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) پاکستان علماء کونسل کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ یمن میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہمنوا فورسز اور ایران نواز حوثی ملیشیا کے درمیان جھڑپیں اس بات کا ثبوت ہے کہ یمن میں ایرانی منصوبہ پارہ پارہ ہو چکا ہے۔لاہور میں کونسل کے جنرل سکریٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ یمن کے معزّز عوام نے دہشت گرد فرقہ وارانہ ایرانی ملیشیا کے زیر کنٹرول رہنے سے انکار کر دیا۔ اشرفی کے مطابق یمن اس وقت ایک تاریخی مرحلے سے گزر رہا ہے جو دہشت گردی پر آئین اور قانون کی فتح کا عکّاس اور قتل ، دھماکوں اور ظلم و بربریت کے اختتام کی ابتدا ہے۔مولانا اشرفی نے یمن میں آئینی حکومت کے دفاع کے حوالے سے سعودی عرب کی کوششوں اور اس کی قیادت کے دانش مندانہ فیصلوں کو سراہا۔ انہوں نے مملکت کی جانب سے یمنی عوام کے لیے پیش کی جانے والی سیاسی ، اقتصادی اور انسانی سپورٹ کو خراج تحسین پیش کیا۔پاکستان علماء کونسل کے سربراہ کے مطابق حوثی ملیشیا ایران کے زیرِ حکم کام کرنے والی ایک دہشت گرد جماعت ہے جس کو ایران کی طرف سے مالی ، ہتھیار اور گولہ بارود کی سپورٹ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں باغیوں کی جانب سے آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے جاری لوٹ مار نے یمنی عوام سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی۔ اشرفی کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے سیاسی اور خمینی کی تعلیمات پر مبنی مذہبی مواقف یہ سب تہران سے درآمد کیے گئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کرد ملیشیا کی عفرین میں ترکی کے خلاف اسدی فوج سے معاہدے کی تردید

شام کے علاقے عفرین میں ترک فوج کا مقابلہ کرنے والی کردملیشیا ’کرد پروٹیکشن یونٹ‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کرد ملیشیا نے ترکی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسدی فوج کے ساتھ ساز باز کرلیا ہے۔