یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح حوثیوں کے حملہ میں مارے گئے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th December 2017, 12:16 PM | عالمی خبریں |

صنعا،4/دسمبر(ایجنسی)یمن کے صدر منصور ہادی نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی موت کے بعد یمن کے لوگوں سے ایران حمایت یافتہ جنگجوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسٹر ہادی نے سعودی عرب کےایک ٹی وی چینل پر دئیے گئے پیغام میں کہا کہ حوثیوں کے خلاف جنگ میں نیا باب شروع ہو گیا ہے۔

یمن کی خانہ جنگی میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی سڑک کےکنارے ہونے والے ایک حملے میں موت ہو گئی۔ حوثی فوجی ذرائع کے مطابق ان کے جنگجوؤں نے دارالحکومت صنعا کے باہر صالح کی مسلح گاڑی کو ایک آر پی جی راکٹ کی مدد سے روکا اور پھر اسے گولی مار دی۔ صالح کے حامیوں نے بھی قافلے پر حملے میں ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت سے متعلق اب تک مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے علی صالح اور ان کے قریبی ساتھیوں کو پہلے گرفتار کیا اور پھر نزدیک سے سر میں گولیاں مار کر انھیں ہلاک کردیا ہے۔ حوثیوں نے صنعاء میں ہفتے کی شب سے علی صالح ، ان کی وفادار فورسز اور ان کی پارٹی جنرل پیپلز کانگریس کے سرکردہ لیڈروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا تھا۔اسی روز سابق صدر نے حوثیوں کے ساتھ تین سال سے جاری اتحاد باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔اس کے بعد حوثی تحریک کے مسلح جنگجو شہر بھر میں پھیل گئے تھے۔ انھوں نے خفیہ کمین گاہوں میں چھپائے گئے ہلکے اور بھاری ہتھیار اٹھا لیے تھے اور علی صالح کے مکان ، ان کی جماعت کے ہیڈ کوارٹرز اور دوسرے لیڈروں کے مکانوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا ۔ وہ گذشتہ دو روز سے مسلسل چھاپہ مار کارروائیاں کررہے تھے اور انھوں نے ان کے مکانوں پر راکٹ اور گرینیڈز سے حملے شروع کردیے تھے۔ علی صالح نےپیر کے روز علی الصباح صنعاء کی شاہراہ ستین کے نزدیک ایک جگہ پر اپنے بااعتماد ساتھیوں اور پارٹی کے ارکان سے ملاقات کی تھی اور ان کے ساتھ صنعا سے چالیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع اپنے آبائی قصبے سنحان کی جانب جانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن حوثی جنگجوؤں نے ان کی گاڑیوں کا پیچھا کیا اور شہر سے باہر ایک ویران جگہ پر ان کے قافلے کا گھیر لیا ۔انھوں نے محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تو ان کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی جس میں ری پبلکن گارڈز کے متعدد محافظ اور جنرل پیپلز کانگریس کے کئی سرکردہ ارکان مارے گئے۔

اس کے بعد حوثی جنگجوؤں نے علی صالح ، ان کے قریبی معاونین اور ان کے بھتیجے طارق صالح کی گاڑیوں کا تعاقب جاری رکھا ۔ ذرائع کے مطابق حوثی جنگجو کم سے کم بیس فوجی گاڑیوں پر سوار تھے۔جنرل پیپلز کانگریس کے ایک رہنما علی البخیتی کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے ایک ماہر نشانہ باز نے علی عبداللہ صالح کے سر میں گولی ماری تھی جبکہ بعض دوسری رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سابق صدر اور ان کے متعدد قریبی ساتھیوں کو پکڑ لیا تھا اور پھر انھیں وہیں نزدیک سے گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا ۔ تاہم حوثی ملیشیا نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے علی صالح کے موٹر کیڈ پر حملہ کرکے انھیں گولیوں اور راکٹ گرینیڈز سے ہلاک کیا ہے۔حوثیوں نے انٹر نیٹ پر موبائل فون سے بنائی گئی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے ۔اس میں مسلح حوثیوں نے علی صالح کی لاش ایک کمبل میں لپیٹ رکھی ہے اور ان کے سر کے بائیں جانب گولی کا نشان نظر آرہا ہے۔ اس جھڑپ میں جنرل پیپلز کانگریس کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل یاسر العودی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ علی صالح کے بیٹے خالد مبینہ طور پر زخمی ہوگئے ہیں اور انھیں حوثیوں نے گرفتار کر لیا ہے۔ طارق صالح اور پیپلز کانگریس کے سیکریٹری جنرل عارف ذکا کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ وہ بھی سابق صدر کے ساتھ مارے گئے ہیں یا انھیں حوثیوں نے گرفتار کر لیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی