اپنی ہی حکومت کے خلاف یشونت سنہا کا دھرنا جاری، وزیراعلیٰ فڑنویس نے فون پربات کی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th December 2017, 10:05 PM | ملکی خبریں |

اکولا، 06؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کا اپنی ہی پارٹی کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔یشونت سنہا نے مہاراشٹر کے ودربھ علاقے میں کسانوں کے مطالبے کی حمایت میں دھرنا کررہے ہیں۔سنہا کا کہنا تھا کہ جب تک مطالبے پورے نہیں ہوجاتے اس وقت تک ان کا مظاہرہ جاری رہے گاحالانکہ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے ان سے فون پر بات کی۔کسانوں کے ایک مظاہرے کی قیادت کرنے کے دوران سنہا کو پیر کی شام کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔اس وقت وہ ودربھ کے کسانوں کے تئیں ریاستی حکومت کی ’بے حسی‘کے خلاف ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر مظاہرہ کر رہے تھے۔سابق مرکزی وزیر کا بی جے پی کے موجودہ قیادت سے تناؤ چل رہا ہے۔انہیں ضلع پولیس ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا اور بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ حالانکہ 80سالہ لیڈر نے وہاں سے جانے سے انکار کر دیا تھا اور پولیس میدان میں ہی دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔انہوں نے کہا تھا جب تک کسانوں کے تمام پورے نہیں کئے جاتے اس وقت تک وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے۔سنہا نے تب کہا تھا کہ حکومت کسانوں کے مسائل کے حل کے تئیں سنجیدہ نظر نہیں آتی ہے۔ایک اہلکار نے کہاکہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور یشونت سنہا نے بدھ کی صبح فون پر بات کی اور کسانوں کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا۔شیوسینا کے صدر ادھو ٹھاکرے نے ایک دن پہلے ہی سنہا سے فون پر بات کی تھی اور کسانوں کے مسائل پر بات چیت کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کوپاکستان جیسے بیانات دینے پربہارمیں نقصان ہوچکاہے:اسدالدین اویسی

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسڑاسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ گجرات کے انتخابی جلسوں میں جس طرح کی زبان وزیراعظم نریندر مودی استعمال کر رہے ہیں، اس پر ان کو کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔

’’بھگوا غنڈہ گردی ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ‘‘: آل انڈیا امامس کونسل

ہندوتواوادی اور فسطائی غنڈے نے پھر سے ملک کو شرمسار کر دیا۔ ایک نہتے اور بے قصور مزدور افراز الاسلام کو مزدوری دینے کے بہانے بلاکر پھاوڑے سے قتل کر دینا اور پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا کر جلا دینا ملک کے لیے ایک انتہائی شرمناک معاملہ ہے۔