معروف سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ انتقال کرگئے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th March 2018, 12:32 PM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

لندن 14مارچ ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )اسٹیفن ہاکنگ 21 سال کی عمر میں ایک انتہائی کم یاب اور مہلک بیماری 'موٹر نیورون' کا شکار ہونے کے بعد عمر بھر کے لیے معذور اور وہیل چیئر تک محدود ہوگئے تھے۔معروف برطانوی سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔ہاکنگ کے انتقال کا اعلان ان کے خاندان نے ایک بیان میں کیا ہے جس کے مطابق ان کا انتقال بدھ کو علی الصباح برطانیہ کے شہر کیمبرج میں واقع ان کی رہائش گاہ میں ہوا۔ہاکنگ نظریاتی طبیعات کے سب سے ماہر سائنس دان مانے جاتے تھے جن کے کائنات کے اسرار و رموز، وقت اور بلیک ہولز سے متعلق نظریات کو خاص و عام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ہاکنگ کو بین الاقوامی شہرت 1988ء میں منظرِ عام پر آنے والی ان کی کتاب 'اے بریف ہسٹری آف ٹائم' (وقت کی مختصر تاریخ) سے ملی تھی جس کا شمار ایسی مشکل ترین کتابوں میں ہوتا ہے جو اپنے موضوع کی پیچیدگی کے باوجود عوام میں مقبول ہوئیں۔اسٹیفن ہاکنگ کی اس کتاب نے ہی انہیں البرٹ آئن اسٹائن کے بعد نظریاتی طبیعات کی دنیا کا سب سے بڑا نام بنا دیا تھا۔ اس کتاب کی اب تک ایک کروڑ سے زائد جلدیں فروخت ہوچکی ہیں۔کیمبرج یونیورسٹی نے پروفیسر ہاکنگ کو ان کے مشہور مقالے "پراپرٹیز آف ایکسپنڈنگ یونیورسز' (مسلسل بڑھنے والی کائناتوں کی خصوصیات) پر 1966ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دی تھی۔اپنے اس مقالے میں اسٹیفن ہاکنگ نے کائنات کے آغاز اور اس کے مسلسل بڑھنے اور پھیلنے سے متعلق اپنا نظریہ پیش کیا تھا جو آج بھی مشہور ہے۔اسٹیفن ہاکنگ 21 سال کی عمر میں ایک انتہائی کم یاب اور مہلک بیماری 'موٹر نیورون' کا شکار ہونے کے بعد عمر بھر کے لیے معذور اور وہیل چیئر تک محدود ہوگئے تھے اور ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ وہ چند ماہ سے زیادہ نہیں جی پائیں گے۔تاہم اس کے باوجود وہ نہ صرف 50 سال سے زائد عرصہ اس بیماری کے ساتھ زندہ رہے بلکہ مسلسل تحقیقی کام بھی کرتے رہے۔ اس عرصے کے دوران ہاکنگ نے لاتعداد تحقیقی مقالہ جات اور کتابیں لکھیں اور بے شمار لیکچر دینے کے ساتھ ساتھ تقریبات سے خطاب بھی کیا۔اسٹیفن ہاکنگ اپنی بیماری کے باعث نہ صرف چلنے پھرنے بلکہ بولنے سے بھی معذور ہوگئے تھے اور وہ خصوصی طور پر تیار کیے گئے سافٹ ویئر اور مشین کے ذریعے لیکچر دیا اور گفتگو کیا کرتے تھے۔واضح ہو کہ موصولہ اطلاع کے مطابق ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کے متعلق تاحال کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

فتح تحریک کا حماس پر اسرائیل کے ساتھ سازباز کا الزام

فلسطینی تحریک ’فتح‘ نے ’حماس‘کی قیادت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ سازباز کی ہے اور وہ پناہ گزینوں کی واپسی کے حق سے دست بردار ہو گئی ہے۔ جمعے کی شام جاری ایک بیان میں فتح تحرتیک کا کہنا ہے کہ حماس تنظیم ٹرمپ انتظامیہ اور نیتین یاہو کی حکومت کو پیغامات بھیج رہی ...

اسلام مخالف اے ایف ڈی دوسری سب سے بڑی جماعت، جائزہ رپورٹ

ایک تازہ عوامی جائزے کے مطابق اسلام اور مہاجرین مخالف دائیں بازوں کی سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ یا اے ایف ڈی، جرمنی کی دوسری سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ اس جائزے کے مطابق حکومتی اتحاد اپنی حمایت کھو رہا ہے۔ جرمن براڈ کاسٹر ARD کی طرف سے کرائے جانے والے عوامی جائزے کے ...

رافیل معاملے میں فرانس کے سابق صدر نے کیا مودی کے جھوٹ کا پردہ فاش ’’حکومت ہند نے دیا تھا ریلائنس کا نام‘‘

رافیل جنگی طیارہ سودے کے تعلق سے حکومت اور اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس میں جاری جنگ کے بیچ فرانس کے سابق صدر فرانسوااولاند نے نیاانکشاف کرتے ہوئے کہاہے کہ ہندوستان کی طرف سے ہی سودے کے لئے انل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس انڈسٹریز کے نام کی تجویز پیش کی گئی تھی ۔

صحافیوں پر بڑھتے حملوں پرسخت تشویش؛ نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں تیس سے زائدتنظیموں کی شرکت

صحافت اور انسانی حقوق سے وابستہ 30سے زائد تنظیموں نے مودی حکومت کے دور اقتدار میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور ان کے قتل کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے جمہوریت اور اظہار کی آزادی کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔