چین میں پہلے مسافر بردار ڈرون کی کامیاب پرواز

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th February 2018, 12:30 PM | عالمی خبریں |

بیجنگ7فروری ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) چین نے وولو کوپٹر طرز کے ایک مسافر بردار ڈرون کی کامیاب آزمائش کی خبر دی ہے۔ اسے ای ہینگ 184 کا نام دیا گیا ہے جسے ہر موسم میں پرواز کے لیے موزوں قرار دیا جارہا ہے۔اگرچہ اسے کئی اہم بین الاقوامی نمائشوں میں پیش کیا جاتا رہا ہے لیکن اب اسے بنانے والی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ یہ ڈرون ایک وقت میں کئی مسافروں کو لے کر 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پرواز کرسکتا ہے۔ ثبوت کے طور پر کمپنی نے اس کی پہلی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ای ہینگ کا ڈھانچہ کاربن فائبر اور المونیم بھرتوں سے بنایا گیا ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک اس کی ہزاروں پروازیں کی جاچکی ہیں۔ ای ہینگ 184 ہر طرح کے موسم میں پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے اور مکمل طور پر خود کاربھی ہے۔ ڈرون کو اتنی تیز ہواؤں میں بھی آزمایا گیا ہے جو ساتویں زمرے کے طوفان میں پیدا ہوتی ہیں اور یوں یہ بارش اور تیز ہواؤں میں آسانی سے پرواز کرسکتا ہے۔کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا پہلا مکمل طور پر خود مختار مسافر بردار ڈرون ہے جس میں بیٹھ کر آپ ایک ڈسپلے پر اپنی منزل کا تعین کریں تو یہ ازخود وہاں روانہ ہوجاتا ہے۔ دھند ہو یا بہت گرمی یہ ہر قسم کی موسمی شدت جھیلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔کمپنی کے اعلیٰ افسران نے بھی اس ڈرون کی پرواز کا تجربہ کیا ہے۔ اس کی تمام موٹریں ایندھن کے بجائے بجلی کے چارج سے گھومتی ہیں۔ ایک گھنٹہ چارجنگ پر یہ 25 منٹ تک پرواز کرسکتا ہے۔ یوٹیوب پر جاری ایک ویڈیو میں ای ہینگ کے سی ای او ہوزی ہو اور گوانگ زو کے نائب میئر وینگ ڈونگ کو بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس پر قریباً 9 کلومیٹر طویل پرواز بھی کی گئی ہے جبکہ اس کی اونچائی صرف 1000 فٹ تھی۔ کمپنی نے بتایا کہ ان کے نزدیک مسافر کی سلامتی سب سے اہم ہے اور اسی لحاظ سے ڈرون کا ڈیزائن بہتر سے بہتر بنایا جارہا ہے۔واضح رہے کہ یہی کمپنی دبئی ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور امریکی ریاست نیواڈا سے بھی رابطے میں ہے اور ان کیلیے مسافر ڈرون تیار کرے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

ایران میں رواں سال تین کم سن بچوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا:یو این

ایران میں کم عمر افراد کو سزائے موت دیے جانے اور ان سزاؤں پر عمل درآمد میں ماضی کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال 2018 کے پہلے ڈیرھ ماہ میں ایران میں تین کم عمر افراد کو پھانسی دے کر موت سے ہم کنار کردیا گیا۔