حرم مکی میں نارنجی جیکٹوں والی خادمائیں کون ہیں؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th September 2017, 7:48 PM | خلیجی خبریں |

مکہ مکرمہ،5ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایام حج میں جہاں سعودی عرب کی حکومت اور مملکت کی پوری ریاستی مشینری اللہ کے مہمانوں کی خدمت گذاری میں سرگرم ہوتی ہے وہیں غیر سطح پر بھی کئی تنظیمیں، کمیٹیاں اور گروپ حجاج کی خدمت کی سعادت حاصل کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ فریضہ حج کی ادائی کے لیے حرم مکی میں آنے والے حجاج کرام بالخصوص خواتین کی خدمت پر مامور دیگر اداروں میں نارنجی رنگ کی جیکٹوں والی با پردہ خواتین رضا کار بھی پیش پیش رہتی ہیں۔ یہ نوجوان خادمائیں حجاج کرام کو ضرورت کے مطابق بنیادی طبی سہولت مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دوسری خدمات بھی انجام دیتی ہیں۔ اس بار ملک بھر سے منتخب 500نوجوان خواتین رضاکاروں کو حجاج کرام کی خدمت کا موقع دیا گیا۔ 150یا اس سے زاید کی تعداد میں یہ خواتین رضاکار حرم مکی کے 10مقامات پر تعینات رہی ہیں۔

مکہ مکرمہ میں ہلال احمر کی خواتین رضار کمیٹی کی ترجمان مشاعل الشمرانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری رضا کار ٹیم حجاج کو طبی سہولت مہیا کرنے اور حجاج میں آگہی اور شعور کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ نزلہ زکام، بخار، شوگر اور فشار خوان کی کمی بیشی کے شکار افراد اور دمہ کے مریضوں کو موقع پر طبی امداد مہیا کرنا نارنجی جیکٹوں والی رضاکاروں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

الشمرانی نے بتایا کہ ہرخاتون رضا کار حج کیایام میں 10گھنٹے روزانہ کی بنیاد پر مفت خدمت انجام دیتی ہے۔ ان کے لیے حرم مکی میں مطاف، مسعی اور مسجد کی تمام منازل میں 10جگہیں مختص کی گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رضار خواتین ٹیم میں عربی اور انگریزی زبانوں کی ماہر خواتین کے ساتھ چھ غیرملکی زبانوں کی ماہر شامل ہوتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر پچھلے 14سال اس خدمت کا تجربہ رکھتی ہیں۔ ان میں 98فی صد خواتین طب کے شعبے سے وابستہ ہوتی ہیں اور مریضوں کو ہنگامی حالت میں ڈیل کرنے میں انہیں خصوصی مہارت فراہم کی جاتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔