ہندوستان میں عام ہے خواتین کا والدین کیلئے اپنی محبت کو قربان کرنا:سپریم کورٹ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th June 2017, 11:22 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،18؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ کے ایک تبصرہ میں ناکام محبت کی کہانیوں کا بے حدحیرت ناک بیان ملا ہے، جس میں عدالت نے کہا ہے کہ ہندوستان میں والدین کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے خواتین کا اپنے رشتوں کی قربانی دینا ایک عام رجحان ہے۔عدالت عظمی نے ایک شخص کی عمر قید کی سزا کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں یہ تبصرہ کیا۔شخص نے ایک خاتون سے خاموشی سے شادی کی اور اس کے فورا بعد دونوں نے خودکشی کر لی جس میں شخص زندہ بچ گیا جبکہ 23سالہ متاثرہ کو بچایا نہیں جا سکا۔بہرحال، سال 1995کے اس واقعہ میں پولیس نے شخص کے خلاف متاثرہ کے قتل کا مقدمہ درج کیا۔عدالت عظمی نے اس کا ذکر کیا کہ ہو سکتا ہے خاتون اپنے والدین کی خواہش کو ماننے کے لیے راضی ہو گئی ہو، لیکن جائے واوقعہ پر پھول مالا، چوڑیاں اور سندور دیکھا۔ان مناظر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعد میں اس کا دل تبدیل کر دیا۔جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن کی ایک بنچ نے کہاکہ اپنی محبت کو قربان کر کے یہاں تک کہ اگر ہچکچاہٹ میں ہی اپنے والدین کے فیصلے کو قبول کرنے کے لئے لڑکی کی جانب سے جس طرح کاعمل سامنے آیا، وہ اس ملک میں عام رجحان ہے۔عدالت نے کہا کہ متاثرہ اور ملزم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور لڑکی کے باپ نے عدالت کے سامنے یہ گواہی دی تھی کہ ذات الگ ہونے کی وجہ سے ان کے خاندان نے اس شادی کے لیے رضامندی نہیں دی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

ولکاتہ برمن اغواء معاملہ عمرقید کی سزاؤں کے خلاف کولکاتہ ہائی کورٹ میں اپیل داخل اپیل سماعت کے لئے منظور ہونے کے بعد ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں داخل کی جائیں گی: گلزار اعظمی

۲۳؍جولائی ۲۰۰۱ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ کی مشہور جوتے کی کمپنی کے مالک روئے برمن کو اغواء کرنے والے معاملے میں نچلی عدالت سے ملزمین کو ملی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف جمعیۃ علماء کے توسط سے کولکاتہ ہائی کورٹ میں نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کردی گئیں

کولکاتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال پنچایت الیکشن کے لیے ازسر نو تاریخوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا

مغربی بنگال پنچایت الیکشن میں کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے گذشتہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ الیکشن کے لئے نامزدگی اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ریاست کے اتفاق رائے سے کرے۔

انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات) کیا واقعی بہت سارے گواہوں کی ضرورت ہے ؟ سپریم کورٹ کا استغاثہ سے سوال

انڈین مجاہدین (گجرات ) مقدمہ میں ماخوذ گذشتہ ۹؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقیددو مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے گذشتہ دنوں سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے استغاثہ سے سوال کیا کہ آیاواقعی انہیں ہزاروں گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ؟