مینگلور میں زچگی کے بعد خاتون کی موت۔ لاش کی آخری رسومات کے لئے مائیکے اور سسرال میں تنازعہ۔ پولیس کی مداخلت سے مسئلہ ہوا حل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 31st August 2018, 7:46 PM | ساحلی خبریں |

منگلورو31؍اگست ( ایس او نیوز) لیڈی گوشن اسپتال میں آپریشن سے زچگی کے بعد مزید علاج کے لئے وینلاک اسپتال میں داخل کی گئی خاتون دپیکا اچاریہ کی موت نے مائیکے اور سسرال میں اس وقت ایک تنازعہ کھڑا کردیا جب لاش کو اسپتال سے اپنی تحویل میں لینے کا موقع آیا۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق دپیکا کے شوہرپرکاش اچاریہ اور اس کے گھر والوں نے لاش کو آخری رسومات ادا کرنے کے لئے مائیکے والوں کے حوالے کرنے کے لئے یہ شرط رکھی کہ جب تک اس کے جسم پر موجودزیورات انہیں واپس لوٹائے نہیں جاتے تب تک وہ لاش کو تحویل میں لینے کے کاغذات پر دستخط نہیں کرے گا۔یا پھر سسرال والے ہی آخری رسومات انجام دیں گے۔ اور اپنی شرط منوانے کے لئے پرکاش اچانک لاپتہ ہوگیا۔

کہاجاتا ہے کہ ساڑھے سات مہینے کی حاملہ دپیکا خصوصی رسم ادا کرنے کے بعد 23اگست کو زچگی کے لئے موڈبیدری میں واقع اپنے ماں باپ کے گھر آئی تھی۔ پھر اچانک حمل سے متعلقہ مسئلہ پیداہوجانے پر 25اگست کوموڈبیدری کے ایک نجی اسپتال میں اسے داخل کیا گیا۔ وہاں سے اسی دن اس کو لیڈی گوشن اسپتال میں منتقل کیا گیاجہاں اس کی حالت دیکھتے ہوئے سیزیرین آپریشن کے ذریعے ایک مرد بچے کی ڈیلیوری کی گئی، اور مزید علاج کے لئے دیپکا کو وینلاک اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ 28اگست کو وینلاک اسپتال میں ہی دیپکا کی موت واقع ہوگئی۔اس کے ساتھ ہی مائیکے اور سسرال والوں کے بیچ تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ دونوں طرف کے حامی اسپتال میں جمع ہوگئے اور زبردست تکرار شروع ہوگئی۔

پانڈیشور پولیس کو جب اس واقعے کا علم ہواتو اس نے اسپتال پہنچ کرسب سے پہلے وہاں پر موجود ہجوم کو منتشر کیا ۔پھر دونوں خاندانوں کے کچھ ذمہ داروں کو پولیس اسٹیشن لے جاکر سمجھانے بجھانے کا کام کیا۔پانڈیشور پولیس انسپکٹر سائی ناتھ نے بتایا کہ اس مسئلے کو باہمی گفت و شنید سے حل کرلیاگیا اور اس کے بعد29اگست کی شام کو دپیکا کی لاش آخری رسومات کے لئے اس کے سسرال والوں کے حوالے کی گئی۔

دیپکا کے گھر والوں نے بتایا ہے کہ دپیکا نے جس بچے کو جنم دیاتھا وہ فی الحال اسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ اور دپیکا کے شوہر نے بچے کو اپنی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کینرا کے ڈی سی نے سمندری لہروں پر تقسیم کیں نوجوان ووٹروں کو پرچیاں

ضلع شمالی کینرا کی انتظامیہ کی طرف سے ووٹروں میں پولنگ کی اہمیت کا شعور بیدار کرنے کے لئے پچھلے چند مہینوں سے بہت سارے طریقے اپنائے گئے۔تازہ ترین اقدام کے طور پر ضلع ڈی سی ڈاکٹر ہریش کمار نے پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے نوجوان ووٹروں کو اسکوبا ڈائیونگ کا موقع فراہم کرتے ہوئے ...

اُترکنڑا لوک سبھا انتخابات؛ دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لئے تشہیری مہم کا اختتام۔ اننت کمارہیگڈے نے مسلمانوں کے خلاف کہیں بھی زہر نہیں اُگلا

پارلیمانی انتخابا ت کے دوسرے مرحلے کی پولنگ سے پہلے امیدواروں کی طرف سے عوامی تشہیر کے لئے اتوار کی شام تک موقع تھا۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے سابق وزیراعظم دیوے گوڈا سمیت کئی قد آور سیاسی لیڈروں نے ضلع شمالی کینرا کا دورہ کیا اور ووٹروں سے اپنے امیدوار کے لئے ووٹ طلب ...

ضلع شمالی کینرا میں انتخابی ذمہ داری اداکرنے میں مصروف پولیس عملے کو ڈرائی فروٹ کِٹ کا تحفہ 

کل ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے پورے ضلع میں  جتنے بھی پولس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، اُنہیں ضلع کے سپرنٹنڈینٹ  آف پولس کی طرف سے  پہلی بار  ڈرائی فروٹ کے کٹس فراہم کئے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ  پارلیمانی انتخابات کو پرامن طریقے پر انجام دینے کے لئے تین ہزارسے ...

بھٹکل اسمبلی حلقے میں پرامن پولنگ کے لئے پولیس کے انتظامات؛ کاروار ایس پی نے دی ضروری ہدایات

پارلیمانی انتخابات کے لئے بھٹکل اسمبلی حلقے میں پرامن پولنگ کے لئے پولیس نے خصوصی بندوبست اور انتظامات کیے ہیں۔ جس کاجائزہ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ونائیک پاٹل کی موجودگی میں لیا گیا۔

اُترکنڑا میں کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کی کارکو 13 جگہوں پر روک کر تلاشی لینے کے بعد اب سابق وزیراعظم کے ہیلی کاپٹرکی بھی لی گئی تلاشی

3/اپریل کو کرناٹک کے وزیراعلیٰ کماراسوامی کی کار کو قریب 13 جگہوں پر روک کر تلاشی لینے کی کاروائی کے بعد اب اُن کے والد  اور ملک کے سابق وزیراعظم  ایچ ڈی دیوے گوڈا صاحب  کے   ہیلی کاپٹر کی تلاشی لینے کی بات سامنے آئی ہے، جس پر سیاسی لیڈران  مرکزی حکومت  پر یکطرفہ کاروائی کرنے ...

لوک سبھا انتخابات؛ بھٹکل میں سبھی پولنگ بوتھوں کے اطراف امتناعی احکامات نافذ؛ ہوٹلوں پر ہوگی نگاہ، انتخابی پرچار پر پابندی

اپریل 23 کو ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر  بھٹکل ودھان سبھا حلقہ کے 248 پولنگ بوتھوں کے اطراف  پروٹوکول کے تحت انتخابات شروع ہونے کے 48 گھنٹے پہلے سے ہی امتناعی احکامات نافذ کردئے  گئے ہیں۔ جس کے تحت پولنگ بوتھ کے اطراف چار سے زائد لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی رہے گی اس بات ...