بلگاوی میں ریاستی اسمبلی کا ہنگامہ خیز سرمائی سیشن اپوزیشن پارٹیاں مختلف امور پر کانگریس حکومت کو گھیرنے کی کوشش کریں گی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th November 2017, 11:08 AM | ریاستی خبریں |

بلگاوی، 12/نومبر(ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی کا سرمائی اجلاس پیر سے بلگاوی میں شروع ہورہا ہے جو ہنگامہ خیز ہوگا ۔اس سیشن میں برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان لفظی جھڑپ کا امکان بھی ہے کیونکہ اپوزیشن بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) اورجنتادل (سکیولر) مختلف امور پر کانگریس حکومت کو گھیرنے کی کوشش کریں گی ۔ اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے تیاریوں میں جڑی ہوئی سیاسی پارٹیاں سرمائی سیشن کے ساتھ انتخابات کیلئے حکمت عملی بھی تیارکریں گی۔ اس سیشن کے دوران حکمران پارٹی اور اپوزیشن لیڈران ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات لگائیں گے ۔سیشن میں برسراقتدار پارٹی گزشتہ ساڑھے چار برسوں کے دوران حاصل کی گئی کامیابیوں کو پیش کرے گی۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات 6ماہ کے اندر ہونے والے ہیں۔وزیر اعلیٰ سدارامیا کی کانگریس حکومت کو کے پی ایم ای ترمیمی بل کے علاوہ دیگر کئی متنازعہ امور پر مختلف تنظیموں جن میں نجی ڈاکٹرس بھی شامل ہیں، سورنا سودھا کے باہر شدید احتجاجات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ نجی ڈاکٹرس مذکورہ ترمیم کے خلاف ہیں ۔ گزشتہ سیشن کے دوران کئی بلوں کو اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں منظوری حاصل نہیں ہوسکی تھی۔ اب سرمائی سیشن کے دوران ایسے کئی بل مباحثے کے پیش کئے جائیں گے ۔کل سے شروع ہونے والا سرمائی سیشن ریاست کی تاریخ کا 133واں اجلاس ہوگا۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے کہا ہے کہ بی جے پی بنگلور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کے وزیر کے جے جارج کے استعفیٰ کی مانگ کو جاری رکھتے ہوئے استعفیٰ دینے تک سیشن کی کارروائی کو چلنے نہیں دے گی۔ اس دوران آج بلگاوی میں ریاستی اسمبلی اسپیکر کے بی کولی واڈ نے اخباری کانفرنس کے دوران بتایا کہ کل سے شروع ہونے والے بلگاوی اجلاس میں شمالی کرناٹک علاقہ کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم مسائل پر بحث کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسمبلی اجلاس میں مہادائی ندی کے پانی کا مسئلہ ،گنا کاشتکاروں کے مسائل اور ننجنڈپا کمیٹی رپورٹ کے نفاذ کے سلسلے میں تبادلہ خیال ہوگا اور علاقہ کے عوام کی بہبود پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ اس سوال پر کہ بلگاوی اجلاس میں ہرسال اراکین اسمبلی کی حاضری بے حد کم رہتی ہے کولی واڈ نے کہاکہ قانون کے تحت انہیں غیر حاضر اراکین کے خلاف کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ایک رکن اسمبلی کو اجلاس میں شریک رہنے کی گزارش کی گئی ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسمبلی اجلاس کے دوران اگر کھانے کا انتظام کیا جائے تو تمام اراکین اسمبلی اجلاس میں حصہ لیں گے ۔ایسا بیان انہوں نے کہیں بھی جاری نہیں کیا ہے ۔ تاہم نئی دہلی میں دئے گئے مشورہ کے تحت اگر دوپہر کا کھانا اجلاس میں ہی دیا جائے تو باہر جانے والوں کی تعداد کم ہوگی۔مسٹرکولی واڈ نے بتایا کہ اجلاس کے پہلے دن سابق وزیراعلیٰ دھرم سنگھ خلائی سائنسدان پروفیسر یوآر راؤ ،تھیٹر آرٹسٹ ہینگی بالپا، صحافی گوری لنکیش ،کھادری اچیوتن ، سمیت امسال فوت ہونے والی اہم شخصیات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔کولی واڈ نے بتایا کہ سرمائی اجلاس کے لئے 21کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں اور جی ایس ٹی کی وجہ سے افزود 5کروڑ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ حکومت سے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بلگاوی اسمبلی اجلاس میں تالابوں پر غیر قانونی قبضہ جات کے سلسلے میں ایک مسودہ پیش کیا جائے گا۔ سرمائی اسمبلی سیشن کے مدنظر بلگاوی کے سورنا سودھا کے اندر اورباہر 5ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ۔بلگاوی ، بیجاپور، دھارواڑ، اضلاع کی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے ۔پاس رکھنے والے افراد ہی کو سورنا سودھا کے اندر داخل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔ ریاست کی نئے انسپکٹر جنرل وڈائرکٹر جنرل آف پولیس نیلامی راجو نے آج بلگاوی پہنچ کر سورنا سودھا کا معائنہ کیا اور یہاں کئے گئے پولیس بندوبست کا مکمل جائزہ لیا۔

ایک نظر اس پر بھی

ہوناور میں مہلوک پریش میستا کے والد کے بیان پر کانگریس کے جگدیپ کا پلٹ وار؛ کہا کانگریس والے ڈاکٹر نہیں ہیں کہ وہ پریش میستا کی موت کو فطری موت کہیں

پریش میستا کی مشتبہ ہلاکت کے سلسلے میں ہورہی سست رفتار تحقیقات کے خلاف  ہوناور بلاک کانگریس  کی جانب سے کی گئی  بھوک ہڑتال کے ساتھ احتجاج  کرنے پر مہلوک پریش کے والد کملاکر میستا نے بھوک ہڑتال کو  فریبی چال اور دکھاوا قرار دیا تھا، ان کے  الزام سے صریح انکار کرتے ہوئے ہوناور ...

آئی اے ایس افسروں کی قلت ،حکمرانی میں رکاوٹ ریاست میں کئی افسروں پر افزود ذمہ داریاں۔ مزید 8؍ماہ انتظارکرنا ہوگا

ریاست کے اعلیٰ سطحی انتظامیہ میں افسرشاہوں کی 20؍فیصد قلت حکمرانی میں ایک بحران پیدا کررہی ہے۔ آئی اے ایس کے 61؍فیصد خالی عہدوں پر ریاست میں دستیاب 253افسروں کے ساتھ کام چلارہی ہے جن میں سے زیادہ ترکو افزود ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

کرناٹکا ریزرو پولیس کی خواتین خاکی شرٹ اور پتلون پہنیں گی

کرناٹکا ریزرو پولیس کے خواتین اہلکاروں کو سخت پولیس والوں کی شکل ملے گی جو اپنے مرد ساتھیوں جیسے خاکی شرٹ ،خاکی پتلون ،بیلٹ اور شو پہنیں گی۔ کے یس آر پی کی خواتین کو زیادہ ذمہ دار بنانے کے نظریہ سے یہ تبدیلی سوچی گئی ہے تاکہ وہ اپنے مرکزی ہم منصوبوں کی طرح لگیں جو ایرپورٹوں کی ...