کیا نوٹ بندي کے طوفان کے بعد بھی اُترپردیش کے 'دنگل' میں چل پائے گا پي ایم مودی کا جادو؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 25th December 2016, 3:55 AM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی 24/ڈسمبر (ایس او نیوز/ ایجنسی) وزیر اعظم نریندر مودی نوٹ بندي کے طوفان پر سواری جاری رکھ سکتے ہیں، کیونکہ نفاق ہونے کے علاوہ قومی سطح پر ان کی مخالفت کرنے والوں کے پاس ساکھ کی کمی ہے اور عام لوگوں میں پریشانیوں کا سامنا کرنے کا غیر معمولی صبرپایا جاتا ہے۔ اس درمیان گجرات، مہاراشٹرا، راجستھان اور چندی گڑھ کے کارپوریشن انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ملی جیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب تک وزیر اعظم میں لوگوں کا اعتماد بنا ہوا ہے.

یہ بھی سچ ہے کہ مودی کی تلخ تنقید کرنے پر ترنمول کانگریس نے بھی اپنے سیاسی حلقے میں کئی انتخابات جیتے ہیں.جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اثرات علاقوں میں غیر محدود ہورہےہیں، لیکن بلاشبہ مودی کے اثرات ایک بڑے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں. لیکن اصل میں مودی کی آزمائش اگلے سال اترپردیش میں ہوگی، جس کی اہمیت پنجاب، گوا، منی پور اور اتراکھنڈ میں ایک ہی وقت میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے کہیں زیادہ ہے. اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج اس بات کا اشارہ دیں گے کہ بی جے پی اپنی مدت کا نصف سفر کیسے مکمل کر رہی ہے.

امتحان اس لئے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ نوٹ بندي اقتصادی اصلاحات کا حصہ ہے جسے مودی لاگو کرنا چاہتے ہیں. لیکن جہاں تک روزگار کا سوال ہے تو 'سب کا ساتھ اور سب کا وکاس' پروگرام اب تک خاص کامیاب نہیں رہا ہے. شاید اسی لیے مودی کی مرکزی حکومت متوازی معیشت پر روک لگانے کی اور ملک میں نقد رقم مبرا نظام نافذ کرنے کی نئی پالیسی پر کام کر رہی ہے تاکہ اگلے عام انتخابات کی مدت پار کرنے میں مدد ملے.

اس لحاظ سے سیاسی اکھاڑہ ہونے کے ناطے اترپردیش نے لوگوں کے مزاج کے اشارے دینے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے. ہندی بولنے والی ریاست بہار میں شکست کھانے کے بعد مودی بالکل نہیں چاہیں گے کہ اترپردیش بھی بی جے پی کے ہاتھ سے نکل جائے.

لوک سبھا انتخابات -2014 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے 80 میں سے 71 سیٹوں پر قبضہ جمانے والی بی جے پی کو اتر پردیش میں دو جماعتوں، حکمراں سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)سے سخت مقابلہ ہونے کا خدشہ ہے اور وہ چاہیں گے کہ لوک سبھا انتخابات میں ان کا گٹھ بندھن بہتر کارکردگی کریں. اپنا دل نے لوک سبھا انتخابات میں دو نشستیں جیتی تھیں.

کچھ وقت پہلے ایس پی میں وزیر اعلی اکھلیش یادو اور ان کے چچا شوپال یادو کے درمیان خاندانی جھگڑے سے ظاہر ہوا کہ بی جے پی کو برتری ملے گی، لیکن خاندانی اختلافات کچھ وقت کے لئے تھم چکے ہیں، کیونکہ ملائم سنگھ یادو نے شاید یہ محسوس کر لیا ہے کہ اندرونی جھگڑے سے پارٹی اپنی قبر کھود رہی ہے.

 آج کے نوجوان سیاسی لیڈروں کی طرح ترقی کے حامی اکھلیش یادو نے بڑوں کے ساتھ تنازعہ میں مشغول ہونے کے دوران وقت کی بربادی کی تلافی کے لئے زور و شور سے کئی ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہیں. اس لیے مودی اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ ایس پی سے زیادہ فوائد ملنا آسان نہیں ہے، جیسا کہ انہوں نے اس کے اندرونی اختلاف کو دیکھتے ہوئےسوچا تھا. ایسے میں اگر ایس پی اور کانگریس کے درمیان اتحاد ہوتا ہے تو بی جے پی کے لئے یہ اتحاد مزید خطرے میں ڈال سکتا ہے، کیونکہ ایسا ہونے سے مسلم۔ یادو اتحاد دوبارہ بن جائے گا جس کے لئے بہار کبھی جانا جاتا تھا.

بی جے پی کے لئے منفی حالات یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا اپنا دل کے علاوہ اُتر پردیش میں اس کی کوئی دیگر اتحادی پارٹی نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے پاس کوئی وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار ہے. مودی ہی اس کی واحد پونجی ہیں اور ان کا اثر بھی لوک سبھا انتخابات -2014 جیسا نہیں رہ گیا ہے. اتر پردیش میں بی جے پی کی موجودگی محسوس کرنے کے لئے خاص طور سے 50 دنوں بعد ان کے نوٹ بندي کے داؤ کو اُڑان بھرنا ہوگا۔ جس کی مدت کا اطلاق دسمبر کے آخر میں ختم ہو جائے گا. لیکن اگر بینکوں کے باہر قطاریں طویل رہتی ہیں تو مودی کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہوگا. کیونکہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا ہے کہ 50 دنوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد وہ وزیر اعظم کی حمایت کرنے والی صورت حال پر نظر ثانی کریں گے.

ادھر، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو نے پہلے ہی کہا ہے کہ دسمبر کے آخر سے پہلے وہ مودی کے مخالفین کے حق میں کھڑے ہوں گے. اس کے بعد مودی کے حق میں صرف اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک ہی بچ جائیں گے.

جہاں تک نوجوان نسل کا سوال ہے تو ان سے وزیراعظم کا بہار کے سابق فوجیوں یا ممتا بنرجی کے مقابلے میں زیادہ وابستگی ہے. کیونکہ لگاتار مانا جا رہا ہے کہ مودی میں معیشت کو آگے بڑھانے کی صلاحیت ہے. لیکن دوراندیش شبیہ کی وجہ سے اکھلیش یادو بھی اتر پردیش کے نوجوانوں کے درمیان کافی پسند کئے جاتے ہیں. اگر اتر پردیش میں انتخابی دنگل مودی بنام اکھلیش ہونے جا رہا ہے اور بی جے پی ہار جاتی ہے تو سیاسی طور پر وزیر اعظم کو بھاری نقصان ہو گا.
 

ایک نظر اس پر بھی

 بغیر بجلی والے گاؤں کو مارچ 2018تک بجلی سے جوڑنے کاہدف:وزیر اعلیٰ

اسمبلی میں بی جے پی ممبر اسمبلی سنتوش بافنا کے سوالوں کے تحریری جواب میں وزیر اعلی ڈاکٹر رمن سنگھ نے بتایا کہ 31/جنوری 2017صورت میں جگدل پور اسمبلی حلقہ کے تمام 136گاؤ ں بجلی کنکشن سے جڑ گئے ہیں۔ڈاکٹر سنگھ نے بتایا کہ مذکورہ بجلی سے جڑے گاؤں میں سے 83گاؤں کے 464بساہٹیں بجلی سے دور ہے، ...

کوئلہ گھوٹالہ معاملہ ،سی بی آئی نے جندل اسٹیل ایڈوائزر آنند گوئل سمیت 5کے خلاف چارج شیٹ داخل کی 

سی بی آئی نے جمعہ کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں کوئلہ گھوٹالہ معاملے میں حتمی چارج شیٹ داخل کردی۔چارج شیٹ میں نوین جندل کے صلاح کار آنند گوئل، گڑگاؤں کی کمپنی گرین انفرا کے نائب صدر سدھارتھ مادرا، ممبئی کی کے ای انٹرنیشن کمپنی کے سی ایف او راجیو ...

قرآن وسنت کے بجائے مزاج اور اپنے اصولوں کی ہی محتاج ہوگئے ہیں مسلمان:مولانا شکیل احمد 

ایسا کوئی حکم جو اللہ تعالی اور اس کے رسول نے دیاہولیکن اگر وہ ہمارے مزاج یا موڈ کے خلاف ہواور اصول سے میل نہ کھا تا ہو یا ہماری عقل و منطق تسلیم نہ کرتی ہو تو ہم اس پر ہر گز عمل نہیں کرتے ہیں، نہ صرف اسے ٹال دیتے ہیں بلکہ ضمیر کی تسلی کیلئے کو ئی نہ کوئی جواز بھی پیدا کر لیتے ہیں ...

طالبات صرف بات نہیں بلکہ اپنے عمل سے اپنی صلاحیت کو ثابت کریں: جنرل ضمیر الدین شاہ

علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے فیڈریشن آف علی گڑھ الیومنائی ایسو سی ایشن، یو ایس اے کے تعاون سے ویمنس کالج میں قائم کوچنگگ اینڈ گائڈئینس سیل کا افتتاح کرتے ہوئے طالبات سے کہا کہ وہ صرف بات ہی نہیں بلکہ اپنے عمل سے اپنی صلاحیت کو ثابت ...

دہلی میونسپل کارپوریشن الیکشن:امریندر، نتیش کریں گے دہلی میں تشہیر 

پنجاب کے وزیر اعلی اور کانگریس کے اسٹار کمپینر کیپٹن امریندر سنگھ راجوری گارڈن اسمبلی ضمنی انتخابات اور دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے پیش نظر 30/مارچ سے دہلی میں انتخابی مہم کریں گے۔وہیں کارپوریشن انتخابات میں پوروانچل کے رائے دہندگان کو لبھانے کے لیے بہار کے وزیر اعلی ...

مہاندی کو لے کر چھتیس گڑھ اور اڑیسہ کے درمیان اٹھے تنازعہ پر سپریم کورٹ سماعت کو تیار 

مہاندی کو لے کر چھتیس گڑھ اور اڑیسہ کے درمیان اٹھے تنازعہ کے معاملے کو لے کر اڑیسہ حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔اس پر اڑیسہ حکومت نے سپریم کورٹ سے جلد سماعت کا مطالبہ کیاہے۔اڑیسہ حکومت کی جانب سے سینئر وکیل ہریش سالوے کے مطالبے پر سی جے آئی جے ایس کھیہر نے سماعت کی ...

یوپی کے انتخابی نتائج؛ دعوتی نقطۂ نظر سے بعض تشویشناک پہلو .................. محمد الياس ندوي بهٹکلی

دنیا میں فیصلے خوش فہمیوں پر نہیں حقائق پر ہوتے ہیں:۔ اترپردیش میں انتخابات کے عوام کے لیے غیرمتوقع لیکن خواص کے لیے عین متوقع نتائج پر جو تبصرے اور تجزیے مجموعی طور پر سننے ،دیکھنے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں وہ بحیثیت مسلمان اور امت دعوت حیرت میں ڈالنے والے ہیں ،اکثر لوگوں کاکہنا ...

بھٹکلی احباب کی کمپنی ’’کونفی بیگ ‘‘ میں اب آرہی ہے خصوصی چِپ، موبائل کے ذریعے بچوں کی ٹریکنگ ممکن ہوگی

مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے 2000نئے نوٹوں میں چپ نصب کئے جانے اور نوٹوں کی گڈیوں کا پتہ لگانے کو لے کر بہت ساری افواہیں پھیلائی گئیں وہ سب خبریں اب پرانی ہوچکی ہیں ۔ آربی آئی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوٹوں میں ایسا کچھ نہیں ہے ، اس خبر کے جھوٹی ہونے کی بات بھی ...

بھٹکل کی نوائط برادری کا جذبۂ اخلاص جس کی تشہیر ہونی چاہیے۔۔۔۔(محمد رضا مانوی کی کنڑا تحریر کا اُردو ترجمہ)

ساحل سمندر کے خوبصورت قدرتی نظارے سے گھِرا ہوا شہر بھٹکل اکثر وبیشتر اخبارات کی منفی سرخیوں میں رہا کرتا ہے۔لیکن اس بارایک مثبت خبر کے لئے اسے بین الاقوامی سطح پر اخباروں کی زینت بننا چاہیے تھا۔کیونکہ اپنے وطن سے ہزاروں کیلومیٹر دورگزشتہ نو مہینوں سے کوما کی حالت میں سعودی ...

اگر ایجنڈا ترقی کا ہے تو فرقہ پرستی کی باتیں کیوں؟ کیا اشتعال انگیزی پر گرفت نہ کرنے کا مطلب رضا مندی  نہیں ؟

یوں تو بی جے پی لیڈر سال بھر ملک کی ترقی، حالات بدلنے کی باتیں کرتے نہیں تھکتے لیکن جب الیکشن ہو وہ بھی ملک کی سب سے بڑی اور سبب سے حّساس ریاست اُتر پردیش میں بلی تھیلے سے باہر آ ہی جاتی ہے

یو پی اسمبلی انتخابات: سب کی نگاہیں دلت مسلم پر مرکوز ۔۔۔۔ از:عبد المعید ازہری

یہ موجودہ سیاست کی ناکامی ہے یا سیاست دانوں کی نا اہلی ہے کہ سیاست کا با ضابطہ تعمیر ترقی کا خاکہ تعصب اور بے ایمانی کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے انتخابات کیلئے پیسہ، پاور اور ظلم و زیادتی لازم ہوتے جا رہے ہیں۔ دنگے اور فرقہ وارانہ فسادات کسی بھی انتخابی مہم کا اہم حصّہ ہوتے جا ...

نئی نسل کے لیے ایک بہترین دینی تحفہ مولانا الیاس ندوی کی مجالس نبوی ﷺ

حضورﷺ کی سیرتِ مقدسہ ایک بے مثال،ابدی عملی نمونہ ہے ، جو زندگی کےاعلیٰ وارفع مقصد کے حصول میں بہتر سے بہتررہنمائی کرتاہے تو  چھوٹے  چھوٹے ، معمولی مسائل کو بھی اپنے اندر سمیٹا ہواہے اور اس کی اہم اور خاص خصوصیت یہ ہےکہ یہ عملی نمونہ دنیا کے ساتھ اخروی زندگی کی کامیابی کی ضمانت ...