تنازعات کو جنم دینے والی اننت کمار ہیگڈے کی زبان کے دام لگے ایک کروڑ روپے !

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th December 2017, 9:17 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

کاروار 27؍دسمبر (ایس او نیوز) ہبلی عید گاہ میدان کے تنازعے کے دوران وہاں بھگوا جھنڈا لہرا کر ہندوؤں کے دلوں کو متاثر کرنے اور پانچ بار رکن پارلیمان بننے والے اننت کمار ہیگڈے اب تک گمنام  رہنے کے بعد وزیر بنتے ہی اخباروں کی سرخیوں اور لوگوں کی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روز کسی نہ کسی مسئلے پر بولتے ہوئے تنازعات کھڑے کرنے والے مرکزی وزیر اننت کمارہیگڈے کی زبان کی قیمت ایک کروڑ روپے لگ گئی ہے۔ترقیاتی کاموں کے بجائے صرف بڑبولے پن کا مظاہرہ کرنے والے اننت کمار اپنے متنازع فیہ بیانات کے پیچھے آخر کونسا ایجنڈہ لیے بیٹھے ہیں یہ ان کے گھرو الوں کو ہی شاید پتہ ہوگا۔یاد رہے کہ اننت کمار ہیگڈے جب سب سے پہلے  رکن پارلیمان بنے تھے وہ  ہندوتوا کی لہرچلنے کی وجہ سے تھا۔اوراب تک وہ ہندوتوا کی انہی لہروں میں تیرنے کا مزہ لیتے ہوئے الیکشن میں کامیاب ہوتے آئے ہیں۔لیکن سچائی یہ ہے کہ رکن پارلیمان کے طور پر کوئی ترقیاتی کام انجام نہ دینے کی وجہ سے ووٹرس کی نظروں میں وہ ایک فضول نمائندہ بن کر رہ گئے تھے اور 2014کے الیکشن میں ممکن تھا کہ رائے دہندگان انہیں شکست سے دوچار کردیتے۔ مگر اننت کمار کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اسی دوران مودی لہر چل پڑی اور ان کی نیّا پھر سے پار لگ گئی۔اس بار انہوں نے ضلع کے بہت ہی سینئر اور بااثر سیاستدان دیشپانڈے کے فرزند کو شکست دے کر پارلیمانی سیٹ جیت لی تھی۔اس کے بعد پراسرار طور پر اننت کمار نے بڑے عرصے تک خاموشی اختیار کرلی تھی اور عوامی سرگرمیوں سے دور ہوگئے تھے۔

اچانک ادھر کچھ عرصے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زبان درازی کرنے والے اننت کمار کو جیسے ہی مرکزی وزارت کا قلمدان مل گیا وہ پھر سے اپنی اشتعال انگیزیوں میں مشغول ہوگئے ہیں اور کسی نہ کسی موضوع پر تنازعہ کھڑا کرکے سرخیوں میں رہنے لگے ہیں۔پارٹی کے اندر ایک زمانے تک ایڈی یورپا اورشوبھا کرندلاجے کے مخالف کیمپ میں رہنے والے اننت کمار ایک طرف اب ایڈی یورپا کے سب سے بڑے حمایتی بن گئے ، دوسری طرف ضلع شمالی کینرا میں ، وشویشور ہیگڈے کاگیری ،شیوانند نائک وغیرہ کو کنارے لگاکر پارٹی کی کمان اپنے قبضے میں کرلینے کی پوزیشن میں آگئے اور بی جے پی کے ہائی کمان کی نظروں میں اپنا قد بلند کرکے دکھانے میں کامیاب ہوگئے جس کی وجہ سے انہیں اچانک وزیر بنادیا گیا ۔رکن پارلیمان کی حیثیت سے تو خیر انہوں نے کوئی بھی اہم ترقیاتی کام انجام نہیں دیا تھا ، اب جو وزارت ملی ہے اسے بھی وہ ایک بغیر پانی والا کنواں قرار دے رہے ہیں، یعنی اس وزارت کے تحت بھی وہ عوام کی بھلائی اور ترقی کا کوئی بھی کام انجام دینے والے نہیں ہیں۔

دستور ہند کو بدلنے اورسیکیولرازم کوماننے والوں کے ماں باپ کا پتہ نہ ہونے کا تازہ متنازع بیان دینے کے بعد ان کی زبان کاٹ کر لانے والوں کے لئے ایک کروڑ روپے انعام دینے کا جو اعلان ہوا ہے، اس سے کم از کم اننت کمار کی لمبی زبان کی قیمت تو طے ہوگئی ہے۔سیاست دانوں کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر خود بی جے پی کے اندر اننت کمار سے کافی لوگ ناراض دکھائی دئے۔معتبر ذرائع سے پتہ چلا ہے بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے اننت کمار کے خلاف پارٹی ہائی کمان سے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اننت کمار ہیگڈے نے وزارت ملنے کے بعد جو متنازعہ بیانات دئے ہیں ان کے آڈیو ویڈیو کلپس جمع کرکے کرناٹک کے پارٹی معاملات کے نگران پرکاش جاوڈیکر کے سامنے پیش کیا گیا ہے تاکہ وہ اس کا معائنہ کرکے وزیر موصوف کے خلاف کارروائی کریں۔پارٹی کے اندر اننت کے خلاف ناراضی کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ریاستی لیڈروں کو یہ خوف پیدا ہوگیا ہے کہ ان کے اس طرح کے متنازعہ بیانات کے برے اثرات آئندہ اسمبلی انتخاب پر پڑسکتے ہیں۔اس لئے ا ن لیڈروں کی خواہش ہے کہ پارٹی ہائی کمان اننت کمار پر لگام کسے۔

کہا جاتا ہے کہ اننت کمار کے بیان پر خود بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر سبرامنیم سوامی نے بھی اعتراض جتایا ہے۔ اور ان پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اننت کمار کو بیان دینے سے پہلے خود دستور ہند کا مطالعہ کرکے جان لینا چاہیے کہ دستور کے بنیادی اقدار کیا ہیں۔اس کے علاوہ ٹی ششی دھر نے صدر ہند کو مراسلہ بھیج کر مطالبہ کیا ہے کہ اننت کمار کو وزارت سے ہٹا دیا جائے، کیونکہ انہوں نے بھارت کے دستور کے خلاف زبان درازی کی ہے۔اور اپنے بیان سے سماج میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔سوشیل میڈیا پر بھی اننت کمار ہیگڈے کے بیان پر سخت اعتراض جتایا جارہا ہے اور ہر طرف سے ان کی مذمت کی جارہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سرسی میں پرکاش رائے کے خطاب کردہ اسٹیج کوبی جے پی نے گائے کے پیشاب سے کیاپاک !

’ہمارا دستور ہمارا فخر‘کے موضوع پر اداکار دانشور پرکاش رائے نے سرسی میں جس اسٹیج سے خطاب کیا تھااس مقام کو اور راگھویندرامٹھ کلیان منٹپ کے احاطے کو بی جے پی کارکنان نے گائے کے پیشاب سے پاک کرنے کی کارروائی انجام دی۔

مرڈیشور سرکاری ماڈل پرائمری اسکول میں سالانہ جلسہ

خانگی اسکولوں کی مقابلہ آرائی کے زمانےمیں بھی مرڈیشور کی سرکاری ماڈل ہائر پرائمری اسکول جس ترقی کی راہ پر گامزن ہے وہ قابل ستائش ہے۔اسکول میں سائنسی نمائش کا اہتمام، مختلف ثقافتی مقابلہ جات اور شاندار طریقے سے سالانہ جلسے کا انعقاد اسکول کے اساتذہ اور طلبا کی محنتوں کا نتیجہ ...

شمالی کینرا میں سیاسی تماشے کا ایک اور سین : کانگریس کے بعد آنند اسنوٹیکر نے بی جے پی کو بھی کیا الوداع۔ اب تھاماجے ڈی ایس کا دامن

ضلع شمالی کینرا میں آئندہ چند مہینوں میں درپیش اسمبلی الیکشن کے ڈرامے کا ایک اور سین سامنے آیا ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق کاروار انکولہ حلقے میں ٹکٹ کے ایک مضبوط دعویدار سمجھے جانے والے آنند اسنوٹیکرنے بھارتیہ جنتا پارٹی سے مستعفی ہوکر جنتا دل سیکیولر کا دامن تھام لیا ہے۔

حضرت ڈاکٹر علی ملپا مرحوم پر نقوش طیبات کے خصوصی شمارہ کا دار العلوم ندوۃ العلماء میں مولانا رابع حسنی ندوی کے ہاتھوں رسم اجراء

معھد الإمام حسن البناء شھید (بھٹکل) کی طرف سے نکلنے والا دو ماہی رسالہ نقوش طیبات نے اس بار  بانی و سابق صدر جامعہ اسلامیہ بھٹکل حضرت ڈاکٹر علی ملپا رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پرخصوصی شمارہ شائع کیا ہے، جس کا اجراء لکھنو میں  دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو   کے ناظم ...

بھٹکل سرکاری اسپتال میں ایک بھی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے پر عوام اور مریض سخت برہم؛ احتجاج کی دھمکی کے بعددوسرے اسپتال کا ڈاکٹر پہنچا اسپتال

آج صبح سے بھٹکل سرکاری اسپتال میں ایک بھی ڈاکٹر موجود نہ ہونے کو لے کر مقامی عوام جو مریضوں کو لے کر اسپتال پہنچے تھے، سخت برہم ہوگئے اور اسپتال پر موجود نرس سمیت دیگر اسٹاف پر اپنا غصہ اُتارنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر ڈیوٹی پر موجود نرس کو عوام نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے  دس منٹ ...

انتخابات کے پیش نظر پارٹی لیڈروں کے باہمی تبادلہ خیالات کاسلسلہ سی ایم ابراہیم کی جے ڈی ایس سربراہ دیوے گوڈا سے ملاقات

ریاستی اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آنے لگے ہیں ، سیاسی قائدین سے ملاقاتیں اور ان سے تبادلہ خیالات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جوکافی اہم اور دلچسپ ہوا کرتا ہے ۔

کانگریس نے لوک سبھا میں بھی طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کی تھی کرناٹک وقف بورڈ کے انتخابات میں تاخیر افسوسناک :ڈاکٹر کے رحمٰن خان

لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کے خلاف کانگریس نے کوئی آواز نہیں اٹھائی یہ ایک غلط خبر ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پیداوار ہے جس کو اسی کی ایماء پر میڈیا نے پھیلایاہے۔

اگلا وزیراعلیٰ بنانے ہائی کمان کے اعلان سے سدارامیاکا حوصلہ بلند راہل گاندھی کے بیان سے وزیراعلیٰ کی کرسی پر نظر رکھے لیڈروں کو مایوسی۔ بغاوت کے آثار

ریاست کرناٹک میں ہونے و الے اگلے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی اگر اکثریت حاصل کرکے دوبارہ اقتدار حاصل کرلے گی تو سدارامیا ہی اگلے وزیراعلیٰ ہوں گے ۔

مودی ، یوگی اور ونود سب نے کرناٹک کی توہین کی ،گالی گلوچ بی جے پی کا مزاج ؛گوا کے وزیر آبپاشی ونود پالیکر نے کیا کنڑیگا س کو ذلیل

منہ پھٹ بی جے پی لیڈرز ہر دن کوئی نہ کوئی متنازعہ اور اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے عوامی غیض وغضب کا شکار ہورہے ہیں، بیلگاوی ضلع کے خانہ پور تعلقہ میں چل رہے کلسا نالا تعمیراتی کاموں کا معائنہ کرنے کے بعد گوا کے وزیر برائے آبپاشی ونود پالیکر نے کرناٹک کے باشندوں کو حرامی کہہ ...

اُترکنڑا کے سُودّی ٹی وی نیوز چینل کے رپورٹرکی بائک درخت سے ٹکراگئی؛ رپورٹر کی موقع پر موت

سرسی سے ہانگل جانے کے دوران ایک کنڑا نیوز چینل کے رپورٹر کی بائک تیز رفتاری کے ساتھ  ایک درخت سے ٹکرانے کے نتیجے میں موقع پر ہی اُس کی موت واقع ہوگئی۔ یہ حادثہ اتوار کو ضلع ہاویری کے ہانگل کے قریب گُنڈورو نامی دیہات میں علی الصباح پیش آیا۔

دستور کو تبدیل کرنے والی بات کہنے والے آننت کمار ہیگڈے کے حلقہ میں ہی پہنچ کر گرجے فلم ایکٹر پرکاش رائے؛ کہا ہماری خاموشی ہمیں مار ڈالے گی

’بھائی چارگی کے ساتھ جینا‘ اور ’ہمارا دستور ہمارا فخر ‘کے موضوع پر سرسی کے راگھویندرا مٹھ میں منعقدہ ریاستی اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے معروف دانشور اداکار پرکاش رائے نے کہا کہ اس وقت دیش کو ایک بہت بڑی بیماری لگ گئی ہے۔

ریاست کرناٹک کو بھگوارنگ میں رنگنے کی کوشش

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اوربھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے حوصلے ابھی تک اس لئے بھی بلند ہیں کہ ریاستوں کے اسمبلی اور کارپوریشن انتخابات میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل ہے ۔

تین طلاق پر غیر متوازن سزا ......آز: حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی

اندازہ ہے کہ ۲۸؍دسمبر ۲۰۱۷ء کو مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرشاد پارلیمنٹ میں وہ بل پیش کردینگے، جسکا تعلق تین طلاق سے ہے ایوان زیریں کے ٹیبل پر رکھے جانیوالے اس بل کا نام دی مسلم ومن (پروٹیکشن آف رائٹس آن مریج) بل ۲۰۱۷ء ہے اس کا تعلق ایک ساتھ تین طلاق دینے سے ہے ۔۔۔۔ سپریم کورٹ نے ...

سر پرکبھی ٹوپی تو ماتھے پہ تِلک ۔کاگیری کاہے یہ بھی ناٹک ! (خصوصی رپورٹ)

سیاست کا دوسرا نام سوائے ناٹک بازی کے اور کچھ نہیں ہے۔ اور جب بھی انتخابات قریب آتے ہیں تو پھرسیاست کے نت نئے بہروپ سامنے آنے لگتے ہیں، جو اپنے اپنے ووٹ بینک کو متاثر کرنے کے لئے کرتب بازیاں شروع کرتے ہیں۔

گجرات نے جنگ آزادی کی قیادت کی ہے ،فرقہ پرست طاقتوں کو آگے بڑھنے سے روکنا بھی اس کی اہم ذمہ داری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقطہ نظر : ڈاکٹر منظور عالم

گجرات انتخابات کی تاریخ قریب آچکی ہے ،ممکن ہے جس وقت آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہوں اس کے ایک دن بعد گجرات میں رائے شماری کا سلسلہ شروع ہوجائے ،9 اور 14 دسمبر کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے جبکہ 18 دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔گجرات کے رواں انتخابات پر پورے ہندوستان کی نظر ہے ،خاص ...

انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟ .................آز: مولانا سید احمد ومیض ندوی

سیرتِ رسول آج کے مسلمانوں کے پاس بھی پوری طرح محفوظ ہے، لیکن ان کی زندگیوں میں کسی طرح کے انقلابی اثرات نظر نہیں آتے، آخر وجہ کیا ہے؟ موجودہ دور کے ہم مسلمان صرف سیرت کے سننے اور جاننے پر اکتفاء کرتے ہیں، سیرتِ رسول سے ہمارا تعلق ظاہری اور بیرنی نوعیت کا ہے۔حالانکہ س سیرت کی ...