مظاہرے ایرانی نظام کے ناکام ہونے کی علامت ہیں: ٹرمپ اور ماکروں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th January 2018, 4:28 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن ،8؍جنوری (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل ماکروں کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ اس دوران ٹرمپ نے ماکروں کو جزیرہ نما کوریا کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا۔ دونوں صدور کے درمیان ایران میں جاری مظاہرے بھی زیر بحث آئے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق بات چیت میں یہ بھی باور کرایا گیا کہ امریکا، جنوبی کوریا اور عالمی برادری شمالی کوریا کو مکمل طور پر غیر مسلّح کرنے کے حوالے سے پْرعزم ہے۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں صدور کا اس امر پر اتفاق رائے ہوا کہ ایران میں وسیع پیمانے پر جاری مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ ایرانی نظام اپنے عوام کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ یہ نظام ملکی دولت کو دہشت گردی کے لیے فنڈنگ اور بیرون ملک مسلح جماعتوں کی سپورٹ کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔ایران میں جمعرات 28 دسمبر سے وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ احتجاج ملک کی اقتصادی حالت کے خلاف شروع ہوا تھا تاہم جلد ہی مظاہرین کی جانب سے سیاسی مطالبات سامنے آ گئے۔ اس دوران آمریت مردہ باد کے نعرے بھی بلند ہوئے جو ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کی جانب اشارہ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی