اقلیتوں کوکنارہ لگانے کی کوشش افسوسناک:جمیعۃعلمائے ہند

Source: S.O. News Service | Published on 11th January 2017, 9:06 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

سورت، 11/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ملک کے موجودہ حالات میں سب سے بڑا سوال اقلیتوں کے تحفظ اور ملک کے وسائل تک ان کی رسائی کا ہے۔پچھلے ستر سالوں سے جس طرح سے اقلیتوں کو کنارہ لگانے کی کوشش کی گئی، اس سے اقلیتوں بالخصوص مسلم اقلیت میں مایوسی اور مظلومیت کا احساس پروان چڑھ رہا ہے۔ یہ باتیں آج ایک پریس کانفرنس میں جمعےۃ علماء ہند کے ذمہ داروں نے کہی۔نوساڑی میں ہونے والے دو روزہ تربیتی اور عمومی اجلاس کے پس منظر میں منعقد پریس کانفرنس سے مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعےۃ علماء ہند،مولاناارشدمیرصدرجمعےۃ علماء سورت اور اقبال بھائی نوساڑی نے مشترکہ طور سے خطاب کیا۔انھوں نے کہا کہ جمعےۃ علماء یہ سمجھتی ہے کہ یہ احساس ملک کے لیے بہت ہی نقصان دہ ہے اور جمعےۃ ہرگز نہیں چاہے گی کہ ملک کی بیس کروڑ کی آبادی میں یہ احساس پیداہو۔ جمعےۃ علماء ملک کے گوشے گوشے میں اپنی تحریک کے ذریعے مسلم اقلیت کو مایوسی اورمظلومیت کے احساس سے نکالنا نے کی کوشش کررہی ہے، جو بے عملی کے ساتھ کنارہ لگانے کی راہ پر لے جارہا ہے۔ انھوں نے منعقد ہونے والے پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جمعےۃ علماء ہند کے پاس کیڈرس کی ایک بڑی تعداد ہے جو ملک کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی ہے، جمعےۃ ان کوبہتراورباصلاحیت افراد کے مجموعے میں تبدیل کرکے ان کے ذریعے پنی تحریک میں بامقصد بناتی ہے۔اس لیے ان کارکنان کے ساتھ مل کر اور بیٹھ کر تربیتی اجتماع (traningcongregation)بھی کرتی ہے۔ اسی کے تحت۲۱/۳۱/جنوری کو ویسما ضلع نوساڑی میں تربیتی اجتماع کرنے جارہی ہے، یہ پروگرام مولانا رفیق احمد بڑودوی صدر جمعےۃ علماء گجرات کے زیر صدارت تین نشستوں پر مشتمل ہے، جس میں پہلی اور دوسری نشست خاص طور سے علماء کرام اور ذمہ دار حضرات کے لیے ہورہی ہے، جب کہ ۳۱/جنوری کی شام پانچ بجے سے اجلاس عا م منعقد ہوگا،اس پروگرام میں ملک سے کئی اہم علماء شریک ہورہے ہیں۔جمعےۃ علماء ہند کے قومی جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی صاحب مہمان خصوصی ہوں گے، جب کہ کئی بڑے علماء اور دانشور شریک ہوں گے، ا س پروگرام میں بھڑوچ، نرمدا، سورت، تاپی، نوساری، بلساڑ، ڈانگ، سیلواس، دمن وغیرہ سے جماعتی احباب شریک ہو ں گے۔ یہ پروگرام انجمن شباب المسلمین ویسما کے زیر انتظام منعقد کیا جارہا ہے۔ ہم اپنے پروگرام میں کئی اہم قومی وملی مسائل کے علاوہ درج موضوعات پر بات کریں گے:(۱) جمعےۃ علماء ہند کی خدمات تاریخ کی روشنی میں (۲) جمعےۃ علماء ہند کا قیام اور اس سے وابستگی کی اہمیت و ضرورت (۳) اصلاح معاشرہ کی ضرورت اور اس کا طریقہ کار (۴)حالات حاضرہ، علماء کرام اور ائمہ کرام کی ذمہ داریاں (۵)اتحاد واتفاق اور اس کے فوائد (۷)برادران وطن کے ساتھ ہمارا تعلق اسلا م کی روشنی میں وغیرہ وغیرہ۔پر یس کانفرنس میں کہا گیا کہ جمعےۃ علماء ہند یہ شدت سے محسوس کررہی ہے ایسے عناصر کا اثرورسوخ بڑھتا جارہا ہے جو ملک کے سیکولر آئین اور مشترکہ تہذیب و روایت کے خلاف ہیں اور ہر قیمت پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس کے لیے گائے، گھر و اپسی، تبدیلی مذہب اور اپنے نظریے کے مطابق راشٹرواد کا سہارا لیا جارہا ہے۔اس تناظر میں ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ مجاہدین آزادی اور معماران وطن نے جس خوبصورت ہندستان کا خواب دیکھا تھا، اس کے برعکس ملک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں ایک ہی کمیونٹی کا بول بالا ہو اور دیگر طبقات غلاموں کی طرح زندگی گزاریں۔جو بھی آئین کے تحت اپنے حقوق و اختیارات کے لیے آواز بلند کرتا ہے، اس کو مختلف طرح سے ہراساں اور دہشت زدہ کرکے اس کی آزادی کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔گائے کے تحفظ کے نام پر دلتوں اورمسلم اقلیت حتی کہ خواتین کو بھی جس بربریت سے نشانہ بنایا گیا وہ فاشزم کی واضح مثال ہے۔جمعےۃ علماء ہند جو اپنے قیام کے دن سے ہی ہندو ومسلم اور ملک کے دیگر مذاہب کے مابین اتحاد اور روادری کی علم بردار ہے، وہ ایسی طاقتوں کو ہر گز پنپنے نہیں دے گی،ہم ہر طبقے کے ساتھ یکساں معاملہ کرنے اور سب کے وکاس کی بات کو آگے بڑھادیکھنا چاہتے ہیں۔پریس کانفرنس میں جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ پر روشنی ڈ التے ہوئے گیا کہ جمعےۃ ہندستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی اورقدیم جماعت ہے، ۹۱۹۱ء میں اس کا قیام خالص ملک کی آزادی اورملت کی سربلندی کے لیے ہوا تھا۔ آزادی وطن کی وہ جد وجہد جو ۳۰۸۱ء سے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ کے تاریخی فتوی سے شروع ہو ئی تھی، بے شمار علماء کی قربانیوں کی بھری تاریخ سے گزرتی ہوئی، ۰۲۹۱ء میں اسیر مالٹا حضرت شیخ الہندؒ کی رہائی کے بعد ہندو مسلم مشترکہ جد وجہد میں تبدیل ہو گئی۔جمعےۃ علماء ہند نے گاندھی جی کو مہاتما تسلیم کرتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر آزادی کو ہندو اور مسلم کی مشترکہ لڑائی بنانے میں ا ہم کردار ادا کیا۔ملک کی آزادی کے بعد جمعےۃ علماء ہند مختلف محاذوں پر برابر مذہبی، قومی وملی خدمات، مسلمانوں کی بقاء وتحفظ اور انھیں باعزت مقام دلانے، معاشرتی ومذہبی شناخت کے تحفظ کے لیے پرخلوص جدوجہد کرتی چلی آرہی ہے۔ مختلف قسم کے دیگر تعمیری، اصلاحی کاموں کے علاوہ بازآبادکاری، قانونی چارہ جوئی اورآئینی حقوق کی بقاء وحصول کے لیے بھی کام کرتی ہے۔ اس جماعت کے ممبروں کی تعداد کروڑ سے اوپر ہے، ملک کی ۱۲/ریاستوں میں ۰۰۷۱ مقامی وضلعی یونٹیں قائم ہیں۔اس وقت اس تنظیم کے قومی صدر حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری ہیں جبکہ جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمود مدنی صاحب ہیں۔


 

ایک نظر اس پر بھی

میزورم میں اسرائیلی اشتراک کے ساتھ زراعت کے پہلے علاقائی مرکز کا افتتاح 7 مارچ کو

بھارت میں اسرائیل کے سفیر ڈینئل کارمن نے آج یہاں شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت ( آزادانہ چارج )وزیر اعظم کے دفتر ، عملے ، عوامی شکایات اور پنشن ، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔

کجریوال ایمانداراورمہذب آدمی ہیں،شتروگھن سنہانے گھیرا،نیرومودی کے معاملے کوچھپانے کے لیے چیف سکریٹری تنازعہ کھڑاکیاگیا

بی جے پی کے باغی لیڈر شتروگھن سنہا نے مبینہ طور پر بدھ کو کہا کہ بھگوا پارٹی پنجاب نیشنل بینک گھپلہ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے دہلی چیف سکریٹری معاملہ کو طول دے رہی ہے۔

دیوبند میں منایا جارہا ہے’’شریعت ہمارا اعزاز ہے‘‘ ہفتہ؛ اسلامک اکیڈمی کے ڈائرکٹر نے کی سراہنا؛ کہا ، پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ

دفاع شریعت کے لئے معہد عائشہ صدیقہ قاسم العلوم للبنات دیوبند کی انتظامیہ اور فاضلات کی جانب سے ہفتہ ’’شریعت ہمارا اعزاز ہے ‘‘ پوری امت کی جانب سے فرض کفایہ ہے ،اور ملت کی خواتین میں شریعت کے حوالے سے بیداری لانے کی ایک عظیم کوشش ہے کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے تحفظ حقوق نسواں کے ...

مینگلور کے قریب سولیا میں لڑکے نے اپنے ہی کالج کی لڑکی کو چھرا گھونپ دیا؛ خودکشی کی ناکام کوشش کے بعد گرفتار؛ محبت میں ناکامی کا شبہ

یہاں سے قریب 85 کلو میٹر دور سولیا  میں پیش آئے ایک اندوہناک واقعے میں کالج کی ایک طالبہ کی موت واقع ہوگئی، جبکہ اس کو چھرا گھونپنے والے طالب العلم کو خودکشی کی ناکام کوشش کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔  مہلوک طالبہ  کی  شناخت  اکشتھا کی حیثیت سے کی گئی ہے جو سولیا کے  نہرو میموریل ...

بی جے پی صدر امت شاہ کے پروگرام سے واپس لوٹنے کے دوران تین نوجوانوں پر حملہ؛ مینگلور میں پیش آیا واقعہ

  اُڈپی کے ملپے میں بی جے پی کی جانب سے منعقدہ  ماہی گیروں کے ایک جلسہ میں شریک ہوکر واپس لوٹنے کے دوران  مینگلور کے  تھوٹا بینگرے میں تین  نوجوانوں پر حملہ کئے جانے کی واردات پیش آئی ہے، جس میں تینوں کو شدید چوٹ لگی ہے اور اُنہیں مینگلور کے نجی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

اسلام میں عورت کے حقوق ...............آز: گل افشاں تحسین

صدیوں سے انسانی سماج اور معاشرہ میں عورت کے مقام ومرتبہ کو لیکر گفتگو ہوتی آئی ہے ان کے حقوق کے نام پر بحثیں ہوتی آئی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے عورت کے حقوق کے نام پرمختلف تحریکیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں اور صنف نازک کے مقام ومرتبہ کی بحثوں نے سنجیدہ رخ اختیار کیا ...

نوئیڈا میں پولیس انکاؤنٹر میں انعامی بدمعاش ہلاک

ضلع کے تھانہ کاسنہ علاقے کے اومی کرن سیکٹر کے پاس گزشتہ رات پولیس اور بدمعاشوں کے درمیان انکاؤنٹر میں گولی لگنے سے ایک انعامی بدمعاش کی موت ہو گئی۔بدمعاشوں کی طرف سے چلائی گئی گولی سے ایک سپاہی بھی زخمی ہوا ہے۔

این اے حارث نے فرزند کی حرکت پر اسمبلی میں کی معذرت خواہی

رکن اسمبلی این اے حارث کے فرزند نلپاڈ محمد کی طرف سے کل پیر کو ایک طالب العلم کو زودوکوب کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد آج این اے حارث نے ریاستی اسمبلی میں معذرت طلب کی اور کہا کہ ان کے بیٹے کی حرکت کی وجہ سے  اُنہیں جس طرح ندامت اُٹھانی پڑی، وہ وقت کسی باپ پر نہ آئے۔