بی بی ایم پی میں اقتدار کیلئے کانگریس جے ڈی ایس اتفاق، سمپت راج کو میئر کا عہدہ متوقع

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 12:04 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 12؍ستمبر (ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) برہت بنگلورمہانگر پالیکے میں کانگریس اور جنتادل (ایس) کے درمیان اتحاد برقراررکھنے کے سلسلے میں آج وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی کی کوشش اور اس سلسلے میں سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ان کی بات چیت کامیاب نظر آرہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ آج رام لنگا ریڈی نے سابق وزیراعظم کو اس بات کیلئے منالیا ہے کہ وہ بی بی ایم پی میں کانگریس کا ساتھ دینا برقرار رکھیں، بات چیت کے دوران جو فارمولہ طے ہوا ہے اس کے مطابق ریزرویشن کے تحت رواں سال میئر کا عہدہ درج فہرست ذات سے وابستہ کارپوریٹر کو دیاجائے گا اور امکان ہے کہ یہ عہدہ دیور جیون ہلی کے کارپوریٹر سمپت راج حاصل کریں گے، جبکہ ان سے متصل وارڈ کاول بائر سندرا کی کارپوریٹر جنتادل (ایس) کی نیترا لکشمی نارائن جو فی الوقت بی بی ایم پی کی اکاؤنٹس کمیٹی کی چیر پرسن ہیں ڈپٹی میئر بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ میئر کے عہدہ کیلئے ایک اور اہم دعویدار سبھاش نگر کے کارپوریٹر گووند راج بھی ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے برہت بنگلور مہانگر پالیکے میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کو بچانے کی ذمہ داری بنگلور کے دو وزراء کو سونپی ان میں کچھ دنوں پہلے وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے دیوے گوڈا سے ملاقات کرکے گذارش کی کہ بی بی ایم پی میں کانگریس ، جے ڈی ایس اتحاد برقرار رکھاجائے۔ اسی وقت سابق وزیراعظم نے اس بات پر رضامندی ظاہر کردی تھی، مگر اس شرط پر کہ بی بی ایم پی کے امور میں وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج زیادہ مداخلت نہیں کریں گے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج رام لنگا ریڈی نے سابق وزیر اعظم سے بات چیت کو آگے بڑھایا اور انہیں اس بات کیلئے منالیا کہ بنگلور میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد برقرار رہے۔ بتایاجاتاہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں سابق وزیراعظم ایچ ڈی کمار سوامی سے بھی بات چیت کی ہے اور انہوں نے بھی جے ڈی ایس کی طرف سے کانگریس کی حمایت برقراررکھنے کا یقین دلایا۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کی ہدایت پر آج رام لنگا ریڈی نے کے پی سی سی کے خازن کرشنم راجو کے ہمراہ جے ڈی ایس قائدین سے ملاقات کی، اس دوران کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد کی پہل کو کامیاب ہوتے دیکھ کر بی جے پی نے بی بی ایم پی کے اقتدار پر اپنی دعویداری کمزور کردی ہے، آج سابق وزیرآر اشوک نے یہ بیان دیاہے کہ بی جے پی کو بی بی ایم پی میں اقتدار حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جنتادل (ایس) کے ساتھ بی جے پی کسی بھی حال میں مفاہمت کیلئے آمادہ نہیں ہے۔کانگریس اور جے ڈی ایس نے بنگلو رمیں جمہوریت کا گلا گھونٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔ اس کا انتقام اگلے بی بی ایم پی انتخابات میں شہر کے عوام ضرور لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی دو میعادوں میں کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد نے بڑے پیمانے پر کرپشن کیا ہے، شہر بھر میں موسلادھار بارش کی وجہ سے سینکڑوں محلوں میں پانی گھس گیا ، اس سے نمٹنے کی بجائے کانگریس اور جنتادل (ایس) اقتدار کی سودے بازیوں میں لگے ہوئے ہیں۔وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج کہتے ہیں کہ بارش کے پانی کی نکاسی کیلئے گندگی کی صفائی اور دیگر کاموں پر ہزاروں کروڑ روپیوں کی رقم صرف کی جاچکی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر شہر میں بارش کا پانی باہر کی طرف کیوں نہیں بہہ رہا ہے؟ ہزاروں کروڑ کی رقم جو صرف کی گئی ہے اس کا حساب دیا جائے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک کی کانگریس حکومت پر نشانہ لگانے پر سدرامیا نے کیا پلٹ وار؛ کہا مودی میں وزیراعظم بننے کی صلاحیت ہی نہیں

کرناٹک کی کانگریس حکومت پر نشانہ سادھنے پر پلٹ وار کرتے ہوئے ریاست کے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے وزیراعظم نریندر مودی کو جھوٹ کا پلندہ   قرار دیتے ہوئے    کہا  کہ نریندر مودی   میں وزیراعظم بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے

کانگریس لیڈر کی بی بی ایم پی دفتر کو آگ لگادینے کی دھمکی؛سی سی ٹی وی میں قیدہوا پورا منظر؛ سدارامیا نے دکھایا پارٹی سے باہر کا راستہ

کانگریس لیڈر نارائن سوامی کے  بی بی ایم پی دفتر میں گھس کر پٹرول چھڑکنے اوردفتر کو آگ لگادینے کی دھمکی کی وڈیو نیوز چینلوں میں نشر ہونے کے بعد فوری حرکت کرتے ہوئے سدرامیا نے نارائن سوامی کو   کانگریس پارٹی سے باہر کا راستہ دکھادیا ہے۔

این اے حارث نے فرزند کی حرکت پر اسمبلی میں کی معذرت خواہی

رکن اسمبلی این اے حارث کے فرزند نلپاڈ محمد کی طرف سے کل پیر کو ایک طالب العلم کو زودوکوب کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد آج این اے حارث نے ریاستی اسمبلی میں معذرت طلب کی اور کہا کہ ان کے بیٹے کی حرکت کی وجہ سے  اُنہیں جس طرح ندامت اُٹھانی پڑی، وہ وقت کسی باپ پر نہ آئے۔