پارلیمنٹ کے مانسون سیشن سے پہلے کانگریس نے کہا: بندوق سے نہیں حل ہو سکتا کشمیر مسئلہ

Source: S.O. News Service | Published on 16th July 2017, 10:23 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،16/جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پارلیمنٹ کے پیر سے شروع ہو رہے مانسون سیشن سے پہلے چین کے ساتھ سکم سیکٹر میں کشیدگی اور کشمیر معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ان موضوعات پر بحث ہونی چاہیے۔کانگریس نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے مسائل پر پارٹی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔حکومت نے سیشن سے پہلے کل جماعتی میٹنگ بلائی اور ایوان کی کارروائی آسان طریقے سے چلانے کے سلسلہ میں تعاون مانگا۔کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی، پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار، مرکزی وزیر ارون جیٹلی، راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد،سی پی آئی کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری،این سی پی کے شرد پوار جیسے لیڈر موجود تھے۔ترنمول کانگریس، جے ڈی یو سے کوئی لیڈر موجود نہیں تھا۔کل جماعتی میٹنگ کے بعد کانگریس نے کہا کہ بندوق کشمیر میں کشیدگی ختم کرنے کا راستہ نہیں ہو سکتا ہے اور وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کل سے شروع ہو رہے پارلیمنٹ سیشن کے دوران اس مسئلے کو اٹھائے گی۔کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو بتایا ہے کہ داخلی اور بیرونی سیکورٹی سے متعلق کچھ حساس مسائل ہیں اور پارلیمنٹ سیشن کے دوران ان پر بحث کیے جانے کی ضرورت ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت نے کشمیر میں بات چیت کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں،جس سے سیاسی گھٹن کی حالت بنی ہے۔انہوں نے کہاکہ بندوق سے کشمیر میں کشیدگی کا حل نہیں نکالا جا سکتا ہے۔اگر حکومت سوچتی ہے کہ کشمیر میں کشیدگی ختم کرنے کا واحد راستہ بندوق ہے،تو پھر ہم ان کے ساتھ نہیں ہیں۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا کہ پہلے جب بھی کشمیر کا مسئلہ اٹھا، اس میں پاکستان کے بارے میں بحث ہوئی، لیکن اب ہم چین کے بارے میں پڑھ اور سن رہے ہیں۔آزاد نے کہا کہ سکم سیکٹر میں بھوٹان کے پاس چین کے ساتھ جاری تعطل کے مسئلہ پر بھی بحث ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ قومی سلامتی سے جڑے مسائل پر حکومت کے ساتھ ہیں، لیکن داخلی اور بیرونی سیکورٹی کے کچھ حساس مسائل ہیں اور ان پر سیشن کے دوران بحث کئے جانے کی ضرورت ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ قومی سلامتی سے منسلک موضوعات کے علاوہ اپوزیشن مدھیہ پردیش میں کسانوں سے منسلک مسائل، جی ایس ٹی سے متاثر ٹیکسٹائل کی صنعت اور ملازمین کے مسائل، آسام میں سیلاب کی صورتحال جیسے مسائل پر بھی بحث کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو بحث کے لیے آگے آنا چاہیے اور اپوزیشن کی بات کو سننا چاہیے۔آزاد نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے حق میں نہیں ہیں، لیکن حکومت جب ان کے واجب مطالبات پر توجہ نہیں دیتی ہے، پھر وہ اس کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

سوشل میڈیا سے کیوں رہتے ہیں نتیش کماربرہم، اسٹیج پر کیا انکشاف، پہلے بخار وائرل ہوتا تھااب فرضی فوٹو اور ویڈیو وائرل ہوتے ہیں : نتیش کمار 

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سوشل میڈیا سے خفا ہیں، انہیں سوشل میڈیا نہیں راس آتا ہے ۔ سوشل میڈیا کے تئیں ان کی کیا رائے ہے اس سلسلے میں ا نہوں ا زخود اس کا خلاصہ کیا ہے ۔

آسارام کیس کے متعلق آنے والے فیصلہ کا لیڈران نے خیر مقدم کیا، اب وقت آگیا ہے کہ سچے اور ڈھونگی باباؤں کے درمیان تمیزکی جائے: اشو ک گہلوت 

سیاسی لیڈران اور سماجی کارکنوں نے نابالغ لڑکی کی عصمت دری کے معاملہ میں خود ساختہ بابا آسارام کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلہ کا استقبال کیا ہے

ہنس راج اہیر نے بائیں باز کی انتہا پسندی والے علاقوں میں موبائل رابطے کا جائزہ لیا 

امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب ہنس راج گنگا رام اہیر نے آج یہاں ملک کے بائیں کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ اضلاع میں موبائل رابطے کے مسئلے کا جائزہ لینے والی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔

کابینہ نے راجستھان کے معاملے میں درج فہرست علاقوں کے اعلان کو منظوری دی 

مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں آئینی حکم (سی۔ او) 114 بتاریخ12فروری1981کورد کرتے ہوئے آئین ہند کی پانچویں فہرست کے تحت راجستھان کے معاملے میں درج فہرست علاقوں کے ا علان اورنئے آئینی حکم کی اشاعت کو منظوری دی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ گاندھی نگر میں مغربی زونل کونسل کی 23ویں میٹنگ کی صدارت کریں گے 

گجرات، مہاراشٹر، گوا کی ریاستوں اورمرکزکے زیر انتظام علاقے دمن و دیو اور دادرا و نگر حویلی پر مشتمل مغربی زونل کونسل کی23ویں میٹنگ کل گجرات کے شہر گاندھی نگر میں منعقد ہوگی ۔مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اس میٹنگ کی صدارت کریں گے۔