سپریم کورٹ میں روہنگیائی مسلمانوں کی عرضی ،کہاہم دہشت گرد نہیں ہیں، غریب مسلمان ہیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 9:32 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،13؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کوہندوستان سے باہر نکالے جانے کے سرکارکے قدم کے درمیان کمیونٹی نے سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹایا ہے۔کمیونٹی نے عدالت میں ایک درخواست دائر کرکے کہا ہے کہ ان کا دہشت گردی اورکسی بھی دہشت گردانہ تنظیم کے ساتھ کوئی لینادینا نہیں ہے۔اپنی درخواست میں روہنگیا کمیونٹی نے یہ بھی کہا کہ وہ صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔جموں میں رہنے والے 7000روہنگیا پناہ گزینوں نے دعوی کیا ہے کہ ہمارا دہشت گردی میں کوئی واسطہ نہیں ہے،یہاں تک کہ جب سے ہم جموں میں رہ رہے ہیں، ہمارے خلاف ایساکوئی بھی الزام نہیں لگا،ہمارے درمیان میں سے کوئی بھی شخص دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں پایا گیا تھا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقامی پولیس نے ایک سال پہلے روہنگیا مسلمانوں کے خاندان کی مکمل تحقیقات کی تھی۔یہ بھی کہا گیا تھا کہ پولیس نے ہر خاندان کی مکمل معلومات جمع کی تھی،ہر ماہ پولیس یہاں تحقیقات کرتی ہے،تمام روہنگیائی مسلم پناہ گزین پولیس کامکمل تعاون کرتے ہین اور انہیں تمام ضروری معلومات دیتے ہیں،ہمارے درمیان ایک بھی دہشت گرد نہیں ہے۔روہنگیاپناہ گزینوں نے ااپنی درخواست میں مرکزی حکومت کے قدم کو مساوات کے حق کی خلاف ورزی بتایاہے۔انہوں نے کہا کہ ہم غریب ہیں اور مسلمان ہیں، اس لئے ان کے ساتھ ایسا کیا جا رہا ہے۔اس درخواست پراگلے پیرکوسماعت ہوگی ۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں ایک بینچ معاملے پرسماعت کرے گی۔

روہنگیائی مسلمانوں کی اس درخواست کے ساتھ ہی پرشانت بھوشن کی درخواست پربھی سماعت کی جائے گی،بھوشن نے روہنگیا پناہ گزینوں کو میانمار واپس بھیجنے کے خلاف درخواست دائرکی ہے۔بتادیں کہ وزارت داخلہ کے مطابق 14ہزار روہنگیا پناہ گزین قانونی طور پر ہندوستان میں رہ رہے ہیں،جبکہ 40ہزار سے زائد افرادایسے ہیں جو غیر قانونی طور پر پناہ گزین ہیں۔بتادیں کہ ہندوستانی حکومت نے غیرقانون طورپررہ رہے روہنگیا مسلمانوں کو میانمار واپس بھیجنے کا فیصلہ کیاہے۔جب کہ وہاں سے کمیونٹی کے لوگوں پر ظلم کی تصاویرسامنے آرہی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

داؤد کی اہلیہ کو ہندوستان سے واپس جانے کے متعلق جواب دیں مودی: کانگریس

کانگریس کا کہنا ہے کہ انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی بیوی کا چپ چاپ ہندوستان آنا اور پاکستان لوٹنا ملک کی سلامتی کا سنگین معاملہ ہے اس لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو اس پر جواب دینا چاہئے۔

ہمارے ملک میں سائنسداں ، ڈاکٹرس اور پڑوسی ملک میں دہشت گرد تیار ہوتے ہیں : اقوام متحدہ اسمبلی میں سشما سوراج کا خطاب

دہشت گردی کو انسانیت کے لیے ’ موجودہ خطرہ ‘ قرار دیتے ہوئے ہندوستان نے یہ جاننا چاہا کہ اگر اقوام متحدہ سلامتی کونسل دہشت گردوں کی فہرست پر اتفاق نہ کرسکے تو پھر بین الاقوامی برادری اس لعنت کا مقابلہ کس طرح کرے گی ۔