اگر نظم ونسق برقرار نہیں تو گجرات میں صدر راج نافذہو،مودی یوپی سے الیکشن جیتتے ہیں،لیکن گجرا ت میں تحفظ دینے میں ناکام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th October 2018, 9:24 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،10؍ اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) گجرات میں شمالی ہند کے لوگوں پر حملے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر شکتی سنگھ گوہل نے بدھ کو کہا کہ اگر ریاستی حکومت قانون کا نظام برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے تو وہاں صدر راج نافذ کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کانگریس لیڈر الپیش ٹھاکر پر تشدد بھڑکانے کے الزامات کو مسترد کیا اور وجے روپانی حکومت کو چیلنج کیا کہ اگر ٹھاکر تشدد کے لئے ذمہ دار ہیں تو ان کو گرفتار کریں۔گوہل نے کہا کہ میرے لیے اورہر گجراتی کے لیے شرم کی بات ہے کہ بی جے پی نے سوچی سمجھی سازش کے تحت اتر پردیش اور بہار کے لوگوں کے خلاف مہم چلائی۔میرے پاس کچھ ثبوت ہیں کہ فیس بک اور واٹس اپ پر بی جے پی کے لوگ یہ مہم چلا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس کوئی کام کی بات نہیں ہے۔اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے یہ سوچی سمجھی سازش رچی گئی۔انہوں نے کہاکہ اگر وہاں کی حکومت نظم ونسق برقرار نہیں رکھ سکتی تو اسے برطرف کر کے صدر راج نافذ کیا جائے۔گوہل نے کہاکہ وزیر اعظم اتر پردیش سے انتخابات جیتتے ہیں اور انہی لوگوں کی گجرات میں کوئی حفاظت نہیں ہے۔ان کا جواب دینا چاہئے۔کانگریس کے بہار انچارج نے کہاکہ بہار اور گجرات کا بہت پرانا رشتہ ہے۔گجرات گاندھی جی کی جائے پیدائش ہے اور بہار ان کی کرم بھومی رہی ہے۔ دونوں ریاستوں کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ الپیش ٹھاکر پر لگ رہے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ٹھاکر نے خود ویڈیو پوسٹ کر کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ امن کو برقرار رکھیں۔اگر وہ ذمہ دار ہیں تو ان پر ایف آئی آر درج کر و اور جیل میں ڈالو۔لیکن یہ حکومت ایسا نہیں کرے گی کیونکہ اس کو صرف سیاست کرنی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

راجستھان میں اس بار 158 کروڑ پتی ممبر اسمبلی

راجستھان کی 15 ویں اسمبلی کے لئے نو منتخب 199 اراکین اسمبلی میں سے 158 کروڑ پتی ہیں۔ سال 2013 کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں یہ تعداد 145 تھی۔ ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کے 99 میں سے 82 ممبران اسمبلی، بی جے پی کے 73 میں سے 58 ممبران اسمبلی، بی ایس پی ...

رافیل ڈیل پر فیصلے میں مبنی بر حقائق ’ اصلاح ‘کی مانگ کو لے عدلیہ پہنچی مرکزی حکومت

رافیل ڈیل پر سپریم کورٹ کے فیصلہ اور اس پر مچے سیاسی گھمسان کے درمیان مرکزی حکومت ایک بار پھر عدالت عظمی پہنچی ہے۔حکومت نے عرضی داخل کرکے رافیل ڈیل پر دیئے گئے فیصلے میں مبنی بر حقائق اصلاح کا مطالبہ کیا ہے۔ مرکز نے سپریم کورٹ سے فیصلے کے اس پیراگراف میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے، ...

پلوامہ تصادم: آخر ایک فوجی نے جنگجوئیت کیوں اختیار کی ؟ ظہور ٹھوکرفوجی کیمپ سے فرار ہو کرجنگجوئیت اختیار کی تھی

جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ہفتہ کو ایک تصادم میں سکیورٹی فورسز نے تین دہشت گردوں کو مار گرایا۔ اس تصادم میں مارے گئے دہشت گردوں میں ظہور احمد ٹھوکر بھی ہے، جو گزشتہ سال جولائی میں فوج کے کیمپ سے فرار ہو کر دہشت گرد تنظیم میں شامل ہو گیا تھا۔بتایا جا رہا ہے کہ مقامی باشندے ...

چھتیس گڑھ میں کون بنے گا وزیر اعلی؟ راہل گاندھی نے کیا اشارہ

پی اور راجستھان میں سی ایم کا اعلان کرنے کے بعد چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی کے عہدے پر کانگریس میں پیچ پھنسا ہوا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے پی اور راجستھان کی طرح آج بھی ٹویٹر پر چھتیس گڑھ کے تمام سی ایم دعویداروں کے ساتھ تصویر تو پوسٹ کر دی ہے لیکن وزیر اعلی کون ہوگا اس پر پارٹی ...