آسام میں شہریت ثابت کرنے کے لیے پنچایت سرٹیفیکٹ درست : سپریم کورٹ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th December 2017, 8:05 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی5؍دسمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز)سپریم کورٹ نے آج آسام کے لاکھوں افراد کی شہریت سے متعلق ایک انتہائی اہم کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے پنچایت لنک سرٹیفیکٹ کی حیثیت کو بحال کردیا ہے جس کے بعد تقریبا 48؍لاکھ شادی شدہ خواتین کو اپنی شہریت پر لٹکی تلوارسے راحت ملی ہے۔مزید برآں عدالت نے شہریت کے سلسلے میں سرکار کے دوہرے رویے کو بھی خارج کردیا ہے اور سرکار سے کہا کہ اصلی اور غیر اصلی شہری میں لوگوں کو نہ بانٹے ، شہریت کے لیے صرف ایک کٹیگری ہو گی :’ وہ بھارت کی شہریت ہے‘ ، اس لیے صرف ثبوت کی بنیاد پر بات کی جائے ۔ اس کے ساتھ ہی آج جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس نریمن پر مشتمل عدالت عظمی کی دو رکنی بنچ نے 28 فروری 2017 کوگوہاٹی ہائی کورٹ کے ذریعہ دیے گئے اس فیصلے کو رد کر دیا جس میں این آر سی میں اندراج کے لیے پنچایت سر ٹیفیکٹ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا تھا۔

اس فیصلے کو جمعیہ علما ء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا مولانا سید محمود اسعد مدنی اور جمعیہ علماء صوبہ آسام کے صدر ورکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے انصاف کی جیت اور تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے لاکھوں لوگوں کی شہریت کے تحفظ کا ضامن قرار دیا ہے ،ان دونوں حضرات نے انصاف کی اس لڑائی میں شریک تمام حضرات نیز اس کے لیے دعا ؤں کا اہتمام کر نے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

آسا م میں ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ان لوگوں کو شدید دشواری ہو گئی تھی جو پنچایت سرٹیفیکٹ کو معاون دستاویز کے طور پر صرف اس بات کو ثابت کر نے کے لئے جمع کررہے تھے کہ وہ فلاں کی بیٹی یا بیٹا ہے اور شادی یا کسی اور وجہ سے فلاں گاؤں سے فلاں گاؤں منتقل ہوکر رہائش پذیر ہوگئے ہیں۔معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود اسعد مدنی اور جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل کی ہدایت پر جمعیۃ علماء صوبہ آسام نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اسی سال مارچ میں سپریم کورٹ میں دو متاثرین کی جانب سے پٹیشن داخل کیا تھا جس پر سماعت 22 نومبر کو مکمل ہو گئی تھی،آج اسی کا فیصلہ آیا ہے ۔

اس درمیان اصلی اور غیر اصلی شہریت کا معاملہ بھی سامنے آیا جو انتہائی تفریق کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا ،این آرسی کے کو آرڈینیٹر مسٹر پرتیک ہزیلا نے 12 اکتوبر 2017 کو اپنے ایک حلف نامہ میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ پنچایت سرٹیفیکٹ کے رد ہونے سے متاثر ہو نے والے 48 لاکھ لوگوں میں سے تقریبا 17 لاکھ اصلی شہری (inhabitant original ) ہیں اور باقی کی شہریت کی تحقیق و تصدیق کا کام جاری ہے۔ اس اصلی اور غیر اصلی کی تقسیم کے پیچھے کی سازش کو سمجھتے ہوئے جمعیہ علما ء ہند کے سکریٹری مولانا محمود مدنی اور جمعیہ علماء صوبہ آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل کی ہدایت پر اس کے تقسیم کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کر کے اس کی وضاحت اور اس تقسیم کی بنیاد اور تعریف کرنے کی مانگ کی گئی۔ سپریم کورٹ میں آسام سرکار اور مرکزی سرکار کے وکلاء اس کی جامع تعریف کرنے اور تشفی بخش جواب دینے میں ناکام رہی۔

جمعیۃ علماء ہند نے ا ن مقدمات کی پیروی کر نے کے لئے سینئر وکلاء کی ایک ٹیم کی خدمات حاصل کی تھی جن میں سینئر ایڈووکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی، سینئرایڈووکیٹ راجو راما چندرن،سینئر اڈووکیٹ بی ایچ مار لاپلے،سینئر اڈووکیٹ اعجاز مقبول،سینئر ایڈووکیٹ شکیل احمد، سینئر ایڈووکیٹ نذرالحق مزار بھیا،ایڈوکیٹ عبدالصبور تپادار، ایڈووکیٹ قاسم تعلق دار، ایڈووکیٹ امن ودود وغیرہ شامل تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بتیامیں شرپسندوں کے ذریعہ مسجدومدرسہ پر حملہ قابل مذمت:مولانااسرارالحق قاسمی

ممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے یوم آزادی کے موقع پر چمپار ن کے بتیاکی ہاتھی خانہ مسجد ومدرسہ پرشرپسندوں کے ذریعہ کئے گئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کامطالبہ کیاہے۔انہوں نے کہاکہ آج کے دن جبکہ پورا ملک آزادی کا جشن منارہاہے اور ہر ...

وینکیانائیڈونے واجپئی کوآزادہندوستان کاسب سے بڑالیڈربتاکرخراج عقیدت پیش کیا

نائب صدر ایم وینکیا نائیڈونے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے انتقال پر گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کوملک کے لیے ناقابل تلافی نقصان بتایا ہے۔نائیڈو نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ یہ خبرانتہائی افسوسناک ہے کہ اٹل جی نہیں رہے۔میں آج صبح ہی ان کی صحت کی معلومات لینے ...

ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ نے شکرتال گھاٹ پر بہاؤ میں تیزی لانے پر تبادلہ خیال کی خاطر میٹنگ کی 

آبی وسائل، دریا کی ترقی اور گنگا کے احیاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ نے آج شکرتال گھاٹ پر پانی کے بہاؤ میں تیزی لانے کے معاملے پر ایک میٹنگ کی صدارت کرتیہوئے اترپردیش اور اتراکھنڈ کے آبپاشی کے محکموں کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ دریائے گنگا کی معاون ندی سلونی میں ...

جامعہ رحمانی مونگیر: جنگ آزادی کے موضوع پر سیمینار اختتام پذیر، علماء ودانشور کا آزادی کی193 سالہ جدوجہد اور دستورکی معنویت پر اظہارِخیال

جامعہ رحمانی مونگیر میں یوم آزادی کی تقریب بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوگئی، صبح آٹھ بجے پرچم کشائی کی گئی، اور بعد نماز ظہر تین بجے یوم آزادی کی جدوجہد پر سیمینار شروع ہؤا، جس کی دوسری نشست بعد نماز مغرب منعقد کی گئی، اس سیمینار میں جامعہ رحمانی کے تین اساتذہ مولانا رضاء الرحمان ...

ملک کے22ریلوے اسٹیشنوں پر یوم آزادی سے ڈجیٹل اسکرینز کام کرتے رہیں گے، ریلوے کی وراثت کے بارے میں کیوآر کوڈ پرمبنی پوسٹر بھی ان اسٹیشنوں پر چسپاں کیے گئے ہیں 

ریلوے اسٹیشنوں پر کیو آر کوڈ استعمال کرتے ہوئے ڈجیٹل میوزیم قائم کئے جانے کے وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خواب کے پیش نظر ریلوے کی وزارت نے 15 اگست 2018 کو یوم آزادی کے موقع پر ملک کے 22 ریلوے اسٹیشنوں پر ڈجیٹل اسکرینز شروع کردئے ہیں ۔یہ ڈجیٹل اسکرینز عوام الناس میں ہندوستان کی ...

لال قلعہ کی فصیل سے وعدوں کی پھلجھڑیاں 2019 کے الیکشن کی تیاری ہیں ؟ طلاق بل پرمسلم خواتین جھانسے میں آنے والی نہیں ہیں:ڈاکٹرمنظورعالم 

لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ پانچواں خطاب بھی گذشتہ چار خطابات کی طرح حقائق کے خلاف اورچناوی جملوں پر مشتمل تھا ، انہوں نے یوم جمہوریہ جیسی تقریب کے موقع پر بھی عوام کے ساتھ جھوٹ بولنے اور ناکامیوں کوکامیابی شمار کرانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی ۔انہوں نے ...