بھٹکل میں وزیراعلیٰ سدرامیا نے لیا مودی اور اننت کمار ہیگڈے کو آڑے ہاتھ؛ منکال وئیدیا کی شان میں قصیدہ؛ ٹکٹ ملنے کے واضح اشارے

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 6th December 2017, 8:14 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل:6/ دسمبر(ایس اؤنیوز) ریاست کے وزیراعلیٰ سدرامیا نے آج بدھ کو بھٹکل کا دورہ کرتے ہوئے جہاں ایک طرف  وزیراعظم نریندر مودی کو سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگانے پر سخت تنقید کی وہیں انہوں نے مودی کے کئے گئے وعدے  پر  عوام سے سوال کیا کہ کیا آپ کے اکائونٹ میں پندرہ پندرہ لاکھ کی رقم جمع ہوئی  ؟  پھر خود جواب دیتے ہوئے  کہا کہ پندرہ لاکھ  کو چھوڑئے،  پندرہ پیسے بھی جمع نہیں کرائے  ہیں۔  حال ہی میں مرکزی کابینہ میں شامل ہونے والے اُترکنڑا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کے تعلق سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  ہیگڈے کی تہذیب  ایسی ہے کہ اُس کا نام بھی زبان پر لینے میں مجھے کراہت محسوس ہورہی  ہے۔ اس موقع پر سدرامیا نے  ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں بھٹکل کے رکن اسمبلی منکال وئیدیا کے قصیدے پڑھتے ہوئے  ان کو ہی کانگریس ٹکٹ ملنے کا واضح  اشارہ دیتے ہوئے عوام سے سوال کیا  کہ کیا آپ آنے والے  انتخابات میں منکال وئیدیا کا ساتھ دیں گے یا نہیں۔

صبح گیارہ بجے بھٹکل  پہنچنے والے سدرامیا قریب دو گھنٹہ تاخیر یعنی دوپہر قریب ایک بجے ہیلی کاپٹر پر سوار ہوکر انجمن میدان میں اُترے ، ان کے ہمراہ ضلعی انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے اور  وزیر مہادیوپا  موجود تھے۔ بھٹکل رکن اسمبلی منکال وئیدیا، ویسٹرن رینج کے انسپکٹر جنرل آف پولس  ہیمنت نمبالکر ، ضلع کے ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول اور سپرنٹنڈنٹ آف پولس ونائک پاٹل سمیت کافی آفسران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ یہیں پر انہوں نے میڈیا کے ذریعے پوچھے گئے مختلف سوالوں کے جوابات دئے۔ بعد میں وہ سیدھے ساگر روڈ پر واقع پولس پریڈ میدان پہنچے جہاں  ہزاروں کی تعداد میں لو گ ان کی آمد کے منتظرتھے۔

 وزیراعلیٰ سدرامیا نے اپنے خطاب کے ابتدا میں ہی کہا کہ بھٹکل ودھان سبھا حلقہ کی تاریخ میں آج کا دن ، سنہرا دن ہے کیونکہ ہم لوگ آج ایک بڑی خطیر رقم یعنی  1200کروڑ روپیوں کے ترقی جاتی کاموں کا افتتاح  اور سنگ ِ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ منکال وئیدیا کے تعلق سے سدرامیا نے کہا کہ وہ ایک سنجیدہ آدمی ہیں،  باتیں کم کرتے ہیں لیکن کام زیادہ کرتے ہیں۔ یہی ان کی خصوصیت ہے۔ وہ جب بھی میرے پاس آتے ہیں ہاتھوں میں کئی کاغذات ہوتے ہیں ان کی شرافت اور عاجزی کو دیکھتے ہوئے ہمیشہ میں نے ان کےکاموں کو منظوری دی ہے۔ متحرک اور عوامی فکر رکھنے والے چند ہی ارکان اسمبلی میں سے ایک منکال وئیدیا بھی ہیں۔ آج جو کچھ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے  وہ سب سچ ہے۔ جو کام کیا ہے اسی کا انہوں نے تذکرہ کیاہے۔ جس طرح آج وہ کانگریس کے ہیں آگے بھی وہ کانگریسی ہی رہیں گے ۔

سدرامیا نے کہا کہ ہمیں بھی عوامی فکر کے لوگ چاہئے اور عوام کو  بھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہے ، سرکاری منصوبہ جات کو عوام تک پہنچانے میں رکن اسمبلی کا کردار اہم ہوتاہے۔ منکال وئیدیا نے کبھی بھی بنگلورو میں رہ کر وقت گزاری نہیں کی  بلکہ اپنے حلقہ کے عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کرنےکی کوشش کی ہے ، حلقہ کی ہمہ جہت ترقی کے لئے جدوجہد کی ہےآج بھی اُن کے  ہر وزیر کے ساتھ اچھے تعلقات  ہیں ، جن کے ذریعے  اپنے  اسمبلی حلقہ کا  کام کراتےہیں۔  ایسے سرگرم اور کام کرنے والے  لوگوں کی ہر جگہ ضرورت ہے ۔انہوں نے 20 ہزار سے زائد لوگوں سے سوال کیا کہ کیا آنے والے الیکشن میں بھی آپ انہیں آشرواد دیں گے  ؟

منکال وئیدیا کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ انہوں نے بتایا ہے کہ سرکار نے اُن کی تمام درخواستوں کو قبول کیا ہے  اور اب صرف ایک پینے کے پانی کا مسئلہ باقی ہے جس کے لئے فنڈ کی ضرورت ہے،  سدرامیا نے اعلان کیا کہ  وہ  بہو گرام پینے کے پانی کے لئے  169کروڑروپئے بھٹکل کےلئے منظور کرتے ہیں۔ سدرامیا نے بھٹکل کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے انتخابات میں بھی منکال وئیدیا کو ہی جیت دلائیں۔

بی جے پی پر راست حملہ بولتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ بی جے پی  والے صرف بھاشن دیتے ہیں انہوں نے کبھی عوامی کام نہیں کیا ۔سدرامیا نے کہا کہ  سیاست میں راج دھرم پر عمل ہونا چاہئے۔لیکن دھرم کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ راج دھرم  تمام طبقات اور سبھی ذاتوں کو ساتھ لے کر یکسانیت اور مساوات کی نظر سے دیکھتے ہوئے ان سے انصاف کرنے کا نام ہے۔اور ہمارا اسی پر یقین ہے۔

مودی پر راست حملہ کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ انہوں نے بھاشن دیتے ہوئے کہا تھا کہ  ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘ ہوگا۔ انہوں نے عوام سے پوچھا کہ کیا آپ کا وکاس ہوا ؟  وزیراعلیٰ نے کہا کہ  ایک دھرم  یا  ایک ذات کو باہر رکھ کر وکاس کی بات کرنا بے وقوفی اور  صرف دکھا واہے۔ بھارت میں 125 کروڑ لوگ رہتے ہیں، اور یہ سبھی ہندوستانی ہیں۔ اس میں  کئی ذاتیں، کئی دھرم  اور کئی زبانیں بولنے والے لوگ شامل ہیں۔ لیکن بی جے پی  ملک کے عوام کے درمیان نفرت اور دشمنیاں پھیلانے کا کام کررہی ہے، جس کی کڑی مذمت ہونی چاہئے۔ملک کے عوام کو آپس میں پیار اور محبت سے رہنے کا ماحول فراہم کرنا چاہئے  تب کہیں جا کر ملک کی سالمیت ، یک جہتی ، مساوات ، سماجی انصاف ، دستورکی عزت باقی رہتی ہے۔ گذشتہ ساڑھے چار سالوں میں ہم نے ہر  دھرم، ہر ذات اور ہرزبان والوں کا کوئی نہ کوئی کام کیا ہے۔ ہم سب دھرموں ، ذاتوں کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتےہیں۔ غریب ، غریب ہوتاہے اس کا کوئی دھرم نہیں ہوتا،ہر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کو سماجی انصاف اور  معاشی سہولیات فراہم کریں۔

ریاستی کانگریس حکومت کی جانب سے کئے جانے والے کاموں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے سدارامیا نے بتایا کہ ہم نے 1کروڑ 8لاکھ سے زائد لوگوں کو بی پی ایل کارڈ تقسیم کئے ہیں۔ 4کروڑلوگوں کو  ہر ماہ مفت چاول تقسیم کیا ہے۔ اور یہ سب  الیکشن کو دیکھتے ہوئے نہیں دیا گیا ہے، بلکہ  اقتدار سنبھالنے کے صرف آدھے گھنٹے میں ہم نے یہ منصوبے جاری کئے ہیں۔  مزید بتایا کہ ہماری سرکار نے  انا بھاگیہ منصوبہ 13مئی 2013کو  جاری کیا تھا۔ ہماری سرکار  ہفتہ میں پانچ دن  ایک کروڑ دو لاکھ  بچوں کو اسکولوں کےذریعے دودھ فراہم کرتے ہیں ۔ جس میں ہر دھرم  اور ہرذات کے طلبا شامل ہوتے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف یہی ہے کہ ریاست کو  بھوک سے نجات دلائی جائے۔ ریاست میں کوئی بھوکا نہ سونے پائے۔  

بی جےپی کو پھر ایک بار آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ ہماری سرکار کرناٹک کو  بھوک مکت ریاست بنانا چاہتے ہیں مگر بی جے پی والے کہتے ہیں کہ  وہ کرناٹک کو  کانگریس مکت ریاست بنائیں گے۔انہوں نے پورے وثوق کے ساتھ کہا کہ  اننت کمار ہیگڈے اور  یڈیورپا جیسے سینکڑوں لیڈر وں سے بھی کانگریس مکت کرناٹک کرنا ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ کانگریس نے ملک کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ ملک کو آزادی دلانے کے لئے مہاتما گاندھی کے ساتھ مل کر انگریزوں کو وطن سے باہر نکالاہے۔ مزید کہا کہ  بی جے پی والوں نے  کبھی ہندوستان کی آزادی کے لئے جدوجہد نہیں کی، کسی نے ملک کے لئے کوئی قربانی نہیں دی ، انہوں نے سوال کیا کہ آخر بی جے پی والوں نے اس ملک کو دیا کیا ہے ؟   

یڈیورپا کی پریورتنا ریلی پر وزیر اعلیٰ نے سوال کیا کہ آخر انہوں نے ان ریلیوں کے ذریعے کس  طرح کا پریورتن کیا ؟ یہ لوگ صرف ذات پات کی باتیں  کرتے ہیں، دھرموں کے درمیان نفرت اور آگ لگانے کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ سکیولرزم کے مخالف ہیں ان کی تبدیلی ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ  عوام کے اندر پریورتن لانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بی جے پی پر مزید وار کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ بی جے پی  نے اپنے   پانچ سال کی میعاد  میں 3-3وزیرا علیٰ بدلے  ہیں، ان سے پوچھئے کہ انہوں نے اُن پانچ سالوں میں کیا کیا ہے ۔ کچھ کریں گے تو بولیں گے، کچھ کیا ہی نہیں تو کیا بولیں گے۔

سدرامیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے اپنے ساڑھے چار سالوں میں ریاست میں  انا بھاگیہ، اکشھیر بھاگیہ، کرشی بھاگیہ ، پشو بھاگیہ ،شادی بھاگیہ، انیل بھاگیہ،شو بھاگیہ، میتری ، آروگیا بھاگیہ، ودیا شری ، اندراکینٹن  سمیت کئی  منصوبوں  کو جاری کیا ہے۔ کہنے کو بی جے پی  کے پا س کچھ بھی نہیں ہے ۔اُن کے پاس کہنے لائق کچھ ہے تو وہ صرف دو منصوبوں کو وہ بار بار دھراتے ہیں ، ایک  سیرا (ساڑھی)   دیا ہے ایک سائیکل دیا ہے۔ تیسرا اگر کچھ کہہ سکتے ہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں اُن کے لیڈران  جیل جاکر آئے ہیں۔

بی جے پی کو بدعنوان پارٹی قرار دیتے ہوئے زبردست وار کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ یڈیورپا جیل جاکر آکر آئے ہیں، اُن کے وزیر جناردھن ریڈی ، کرشنیا شٹی، کٹاسبرمنیہ نائیڈو، آنند سنگھ ،ہالپا، سریش بابو سب کے سب جیل جاکر باہر آئے ہیں، اتنے ہی نہیں ، ان کی  بہت لمبی فہرست ہے ۔ان کے تعلق سے مزید کہا کہ یہ سبھی لوگ ریاست کو لوٹ کر جیل گئے تھے ، انہوں نے پوچھا کہ کیا ایسے لوگوں سے ہمیں سبق سیکھنے کی ضرورت  ہے ؟   مزید کہا کہ  امیت شاہ جب گجرات کے وزیر داخلہ تھے تو قتل کے ایک کیس میں جیل جاچکے ہیں۔ انہوں نے پراعتماد لہجے میں بتایا کہ  کرناٹکا کی تاریخ میں ایک بھی بدعنوانی کا معاملہ نہیں ہے ، ہم نے  پاک صاف اور شفاف حکومت  کی ہے۔ مگر بی جےپی والے رشوت خوری میں ڈوب چکے ہیں۔

سدرامیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مودی نے کہا تھا کہ اچھے دن آنے والے ہیں، مگر یہ دن  کب آئیں گے کچھ  پتہ نہیں ہے۔ انہوں نےسوال کیا کہ اقلیتوں، دلتوں، عورتوں ، کسانوں کے لئے آخر  اچھے دن کب آئیں گے ؟ مزید کہا کہ مودی نے وعدہ کیا تھا کہ  کالا دھن واپس لاکر ہرایک کے اکاونٹ میں 15/15لاکھ روپئے جمع کرائیں گے۔ انہوں نے عوام سے پوچھا کہ کیا  آپ کے اکائونٹ میں یہ رقم جمع ہوئی ؟ مزید کہا کہ پندرہ پیسے بھی جمع نہیں ہوئے ہیں۔

سدرامیا نے کہا کہ صنعت کاری اور سرمایہ کاری میں پچھلے دوسالوں سے ہم  ملک بھر میں اول نمبر پر پہنچ چکے ہیں۔ جیسا ہم نے کہا تھا اس کے مطابق عمل کرکے دکھایا ہے۔ کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے تعلق سے سدرامیا نے کہا کہ ہم نے قرضوں کی معافی کے لئے بی جے پی والوں کے ساتھ وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی ، لیکن نریندر مودی کسانوں کے قرضے معاف کرانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے پوچھا کہ اس پر   بی جےپی والے خاموش کیوں ہیں؟  مزید کہا کہ  کسانوں کے متعلق بی جے پی کو  بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔سدرامیا نے کہا کہ ہماری حکومت نے  2229506کسانوں کے50ہزارروپیوں تک کے 8165کروڑروپئے قرضے معاف کئے ہیں۔ اس سے پہلے  من موہن سنگھ کی سرکار نے 72ہزارکروڑ  کے قرضے معاف کئے تھے مگر  نریندر مودی  ایسا کرنے تیار ہی نہیں ہیں۔ ٹیپو سلطان کے تعلق سے سدرامیا نے بتایا کہ  جگدیش شٹر نے بی شیخ علی کی کتاب پر تمہید لکھتے ہوئے ٹیپو کو وطن پرست قرار دیا تھا اور یڈیورپا نے ٹیپو کی ٹوپی اور تلوار لے کر اس کے گن گائے تھے۔مگر جیسے ہی ہم نے ٹیپو جینتی منانے کا اعلان کیا ان کی مخالفت  کرنی شروع کردی۔

بی جے پی پر مزید وارکرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ بی جے پی والوں کی زبان ان کی تہذیب کو ظاہر کرتی ہے۔ بی جے پی والے کہتے ہیں کہ ہماری ایک سنسکرتی ہے۔انہوں نے اننت کمارہیگڈے کے حالیہ بیانوں کو نشانہ بناتے ہوئے پوچھا کہ کیا  تہذیب اسی کو کہتے ہیں ؟ کیا اُن کے نزدیک یہی سنسکرتی ہے ؟  انہوں نے اننت کمار ہیگڈے پر مزید وار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں  پارلیمنٹ کی زبان تک معلوم نہیں ہے ۔انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا ایسے لوگ رکن پارلیمان ہونے کے  لائق ہے  ؟  سدرامیا نے عوام سے کہا کہ اگر آپ  ملک میں امن اورمساوات چاہتےہیں تو کانگریس کی حمایت کریں۔انہوں نے پھر ایک بار واضح کیا کہ  بی جےپی ایک فرقہ پرست پارٹی ہے۔

آخر میں سدرامیا نے بتایا کہ وہ پھر ایک بار انتخابات کے موقع پر بھٹکل آئیں گے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ کام کرنے والوں کو اُس کی مزدوری دیں ، جو صرف بھاشن دیتے ہیں اور  کام نہیں کرتے، ایسوں کو ووٹ دے کر اپنے  ووٹ کو ضائع نہ کریں۔ 

بھٹکل میں وزیر اعلیٰ کی آمد پر عظیم الشان عوامی اجلاس : اننت کمار کے خلاف منکال وئیدیا کی کڑی تنقید

مودی ہو یا امت شاہ ، ہر ایک کو ریاست کا دورہ کرنے کی اجازت ہے، لیکن فساد برپا نہ کریں : بھٹکل میں وزیراعلیٰ سدرامیا کااخباری نمائندوں کو جواب

 

ایک نظر اس پر بھی

ہوناور معاملہ پر وزیر اعلیٰ سے روشن بیگ کی نمائندگی،حالات پر نظر رکھنے ضلع انچارج وزیر دیش پانڈے کمٹہ روانہ

اترکنڑا کے ہوناور میں 8 دسمبر کو غیر مسلم نوجوان کی مشتبہ حالت میں نعش بازیافت ہونے کے معاملہ کو سنگھ پریوار کی جانب سے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی جو کوششیں ہورہی ہیں،

کنداپور: آٹو رکشہ اور اسکوٹر کے بیچ تصادم ۔ ایک ہلاک

اسکوٹر اور آٹو رکشہ کے بیچ تصادم کے نتیجے میں اسکوٹر سوار ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔کہاجاتا ہے کہ جب آٹو رکشہ اسکوٹر سوار سے ٹکرایا تو اسکوٹر سوار اچھل کر سڑک پر گرگیا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔

ہوناور تشدد: میرا بیٹا کسی بھی تنظیم کا ممبر نہیں تھا: مہلوک کے خاندان والوں نے کیا انصاف کا مطالبہ

ساحل آن لائن کے نمائندوں نے جب ہوناور میں پریش میستا کے گھر جاکر والدین کے ساتھ تعزیت کی تو انہوں نے بتایا کہ ابھی تک کسی بھی میڈیا والوں نے اُن سے ملاقات نہٰیں کی تھی، ہم پہلے اخباری لوگ ہیں جنہوں نے گھر پہنچ کر حالات جاننے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بیٹے کے قتل پر انصاف کا مطالبہ ...

ہوناور معاملہ پر وزیر اعلیٰ سے روشن بیگ کی نمائندگی،حالات پر نظر رکھنے ضلع انچارج وزیر دیش پانڈے کمٹہ روانہ

اترکنڑا کے ہوناور میں 8 دسمبر کو غیر مسلم نوجوان کی مشتبہ حالت میں نعش بازیافت ہونے کے معاملہ کو سنگھ پریوار کی جانب سے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی جو کوششیں ہورہی ہیں،

ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالحنان کی قیادت میں ایک وفد نے بابا بڈھن گری دادا پہاڑ کا دورہ کیا

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیاکے ریاستی صدر عبدالحنان کی قیادت میں ایک وفد میں بابا بڈھن گری دادا پہاڑ کا دورہ کیا جہاں گزشتہ دنوں بجرنگ دل کے غنڈوں نے دتہ ہاترا کے موقع پر بابابڈھن درگاہ کے احاطہ میں زبردستی گھس کر وہاں موجود بزرگوں کے مزاروں کو توڑ پھوڑ کر کے بے حرمتی کی تھی۔ ...

13 دسمبر کو کرناٹک اقلیتی کمیشن کی میٹنگ

کرناٹک اسٹیٹ مائنارٹیز کمیشن کے سکریٹری ایس انیس سراج کی اطلاع کے مطابق 13 دسمبر بروز چہار شنبہ صبح10:30 بجے ٹینس پویلین، پیلیس گراؤنڈ بنگلور میں ایک میٹنگ کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے،