اتر پردیش میں لاقانونیت: بلند شہر میں پولیس پر حملہ۔منظم طور پر گؤ رکھشکوں کے بڑھائے گئے حوصلوں کا نتیجہ۔۔۔(ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ )

Source: S.O. News Service | By Dr. Haneef Shabab | Published on 6th December 2018, 11:57 AM | مہمان اداریہ |

اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں مبینہ طور پر گؤ کشی کے خلاف احتجاجی ہجوم کی جانب سے پولیس پر دہشت انگیز حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گؤ رکھشکوں کے حوصلے کس حد تک بلند ہوگئے ہیں۔گڑبڑ اس وقت شروع ہوگئی جب مہاؤ نامی علاقے میں کچھ مقامی افراد نے قریبی جنگل میں مبینہ طور پر گائے کی ہڈیاں دیکھیں۔اس کے بعد دائیں بازو کی تنظیموں کی طرف سے احتجاج شروع ہوا جوکہ قابو سے باہر ہوگیا۔بعدازاں اس تشددمیں سیانا اسٹیشن کے آفیسر سبودھ سنگھ کے سر میں داغی گئی گولی نے ان کی جان لے لی۔ہجوم نے بہت ساری موٹر گاڑیاں اور چنگراوتی پولیس چوکی (آؤٹ پوسٹ) کو نذر آتش کردیا توپولیس نے بھی فائرنگ کی اور اس کے نتیجے میں مظاہرین میں شامل ایک شخص بھی ہلاک ہوگیا۔

اس تخریب کاری کے پیچھے اترپردیش جیسی ریاستوں میں گؤ رکھشکوں کو ملنے والی کھلی چھوٹ ہے جہاں پولیس والے اکثر و بیشتر ان کے جرائم کے خلاف راست بازی کے ساتھ مقدمات تک درج کرنے سے کتراتے ہیں۔بلند شہر کا واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس خوفناک حیوانیت نے اب ایسا وحشی رخ اختیار کرلیا ہے کہ اسے قابو میں کرنا سیاسی آقاؤں کے بس میں نہیں رہا۔اسی دوران محمد اخلاق سے لے کر پہلو خان تک گؤ رکھشکوں کا شکار ہونے والے بہت سے معاملات ابھی تک انصاف کا منھ دیکھنے کے لئے ترس رہے ہیں کیونکہ ان کے مقدمات برف کے تودے کی طرح سست روی سے چل رہے ہیں۔درحقیقت اخلاق کے قتل کے ملزمین ضمانت پر آزاد ہوگئے ہیں اور ان میں سے ایک نے تو 2019کا پارلیمانی انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ایک ایسے ماحول میں جب گؤ رکھشک قانون کواپنے ہاتھ میں لیتے وقت اپنے حوصلوں کو بلند ہوتا ہوا محسوس کریں ، بلند شہر انہیں قانون پر ہی ٹوٹ پڑنے کا راستہ دکھاتا ہے۔

اس کی وجہ سے گائے سے وابستہ بیمار اقتصادی حالت مزید بدتر ہوجائے گی۔ایک ایسے ملک میں جہاں دنیا میں سب سے زیادہ مویشی پائے جاتے ہوں، بے فائدہ جانوروں کو ذبح کرنایا اس کے باقیات کو ٹھکانے لگانا ایک معمول کی کارروائیوں میں شامل ہونا چاہیے۔لیکن بی جے پی کی سیاست سے حوصلہ پانے کے بعد گؤ رکھشا نے مویشیوں کے اس کاروبار کو نقصان پہنچایا ہے، جس میں لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے۔ دیہی علاقوں میں بے فائدہ گائیں لاوارث گھومنے اور کسانوں کے لئے آفت جاں بن جانے کی رپورٹس یہ بتاتی ہے کہ گائے کی نسل سے متعلقہ افزائش مویشی کا شعبہ پریشان کن طریقے پر برباد ہوگیا ہے۔

اورلگتا ہے کہ اتر پردیش اس مسئلے کی جڑ بن گیا ہے۔ ریاست کے بے روزگار نوجوانوں کی کثیر آبادی نہ صرف گؤ رکھشا گروہوں کے لئے سپاہی فراہم کرتی ہے ۔ بلکہ سیکیوریٹی کا نظام بھی ڈھیلاڈھالا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کی نام نہاد اینکاونٹر کے ذریعے قتل کی مہم صاف ظاہر کرتی ہے کہ یہاں کی پولیس فورس اور سیاسی قیادت دونوں ہی بگڑتے ہوئے نظام کو درست کرنے کے لئے کوئی ٹھوس سوچ سے خالی ہیں۔ اس کے بجائے ان کا بھدا طریقہ کار امن و امان کی صورتحال کو بد سے بد تر بنا رہا ہے۔ آدتیہ ناتھ کو اپنی ریاست سے باہر انتخابی تشہیر میں کم وقت لگاتے ہوئے اپنا پورا دھیان اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی ذمہ داریوں پر مرکوز کرنے کا جو مشورہ اپوزیشن کی جانب سے دیا جارہا ہے اگروہ اس پر عمل کریں تو شائد زیادہ بہتر ہوگا۔

 ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

ایک نظر اس پر بھی

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...

حکومت کی ممبئی فراموشی کا نتیجہ 

ممبئی میں الفنسٹن روڈ اور پریل ریلوے اسٹیشنوں کو جوڑنے والے پل کی تنگی ، موسلادھار بارش ، شدید بھیڑ بھاڑ کا وقت، کئی ٹرینوں کے مسافروں کا دیر سے اسٹیشن اور پُل پر موجود ہونا،

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

گوری لنکیش کا نہیں ،جمہوریت کا قتل .. ۔۔۔ . روزنامہ سالار کا اداریہ

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی نفرت ، عدم رواداری اور عدم برداشت کی مسموم فضاؤں نے گزشتہ 3سال کے دوران کئی ادیبوں ، قلم کاروں اور سماجی کارکنوں کی جانیں لی ہیں اور اس پر مرکزی حکومت کی خاموشی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

اگست ،ستمبرمیں فلو کے خطرات اور ہماری ذمہ داریاں از:حکیم نازش احتشام اعظمی

لگ بھگ سات برسوں سے قومی دارلحکومت دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں ، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اورملک کے لگ بھگ سبھی صوبوں کو ڈینگو،چکن گنیا،اوراس کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر مہلک ترین فلوٗ نے سراسیمہ کررکھا ہے۔