اُترکنڑا: آئندہ اسمبلی انتخابات کی ٹکٹ کے لئے موجودہ ارکان اسمبلی کی بھاگ دوڑ شروع

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 8th August 2016, 2:52 AM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

کاروار7/اگست(ایس او نیوز) حالانکہ ریاست کے اسمبلی انتخابات 2018میں منعقد ہونے والے ہیں۔ لیکن ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے سیاسی گلیاروں میں ابھی سے موجودہ ارکان اسمبلی کی بھاگ دوڑ شروع ہو گئی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ موجودہ ارکان اسمبلی کو آنے والے انتخاب میں ٹکٹ ملنا یقینی ہے۔ مگر پتہ چلا ہے کہ کچھ ایم ایل ایزنے اپنے طور پر پارٹی کے اندر لابی بنانے اور اپنے لئے ٹکٹ پکی کرلینے کی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ضلع شمالی کینرا کے موجودہ 6اراکین اسمبلی میں اس وقت کانگریس کے 3اور کانگریس کی حمایت کرنے والے2 آزاد اراکین ہیں اور 1ایم ایل اے  بی جے پی سے ہے۔

کیا آر وی ڈی الیکشن لڑیں گے؟ :    ایک خاص بات یہ ہے ریاستی سرکار میں بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے ضلع کے سب سے سینئر سیاستدان اور ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے کے بارے میں ابھی قطعی طور پر یہ بات کچھ سامنے نہیں آئی ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں بطور امیدوار میدان میں اتریں گے یا نہیں۔ آر وی ڈی کے لئے ان کی اپنی پارٹی میں ٹکٹ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔لیکن خبر یہ ہے کہ اب وہ اپنی جگہ پر اپنے فرزند کو آگے بڑھانے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں ان کے بیٹے پرشانت دیشپانڈے نے حالانکہ پہلی بار انتخابی میدان میں قدم رکھا تھا، مگر بی جے پی کے اننت کمار ہیگڈے کے مقابلے میں اس کو شکست کامنھ دیکھنا پڑا تھا۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آر وی دیشپانڈے اب عملی سیاست سے دور ہٹتے ہوئے اپنے بیٹے کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ دیشپانڈے جی کی طرف سے ابھی تک کسی بھی موقع پر ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ دیشپانڈے صاحب 2018 کے انتخابات بالکل قریب آنے کے بعد اس وقت کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کوئی فیصلہ لیں گے۔اوراس بات کے بھی پورے امکانات ہیں کہ آخری لمحات میں وہ خود ہی میدان میں کودپڑیں!اور ایسی صورت میں ہلیال اسمبلی حلقے کے لئے اپنےبیٹے پرشانت کو ٹکٹ دلانا بھی یقینی لگتا ہے۔

سرسی سے کاگیری یا اننت کمار؟ :     اگر سرسی حلقے کی بات کریں تو وہاں پر موجودہ بی جے پی کے ایم ایل اے وشویشورا ہیگڈے کاگیری کو خود اپنی پارٹی کے اندر رکاوٹوں کا سامنا ہے۔اندرونی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق موجودہ ممبر پارلیمنٹ اننت کمار ہیگڈے اب سرسی حلقے سے اسمبلی کے امیدوار بننے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔اس کے آثار یوں بھی دکھائی دے رہے ہیں کہ ایڈی یورپا کے حمایتی ضلع میں پارٹی کے انتظامی عہدوں پر پوری طرح براجمان ہوچکے ہیں۔ اور اننت کمار کی ایڈی یورپا کیمپ سے وابستگی جگ ظاہر بات ہے۔اگر حالات اسی رخ پر چلتے رہے تو پھراننت کمار کے ذریعے کاگیری کا پتاکاٹے جانے میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں ہے۔

امکانات یہ بھی ہیں :    یہ باتیں بھی سننے میں آرہی ہیں کہ یلاپور کے کانگریسی ایم ایل اے شیو رام ہیبار کا پتا بھی کاٹا جائے گا۔ان کی جگہ ہلیال کے ایک لیڈر کودیشپانڈے کی طرف سے  میدان میں اتارے جانے کے امکانات صاف نظر آرہے ہیں۔لیکن ہیبار خود اپنے طورپر آئندہ الیکشن میں مقابلے کی تیاریوں میں جُٹ گئے ہیں۔کمٹہ کی ایم ایل اے شاردا شیٹی کا ٹکٹ شایدان کے بیٹے کے حصے میں جائے اور خود ان کے ہاتھ خالی رہ جائیں۔

منکال کا کیا ہوگا؟:     بھٹکل حلقے کے ایم ایل اے منکال ویدیا کو مقابلے سے ہٹانے اوران کو ٹکٹ سے محروم کرنے کے لئے کچھ سینئر کانگریسی لیڈران پوری طرح سرگرم ہونے کی اطلاع بھی ہے۔ لیکن بحیثیت ایم ایل اے منکال ویدیا بہت ہی زیادہ فعال اور متحرک ہوکر اپنے حلقے میں عوامی کام انجام دینے میں مشغول ہیں۔ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہر کسی کا احساس ہے کہ انہی کو آئندہ الیکشن میں ٹکٹ ملنا چاہیے۔ مگر ان کے پیچھے جو سیاسی سازشیں چل رہی ہیں اس سے ان کے لئے دشواری پیدا ہونے اورکسی دوسرے امیدوارکو ٹکٹ ملنے کے امکانات بھی نظر آرہے ہیں۔

ابھی سے نیند حرام ہوگئی :    سیاسی پنڈت کہہ رہے ہیں کہ کاروار کے موجودہ ایم ایل اے ستیش سئیل آئندہ الیکشن میں کانگریس کے بجائے دوسری پارٹی کے امیدوار بن جائیں گے۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی ان کے بی جے پی میں شامل ہونے کی خبریں گشت کر رہی تھیں۔ جبکہ ستیش سئیل خود کو آئندہ انتخاب میں امیدوار مان کر اپنی تیاریوں میں لگ گئے ہیں۔ ایسے حالات میں ضلع بھر کے ارکان اسمبلی الیکشن سے دو سال پہلے ہی سیاسی پینترے بازیاں شروع کرچکے ہیں اور ابھی سے ٹکٹ ملنے یا نہ ملنے کے مسئلے کو لے کر ان کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل ڈونگرپلی کے قریب خاتون نے لگائی کنویں میں چھلانگ؛ مسلم نوجوان نے دکھائی ہمت؛ گہرے کنویں میں اُتر کر عورت کو نکالا زندہ سلامت

یہاں ڈونگر پلی کے قریب اے پی جے عبدالکلام روڈ پر  واقع ایک کنویں میں قریبی علاقہ کی ایک خاتون نے چھلانگ لگاتے ہوئے خودکشی کرنے کی کوشش کی، مگر مقامی لوگوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے  خاتون کو زندہ باہر نکال دیا اور ایک  بڑے  ممکنہ فساد سے بھٹکل کو بچادیا۔

بھٹکل: شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع کا دھرنا جاری؛ منکال وئیدیا نے رکن اسمبلی اور مرکزی وزیر پر لگایا شاہراہ معاملے پر جھوٹ بولنے کا الزام

شرالی میں45میٹر کی توسیع والی  قومی شاہراہ کی تعمیر کو لے کر جاری دھرنے کے پانچویں دن سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا احتجاجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے شرالی میں 45میٹر کی توسیع کو لےکر رکن اسمبلی سنیل نائک اور مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔

بھٹکل کی ینگ اسٹار ٹیم نے جیتا ’دیواڑیگا کرکٹ ٹروفی ‘

تعلقہ کے بینگرے المنے میں سوستک یوتھ سنگھا اور ثقافتی کھیل سنگھا کے اشتراک سے منعقدہ دوروزہ سوپر سکس کرکٹ ٹورنامنٹ میں ماوین کٹا کی ینگ اسٹار کرکٹ ٹیم پہلا انعام حاصل کرتے ہوئے ’دیواڑیگا کرکٹ ٹروفی ‘ کی حق دار بنی ہے۔

آننت کمار ہیگڈے۔ جو صرف ہندووادی ہونے کی اداکاری کرتا ہے ’کراولی منجاؤ‘کے چیف ایڈیٹر گنگا دھر ہیرے گُتّی کے قلم سے

اُترکنڑا کے رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے جو عین انتخابات کے موقعوں پر متنازعہ بیانات دے کر اخبارات کی سُرخیاں بٹورتے ہوئے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے، اُس کے تعلق سے کاروار سے شائع ہونے والے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو کے ایڈیٹر نے  اپنے اتوار کے ایڈیشن میں اپنے ...

کیا جے ڈی نائک کی جلد ہوگی کانگریس میں واپسی؟!۔دیشپانڈے کی طرف سے ہری جھنڈی۔ کانگریس کر رہی ہے انتخابی تیاری

ایسا لگتا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے چند مہینے پہلے کانگریس سے روٹھ کر بی جے پی کا دامن تھامنے اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر فہرست میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کی جلد ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی تقریباً یقینی ہوگئی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق اس کے لئے ضلع ...

ضلع شمالی کینرا میں پیش آ سکتا ہے پینے کے پانی کابحران۔بھٹکل سمیت 11تعلقہ جات کے 423 دیہات نشانے پر

امسال گرمی کے موسم میں ضلع شمالی کینرا میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کے آثار نظر آر ہے ہیں۔ کیونکہ ضلع انتظامیہ نے 11تعلقہ جات میں 428دیہاتوں کی نشاندہی کرلی ہے، جہاں پر پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

ہوناور قومی شاہراہ پرگزرنےو الی بھاری وزنی لاریوں سے سڑک خستہ؛ میگنیز کی دھول اور ٹکڑوں سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو خطرہ

حکومت عوام کو کئی ساری سہولیات مہیا کرتی رہتی ہے، مگر ان سہولیات سے استفادہ کرنےو الوں سے زیادہ اس کاغلط استعمال کرنے والے ہی زیادہ ہوتے ہیں، اس کی زندہ مثال  فورلین میں منتقل ہونے والی  قومی شاہراہ 66پر گزرنے والی بھاری وزنی لاریاں  ہیں۔

لوک سبھا انتخابات 2019؛ کرناٹک میں نئے مسلم انتخابی حلقہ جات کی تلاش ۔۔۔۔۔۔ آز: قاضی ارشد علی

جاریہ 16ویں لوک سبھا کی میعاد3؍جون2019ء کو ختم ہونے جارہی ہے ۔ا س طرح جون سے قبل نئی لوک سبھا کا تشکیل ہونا ضروری ہے۔ انداز ہ ہے کہ مارچ کے اوائل میں لوک سبھا انتخابات کا عمل جاری ہوجائے گا‘ اور مئی کے تیسرے ہفتے تک نتائج کا اعلان بھی ہوجائے گا۔ یعنی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت 17ویں ...

2002گجرات فسادات: جج پی بی دیسائی نے ثبوتوں کو نظر انداز کردیا: سابق IAS افسر و سماجی کارکن ہرش مندرکا انکشاف

 خصوصی تفتیشی ٹیم عدالت کے جج پی ۔بی۔ دیسائی نے ان موجود ثبوتوں کو نظر انداز کیاکہ کانگریس ممبر اسمبلی احسان جعفری جنہیں ہجوم نے احمدآباد کی گلمرگ سوسائٹی میں فساد کے دوران قتل کردیا تھا انہوں نے مسلمانوں کو ہجوم سے بچانے اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے فساد پر قابو ...