اترکنڑا اتی کرم داروں کی طرف سے ’بنگلورو چلو ‘ احتجاج : سینکڑوں احتجاجیوں نے مطالبات کے حل کو لےکر وزیراعلیٰ کے نام سونپا میمورنڈم؛ کل ودھان سودھا میں ہوگی اہم میٹنگ

Source: S.O. News Service | Published on 12th February 2019, 9:18 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بنگلور 12؍فروری (ایس او نیوز/مبشر حُسین ہلارے) سالہا سال سے جنگلاتی  زمینات پر مکانات تعمیر کرکے رہتے آرہے  آتی کرم داروں کی جانب سے گذشتہ روز کاروار میں زبردست احتجاج کے بعد آج منگل کو بنگلور چلو  احتجاج میں بھی سینکڑوں لوگوں نے شرکت کرتے  ہوئے  اپنی زمینات کو  پٹہ دینے کا مطالبہ کیا اور  اس بات پر سخت ناراضگی ظاہر کی کہ ضلع اُترکنڑا سمیت کئی اضلاع میں ضلعی انتظامیہ ہی   غریب لوگوں کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔

بنگلور ودھان سودھا کے بالمقابل  نوکر بھون میں منعقدہ احتجاجی جلسہ میں  اُترکنڑا آتی کرم ہوراٹا سمیتی کے صدر ایڈوکیٹ رویندرنائک کی صدارت میں ضلع بھر سے پانچ سو سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ بھٹکل، کاروار، سرسی، انکولہ، کمٹہ سمیت تمام تعلقہ جات کے لیڈران اور عوامی نمائندوں نے  احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے  سرکار تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی۔

اس موقع پر  اُترکنڑا کےانچارج وزیر آر وی دیش پانڈے کے ہاتھوں کرناٹک کے وزیراعلیٰ کماراسوامی کے نام ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا جس میں اتی کرم داروں کو زمینات اُن کے نام کرنے  کے  ساتھ ساتھ چھ اہم مطالبات کئے گئے ہیں۔ میمورنڈم کو قبول کرتے ہوئے روینو وزیرآر وی دیش پانڈے نے کل بدھ کو آفسران کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا ہے جس میں آتی کرم داروں کے تعلق سے اہم فیصلے ہونے کی توقع ہے۔

وزیراعلیٰ کے نام دئے گئے میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ  ضلع اُتر کنڑا  جنگلات سے گھرا ہوا علاقہ ہونے کی وجہ سے قریب ایک لاکھ خاندان جنگلاتی زمینات پر رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ میمورنڈم کے مطابق اتی کرم زمینات کو پٹہ فراہم کرنے کے لئے  ضلع بھر سے جملہ  87625عرضیاں سونپی گئی ہیں۔ جس میں سے صرف 2852عرضیوں کو ہی  منظو ر کیا گیا ہے اور دیگر 65220عرضیوں کو رد کردیاگیا ہے۔ میمورنڈم میں مطالبہ  کیا گیا ہے کہ فوریسٹ حق قانون کے تحت ردکئے گئے عرضیوں کی دوبارہ جانچ کرتے ہوئے فوریسٹ مکینوں کو پٹہ مہیا کرایا جائے، فوریسٹ حق قانون کے تحت حق پانے میں محروم شدہ  فوریسٹ مکینوں کو رہنے کا متبادل انتظام کیا جائے۔27-اپریل 1978 سے پہلے فوریسٹ حق  کی منظوری کے لئے  دی گئیں عرضیوں کی دوبارہ جانچ کی جائے  یا اُنہیں دوبارہ عرضی داخل کرنے کا موقع دیا جائے۔مرکزی حکومت کے قانون کےتحت 15مئی 1996کو ضلع میں 2513خاندانوں کو 3235ہیکٹر علاقہ منظور کیاگیا ہے اُنہیں  اس کا پٹہ دیا جائے

میمورنڈم میں اس بات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ (Schedule Tribes and Other Traditional Forest Dwellers(Forest Right)Act)کے تحت عرضیوں کی جانچ کے دوران  روایتی فوریسٹ مکینوں کی طبعی دستاویزات کو قبول کرتے  ہوئے شیموگہ ضلع کے تیرتھ ہلی تعلقہ کے ملندور دیہات میں جو اصول اپنا یاگیا ہے اسی کو ضلع اُترکنڑا میں  بھی اپنایاجائے۔فوریسٹ حق عرضی کی سنوائی کے دوران کرناٹکا فوریسٹ قانون دفعہ 84اے کے تحت اتی کرم داروں کو نکال باہر کرنےکی کارروائی سے فوریسٹ افسران کو روکا جائے۔ اسی طرح میمورنڈم میں  جنگلات کے تحفظ کے تعلق سے بھی سرکار کو مفید مشوروں سے نوازا گیا ہے۔

زمین کی منظوری چاہئے تو  پانچ ہزار لوگوں کو جیل جانے کے لئے تیار رہنا ہوگا:  کرناٹک کے سابق وزیر اور شموگہ کے اتی کرم ہوراٹا سمیتی کے اہم لیڈر کاگوڈ تمپا نے اس موقع پر احتجاجیوں سے پُرجوش انداز میں خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ  اگر آپ لوگ  اپنی آتی کرم زمین سرکار سے منظور کروانا  چاہتے ہیں  تو پھر ضروری ہے کہ کم ازکم پانچ ہزار لوگ جیل جانے کے لئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ  پیدل ریلی کرنے، ارکان اسمبلی کے گھر کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے وغیرہ سے موجودہ حکومت کی انکھیں کھلنے والی نہیں ہیں، اگر آپ لوگ جیل جانے کے لئے تیار ہیں تو ہی قانون کی حدود میں رہ کر ہم مضبوط تحریک چلاسکتے ہیں۔ انہوں نے آتی کرم ہوراٹا سمیتی کی جانب سے  انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دینے کی بات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے،  کاگوڈ تمپا کے مطابق انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے بہترہے کہ لوگ زہر پئیں۔

کاگوڈ تمپا نے  آننت کمار ہیگڈے کا نام لئے بغیر اُنہیں نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ  آپ کے اُترکنڑا ضلع میں بھی  ایک رکن پارلیمان ہیں جو  دستور کے تحت انتخابات  جیت کر آتا ہے پھربعد میں دستور کو بدلنے کی بات کرتا ہے۔ انتخابات میں ایسے لوگوں کو جیت د لانے پر انہوں نے اسے شرمناک قرار دیا اور کہا کہ ہم لوگوں نے ہی اپنی زمین  کو  ایسے لوگوں کے حوالے کیا ہے، انہوں نے ایسے افراد کو شکست دینے  کی آواز دی۔کاگوڈ تمپا نے  ضلع اُتر کنڑا کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرس کو لوفر کہتے ہوئے  اُنہیں آڑے ہاتھوں لیا، انہوں نے موجودہ حکومت کے تعلق سے بتایا کہ ان حکومتوں کا آتی کرم داروں کا مسئلہ حل کرنے کا ارادہ ہی نہیں ہے، انہوں نے ایسے  ارکان پارلیمان کو انتخابات کے ذریعے سبق سکھانے  کی اپیل کی اور کہا کہ جو  اُمیدوار پٹہ دینے کی بات نہیں کرتا، اُس کو سبق سکھانا  ہوگا۔ کاگوڈ تمپا نے احتجاجیوں سے  کہا کہ سب سے اچھا حل  مہاتما گاندھی  کے نقش قدم پر چلنا ہے اور اُن کی طرح جیل بھرو تحریک شروع کرنا ہے اور جیل جانے کے لئے تیار ہونے کی صورت میں ہی کامیابی یقینی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون کہتا ہے کہ کسی وجہ کے بغیر کسی بھی عرضی کو رد نہیں کا جاسکتا، مگر ضلع اُترکنڑا میں 74 فیصد عرضیاں رد کی گئی ہیں تو ضروری ہے کہ ہم  پان کھاکر اُن کے منہ پر تھوکیں۔ انہوں نے اس تعلق سے  تمام لوگوں کو متحد ہوکر جدوجہد کرنے پر زور دیا ۔

سابق پنچایت راج منسٹر ایچ کے پاٹل نے اپنے خطاب میں  اس بات کا یقین دلایا کہ کاگوڈ تمپا صاحب اگر آتی کرم داروں کے ساتھ ہیں  تو پھر  ان کی رہنمائی میں مسئلہ حل ہونا یقینی ہے۔

دیش پانڈے کوپیش کیا گیا میمورنڈم:  احتجاج کے دوران ریاست کے روینو وزیر اور ضلع اُترکنڑا کے انچارج وزیر آر وی دیش  پانڈے کو میمورنڈم پیش کیا گیا، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے دیش پانڈے نے کہا کہ 1994 میں ایک فیصلہ لیا گیا تھا جس کے مطابق  جو کوئی 27 اپریل 1978 سے پہلے کسی زمین کو آتی کرم کیا ہے تو  اُن کو متعلقہ زمین منظور کی جائے گی۔ اس تعلق سے   محکمہ تحصیل، محکمہ فوریسٹ ، ڈپٹی کمشنر  وغیرہ سےمل کر فہرست بنا کر مرکزی حکومت کو بھیجی گئی  تھی۔ مرکزی حکومت نے ہماری اپیل کو جانچ کرنے کے بعد  کچھ شرائط کے ساتھ منظوری دی تھی۔ دیش پانڈے کے مطابق  اس وقت کئی لوگوں کو پٹہ دیاگیا تھا ۔ان کے مطابق اب بھی کچھ لوگوں کو پٹہ دینا  باقی ہے۔   دیش پانڈے کے مطابق زمین کے پٹہ کے لئے صرف دو دستاویزات  ثبوت کے طورپر مانگے گئے تھے، مگر  دوسرا ثبوت نہیں مل رہاہے جس سے مسئلہ پیدا ہواہے۔ دیش پانڈے نے کہا کہ  میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں، میں یہاں سیاست کرنے نہیں آیاہوں۔ سیاسی بھاشن بھی دینے کے لئے نہیں آیاہوں۔میں چاہتا ہوں کہ آپ کو انصاف ملے۔

کل بدھ کو بلائی گئی میٹنگ کے تعلق سے دیش پانڈے نے کہا کہ سبھی محکمہ کے اعلیٰ افسران میٹنگ میں موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  بغیر  کسی وجہ  کے کوئی بھی عرضی  رد کی گئی  ہے تو سوموٹو دوبارہ قبول کرنے کے لئے میں نے حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کل کی میٹنگ میں جو بھی فیصلےہونگے اسی کے مطابق کارروائی کی جائےگی۔

کل بدھ کو ہوگی اہم میٹنگ:  آتی کرم ہوراٹاسمیتی کے پانچ ذمہ داران کے ساتھ کل بدھ کو شام پانچ بجے  ودھان سودھا میں ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی ہے جس میں فوریسٹ سکریٹری،  روینو سکریٹری،  روینو منسٹر آر وی دیش پانڈے سمیت  متعلقہ محکمہ کے دیگر آفسران شریک ہوں گے۔ آتی کرم ہوراٹا سمیتی  کی طرف سے   ضلعی صدر ایڈوکیٹ رویندرا نائک، بھٹکل تعلقہ صدر راما موگیر،   منجو مراٹھے،  جی ایم شٹی کو دعوت نامہ آیا ہے، مگر  ان کے ساتھ دیگر تین لوگ بھی میٹنگ میں شریک ہوں گے جس میں مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کےصدر ایڈوکیٹ  مزمل قاضیا بھی شامل ہیں۔

بنگلور چلو احتجاج میں ضلع بھرسے کئی اہم لوگوں نے شرکت کی  جس میں بھٹکل سے مجلس اصلاح وتنظیم کے صدر ایڈوکیٹ مزمل قاضیا،  نائب صدر عنایت اللہ شاہ بندری اور  جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری سمیت بھٹکل آتی کرم ہوراٹا سمیتی کے صدر راما موگیر اور  دیگر   کافی لوگ  شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں موسلادھار بارش؛ بندر روڈ پر کمپاونڈ کی دیوار گر گئی؛ بائک کو نقصان؛ بارش سے دو بجلی کے کھمبوں پر بھی درخت گرگئے

شہر میں گذشتہ کچھ دنوں سے بارش  کا سلسلہ جاری ہے، البتہ  پیر اور منگل کی درمیانی شب سے  آج منگل شام تک کافی اچھی بارش ریکارڈ کی گئی ہے، ایسے میں  شام کو  ایک مکان کے کمپاونڈ کی دیوار گرنے کی واردات بھی پیش آئی ہے۔

کاروار میں کرناٹکا جرنالسٹ یونین اترکنڑا کے زیراہتمام یکم جولانی کو ہوگا یوم صحافت کا ضلعی پروگرام

کرناٹکا جرنالسٹ یونین اترکنڑا ضلعی شاخ کے زیر اہتمام یکم جولائی کو ضلع پتریکابھون میں ’’یوم صحافت ‘‘ کا پروگرام منعقد کیا جائے گا جس میں سورنا نیوز کے کرنٹ آفیرس ایڈیٹر جئے پرکاش شٹی کو ہرسال دئیے جانے والا ’ہرمن موگلنگ ‘ریاستی ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

بھٹکل اور اطراف کے عوام توجہ دیں: دبئی اور امارات میں حادثات کے بڑھتے واقعات؛ ہندوستانی قونصل خانہ نے جاری کی سفری انشورنس کی ایڈوائزری

دبئی سمیت متحدہ عرب امارات کے مختلف شہروں اور قصبوں  میں  مختلف حادثات میں شدید  طور پر زخمی ہوکر اسپتالوں میں ایڈمٹ ہونے کی  تعداد میں  اضافہ کو دیکھتے ہوئے  اور اسپتالوں  میں اُن کا کوئی پرسان حال نہ ہونے  کے واقعات کا مشاہدہ کرنے کے بعد  ہندوستانی سفارت خانہ کی طرف سے  عرب ...

جانوروں پر حکومت کی مہربانی۔اب دوپہر 12تا3بجے کے دوران رہے گی کھیتی باڑی کی مشقت پر پابندی

کھیتی باڑی اور دیگر محنت و مشقت کے کاموں میں استعمال ہونے والے مویشیوں پر ریاستی حکومت نے بڑے مہربانی دکھاتے ہوئے ایک سرکیولر جاری کیا ہے کہ گرمی کے موسم میں تپتی دھوپ کے دوران دوپہر 12سے 3بجے تک کسان اپنے جانوروں کو کھیت جوتنے یا دوسرے مشقت کے کاموں میں استعمال نہیں کرسکیں گے۔

کاسرگوڈ میں جانور لے جانے کے الزام میں دو لوگوں پر حملہ؛ بجرنگ دل کارکنوں کے خلاف معاملات درج کرنے پر مینگلور کے قریب وٹلا اور بنٹوال میں بسوں پر پتھراو

پڑوسی ریاست کیرالہ کے  کاسرگوڈ میں جانور لے جانے کے الزام میں دو لوگوں پر حملہ اور لوٹ مار کی وارداتوں کے بعد پولس نے جب  بجرنگ دل کارکنوں کے خلاف معاملات درج کئے  تو  مینگلور کے قریب  وٹلا اور بنٹوال  میں  بسوں پر پتھراو اور توڑ پھوڑ کی واردات پیش آئی ہے۔ پتھراو میں   نو ...