مچھلیوں کو تازہ رکھنے کے لئے فارمولین کا استعمال سنگین مسئلہ۔ گوا کے مچھیروں نے کی سرکاری فیصلے کی تائید

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 8th November 2018, 9:34 PM | ساحلی خبریں |

کاروار8؍نومبر(ایس اونیوز) ریاست گوا کی حکومت نے بیرونی ریاستوں سے آنے والی مچھلیوں کی کھیپ کو فارمولین سے پاک رکھنے کے سلسلے میں جو احکام جاری کیے ہیں، اس کے تحت گوا کی سرحد پر پڑوسی ریاستوں کے مچھلیوں کے ٹرک جانچ پڑتال کے لئے روک لیے جارہے ہیں جس سے ماہی گیروں اور مچھلی کے تاجروں کو سخت نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ لیکن دوسری طرف گوا کی ماہی گیروں کی تنظیم نے کھلے عام سرکاری فیصلے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ مچھلیوں کو تازہ رکھنے کے لئے برف کے بجائے فارمولین استعمال کیے جانے سے مسئلہ سنگین ہوگیا ہے۔

گوا پرشیئن بوٹ ایسوسی ایشن کے اراکین نے سوال اٹھایا ہے کہ جب گوا کی مچھلیوں میں فارمولین کا استعمال نہیں ہوتا تو پھر آخر مزید کتنے دنوں تک فارمولین جیسا کیمیکل لگی ہوئی بیرونی ریاستوں کی مچھلیاں عوام کو کھانے دیں؟پرشیئن بوٹ یونین کے سرگرم لیڈر چرچل آلیماؤ نے الزام لگایا کہ گوا میں’ ’فش مافیا‘ بڑے طاقتور انداز میں سرگرم ہے اس لئے گوا کے عوام کو فارمولین والی مچھلیاں کھلانے پر آمادہ ہے۔

اس مسئلے میں ایک اور پیچیدگی یہ پیداہوگئی ہے کہ مچھلی تاجروں کی یونین نے مڈگاؤں مچھلی مارکیٹ میں تمام بیرونی ریاست کی مچھلیاں فروخت کرنے کی آزادی دینے کا جو مطالبہ کیا ہے اس کے خلاف گوا پرشین بوٹ ایسوسی ایشن نے آواز اٹھائی ہے اور مچھلی فروشوں کی یونین کے لیڈروں کو گرفتار کرنے کی مانگ کی ہے۔اس کے علاوہ حکومت کو مچھلیوں فروش یونین کے سامنے کسی بھی قیمت پر گھٹنے نہ ٹیکنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس وجہ سے بیرونی ریاست کی مچھلیوں کی کھیپ گوا کی سرحد وں میں داخل ہونا اور زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔

حالانکہ کرناٹکا کے ساحلی علاقے منگلورو، ملپے، تدڑی، ہوناور، کارواروغیرہ سے برف میں محفوظ کی گئی مچھلیاں ایک زمانے سے گوا میں سپلائی کی جاتی تھیں۔ مگر جب سے تملناڈواور کیرالہ سے مچھلیاں یہاں لائی جانے لگیں تو زیادہ دنوں تک مچھلیوں کو تازہ رکھنے کے لئے اس میں فارمولین کااستعمال کیاجانے لگا، جو کہ انسانی صحت کے لئے بہت ہی نقصان دہ ہوتا ہے۔اس کے باوجود تاجرانہ ذہنیت کے ساتھ پیسے کمانے کے لئے انسانی جانوں سے کھلواڑ کیاجارہا ہے۔اس پہلو کو سامنے رکھ کر گوا کی حکومت نے تمام بیرونی ریاستوں سے آنے والی مچھلیوں کی کھیپ کو سرحدی علاقے میں روک کر معائنہ کرنے اور ایف ڈی اے سے سرٹفکیٹ والی کھیپ کو ہی گوا میں داخل ہونے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس قانون کی زد میں فارمولین استعمال نہ کرنے والے ساحلی کرناٹک کے ماہی گیر اور تاجر آگئے ہیں۔اور دوسری ریاستوں کے ماہی گیروں کی غلطی سزا ان لوگوں کو بھی بھگتنی پڑ رہی ہے۔

ماہی گیروں کے اس تنازعے میں علاقائی مخاصمت کا رنگ بھی شامل ہوتا جارہا ہے۔ کچھ دنوں پہلے کاروار کے لوگوں نے کرناٹکا گوا سرحد پر ریاست گوا سے کاروار کی طرف آنے والی مچھلیوں کی لاریوں کو بطور احتجاج روکنے کی کوشش کی تھی۔ مگر پولیس کی بروقت مداخلت سے تصادم کی صورتحال ٹل گئی ہے۔ پھر بھی گوا حکومت کے فیصلے اور پابندیوں کے خلا ف کرناٹکا کے مچھیروں اور مچھلی فروشوں میں برہمی بڑھتی جارہی ہے، جو کسی بھی دن ٹکراؤ میں بدل سکتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں صحت کارڈ(آروگیہ کارڈ)کے لئے عوام کا ہجوم :بہت جلدتعلقہ اسپتالوں میں بھی کارڈ دستیاب ہوگا : میڈیکل آفیسر

ریاست میں جاری سیاسی ناٹک بازی کی وجہ سے کوئی بھی ترقی جات کام نہیں ہونے کے متعلق عوامی سطح پر شکایات گردش میں ہیں۔ اکثر محکمہ جات میں کام سست ہونےکا الزام لگایا جارہاہے۔ عوام اس تعلق سے کوئی سرخراب کئے بغیر اگر صحت اچھی رہی تو زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنے کی امید میں آروگیہ کارڈ ...

کاروار ایمپلائمنٹ آفس میں انٹرویوکیمپ : بی ای،بی سی اے ،بی کام سمیت ڈگری  طلبا توجہ دیں

شہر کی روزگار رجسٹریشن دفتر میں 25جولائی کی صبح 30-10سے دوپہر 30-03بجے تک منگلورو سافٹ وئیر ڈیولپنگ کمپنی اور دیاسسٹم کی جانب سے ’’انٹرویو کیمپ‘‘کا اہتمام کئے جانےکی ایمپلائمنٹ آفیسر نے پریس ریلیز کے ذریعے جانکاری دی ہے۔

اترکنڑا ضلع میں آفاقی حادثات کامقابلہ کرنے ڈرون کیمرہ سمیت مختلف تحفظاتی آلات کی خریداری : ڈی سی

اترکنڑا ضلع میں آفاقی حادثات سے نمٹنے اور نگرانی کے لئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے جدید ٹکنالوجی سے آراستہ ضروری اشیاء خریدنے کا فیصلہ لئےجانے کی  اترکنڑا ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے بات بتائی ۔

کاروار: سی آر زیڈ قانون میں رعایت۔سیاحت کے لئے مفیدمگرماہی گیری کے لئے ہوگی نقصان دہ

ساحلی علاقوں میں سمندر ی جوار کی حد سے 200میٹر تک تعمیرات پر روک لگانے والے کوسٹل ریگولیشن زون(سی آر زیڈ) قانون میں رعایت کرتے ہوئے اب ندی کنارے سے 100میٹرکے بجائے 10میٹر تک محدود کردیا گیا ہے۔

سرسی ڈی وائی ایس پی سے کی گئی یلاپور رکن اسمبلی شیورام کوڈھونڈنکالنے کی گزارش

کانگریس اور جے ڈی ایس کے اراکین نے بغاوت کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس سے دور رہنے اور وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کی جانب سے پیش کی گئی ’اعتماد‘ کی تحریک کے حق میں ووٹ نہ دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے مخلوط حکومت گرنا یقینی ہوچلا ہے۔