امریکی عدالت عظمی نے چھ مسلم ممالک پر سفری پابندیاں بحال کردی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th December 2017, 9:10 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 5دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) پیر کو سنائے جانے والے فیصلے میں سپریم کورٹ کے نو میں سے سات ججوں نے پابندی کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ دیا۔عدالتِ عظمیٰ کے دو لبرل ججوں 150 رتھ بیڈر اور سونیا سوٹومیئر 150 نے اکثریت کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ذیلی عدالتوں کی جانب سے صدارتی حکم نامے کی جزوی معطلی برقرار رہنی چاہیے۔عدالت نے اپنے فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کی ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سفری پابندی سے متعلق جاری کیا جانے والا یہ تیسرا حکم نامہ تھا جس میں چھ مسلمان ملکوں 150 ایران، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور چاڈ ۔ کے علاوہ شمالی کوریا اور وینزویلا کو بھی شامل کیا گیا تھا۔لیکن امریکی ریاستوں میری لینڈ اور ہوائی کی عدالتوں نے ٹرمپ حکومت کے اس حکم نامے میں دو شرائط شامل کرتے ہوئے اس پر جزوی عمل درآمد کی اجازت دی تھی جس کے خلاف ٹرمپ حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ذیلی عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں حکم نامے میں شامل چھ مسلمان ملکوں کے ان شہریوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دیدی تھی جن کے امریکہ میں قریبی رشتے دار موجود ہوں یا جن کا کسی امریکی ادارے یا کمپنی سے باضابطہ تعلق ہو۔لیکن عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد اب چاڈ، ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن کے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندی مکمل طور پر نافذ العمل ہوگی۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکم نامے میں شمالی کوریا کے شہریوں اور وینزویلا کی حکومت کے بعض عہدیداروں کے امریکہ میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی لیکن ذیلی عدالتوں نے ان پابندیوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا جس کے باعث وہ پہلے سے ہی نافذ العمل ہیں۔نئی پابندیوں کے حکم نامے کو امریکی ریاست ہوائی اور امریکہ میں شہری آزادی کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم 'امریکن سول لبرٹیز یونین' نے بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا جن میں درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ سفری پابندی سے متعلق صدر ٹرمپ کے نئے حکم نامے میں بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے جو امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے۔امریکی سپریم کورٹ نے دونوں درخواستوں پر پیر کو جاری کیے جانے والے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ ذیلی عدالتوں کی جانب سے حکم نامے میں شامل کی جانے والی شرائط معطل رہیں گے اور اس دوران سان فرانسسکو اور رچمنڈ کی وفاقی اپیلٹ عدالتیں اس حکم نامے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کریں گی۔یہ دونوں عدالتیں رواں ہفتے اس حکم نامے کے خلاف درخواستوں کی سماعت شروع کر رہی ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اپیلٹ عدالتیں جو بھی فیصلہ کریں سفری پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک سپریم کورٹ دوبارہ اس معاملے کی سماعت کا فیصلہ نہیں کرتی۔ غالب امکان ہے کہ سپریم کورٹ دوبارہ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔پیر کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر سفری پابندیوں کا حکم نامہ دوبارہ سپریم کورٹ کے سامنے آیا تو قوی امکان ہے کہ عدالت اس کے حق میں فیصلہ دے گی۔مسلمانوں کی امریکہ آمد پر مکمل پابندی صدر ٹرمپ کا ایک اہم انتخابی وعدہ تھا۔ ٹرمپ نے سفری پابندیوں کا پہلا حکم جنوری میں صدر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے چند روز بعد جاری کیا تھا جس میں کئی مسلمان ملکوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اس حکم نامے پر امریکہ کی وفاقی عدالتوں نے عمل درآمد روک دیا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے مارچ میں ایک تبدیل شدہ حکم جاری کیا تھا جس کی مدت رواں سال ستمبر میں ختم ہوگئی تھی۔ تیسرا حکم نامہ ستمبر میں خاتمے ہونے والی پابندی کی جگہ لینے کے لیے جاری کیا گیا تھا جسے فوراً ہی عدالتوں میں چیلنج کردیا گیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ کو مسلمان شدت پسندوں کی دہشت گردی سے بچانے کے لیے سفری پابندیاں عائد کرنا ضروری ہیں۔دراں حالے کہ ان ممالک میں ٹرمپ کے موقف کو کوئی دلیل نہیں ملتی ہے ، انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس سلسلے میں مظاہر ہ کئے تھے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

چینی فضائیہ کے بمبار طیارے کی جنوبی چین میں جزیرے کے رن وے پر لینڈنگ

چین کی عوامی سپاہ آزادی کی فضائیہ نے حالیہ مشق کے دوران بحیرۂ جنوبی چین کے ایک ہوائی اڈے پر اپناایچ۔6بمبار طیارہ اتارا اس طرح چینی بمبار طیارہ اس علاقے میں کسی ہوائی اڈے کو استعمال کرنے والا پہلا طیارہ بن گیا ہے۔

بچوں سے جنسی زیادتیاں: چلی کے تمام 34 بشپس استعفیٰ پیش کرنے پر متفق 

کیتھولک مسیحیوں کے کلیسائے روم کی تاریخ میں شاذ و نادر نظر آنے والی ایک پیش رفت میں بچوں سے جنسی زیادتیوں کے ایک بہت بڑے اسکینڈل کی وجہ سے چلی کے تمام چونتیس بشپس نے پاپائے روم کو اپنے استعفوں کی پیشکش کر دی ہے۔

افغانستان: اسٹیڈیم میں دھماکے، آٹھ ہلاک

افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں کھیلوں کے ایک اسٹیڈیم میں دھماکوں سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔افغان حکام کے مطابق جمعہ کو دیر گئے اس اسٹیڈیم میں ایک کرکٹ میچ ہونے جا رہا تھا جب یہ دھماکے ہوئے اور اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔