برطانیہ اور فرانس کی حمایت کے ساتھ امریکہ نے کیا شام پر حملہ؛ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کوبنایا جواز؛ روس نے کی سخت مذمت

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th April 2018, 1:57 AM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 14/اپریل (ایس او نیوز/ ایجنسیاں) کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو جواز بناتے ہوئےامریکا نےبرطانیہ اور فرانس کی مدد سے آج سنیچر کو شام پر حملہ کر دیا  اور ٹاما ہاک کروز، اسٹروم شیڈو میزائلس نہتے شہریوں پر داغ دئے۔شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ شامی فضائیہ امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حملے کا جواب دے رہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دمشق میں یکے بعد دیگر ے کئی دھماکے سنے گئے اور دھواں اٹھتے بھی دیکھا گیا ہے۔

اُدھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ شام میں امریکی فوجی ایکشن جاری ہے، شام میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملہ برطانیہ اورفرانس کےساتھ مل کر کیا گیا ہے۔امریکا کے دفاعی حکام کے مطابق حملے میں شام کے سائنسی تحقیقی ادارے اور کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

برطانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق رائل ایئرفورس کے ٹورنیڈو جی آر فورز طیاروں نے حمص کے قریب فوجی تنصیبات پر میزائل داغے۔ مگرشام کی حکومت کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام فعال کردیا گیا ہے، جس کی مدد سے اب تک 13کروز میزائل اہداف کو نشانہ بنانے سے پہلے ہی تباہ کردئے گئے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرانے میں ناکامی کے باوجود شام پر حملہ کر دیا۔

امریکا کے صدر ٹرمپ نے رات گئے اپنے خطاب میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی شامی دارالحکومت دمشق میں کئی دھماکے سنے گئے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے شام پر اس لئے حملہ کیا ہے کیونکہ  شام نے اپنے شہریوں پر  کیمیائی حملہ کیا تھا، ٹرمپ کے مطابق  شام پر حملوں کا تسلسل جاری رہے گا۔صدر ٹرمپ نے ایران اور روس کو شام سے تعلقات پر انتباہ  بھی کیا، ان کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملوں پرشامی حکومت اوراس کے روسی اور ایرانی اتحادیوں کا احتساب کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بشارا الاسد کے مستقبل کا فیصلہ شام کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔

خبر رساں  ایجنسیوں کے مطابق ابتدائی طور پر امریکا کو برطانیہ اور فرانس کی حمایت اور تعاون حاصل ہے۔

امریکی میرین کور کے جنرل ڈینفورڈ نے واضح کیا کہ حملوں میں جیٹ طیاروں نے حصہ لیا، روس کو ان حملوں اور اہداف کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔برطانیہ کی وزارت دفاع نے بھی شام پر حملوں میں جیٹ طیاروں کے استعمال کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ حمص سے 15کلومیٹر دور فوجی تنصیبات پر میزائل داغے گئے۔

شامی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ شام پر داغے گئے30 میزائلوں میں سے 13 تباہ کردیے گئے ہیں، حکام کے مطابق  حملوں کا نشانہ بننے  والے فوجی  اڈےاورایئرپورٹس پہلے ہی خالی کرالیے گئے تھے۔شام کی فوج کے سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ ابھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے شام پر حملے ختم ہو گئے تو انہیں محدود سمجھا جائے گا۔

شام کی  سرکاری ٹی وی کے مطابق سینئر عہدے دار نے اس حملے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا کہ اس کارروائی سے عالمی برادری کی شام سے متعلق خواہش کو ٹھیس پہنچی ہے، ان کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شام کی سرکاری ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی اتحادیوں نے حمس میں اسلحے کے ڈپوؤں پر حملہ کیا جو  عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ، سرکاری ٹی وی کے مطابق اس طرح کے حملوں  سے دہشت گردوں کے چنگل سے نکلنے میں کامیابی حا صل نہیں ہو گی۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت45 تنظیموں نے اقوام متحدہ سے کیمیائی حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔جبکہ فرانس نے شام پر حملوں کے لیے جانے والے جنگی طیاروں کے مناظر جاری کر دئے  ہیں۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کیمیائی حملوں پرشام کی حکومت، اس کے روسی اور ایرانی اتحادیوں کا احتساب کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ فوجی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک شام کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ختم نہیں کرتا، روس شامی کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق وعدے پر قائم نہیں رہا۔

برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مےکا کہنا ہے شام پر حملوں کے سوا کوئی اورراستہ  نہیں تھا،حملوں کا مقصد شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت ختم کرناہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت شام کی خانہ جنگی میں مداخلت اور بشار الاسد کی حکومت تبدیل کرنے کے مقاصد نہیں رکھتی۔

امریکی وزیر دفاع  جیمز میٹس نے کہا ہے کہ شام پر صرف ایک بار حملہ کیا گیا، مقصد شام کے صدر کو واضح پیغام دینا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں اب تک کسی شخص کے مارے جانے کی اطلاع نہیں،میزائل حملوں میں اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا گیا کہ معصوم شہری نشانہ نہ بن جائیں ۔امریکی وزیر دفاع نے پریس بریفنگ میں یہ بھی کہا کہ آئندہ حملے کا انحصار شام کی جانب سےمستقبل میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعما ل پر ہے ۔

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فرانس نے شام کے خلاف کارروائی میں امریکا اور برطانیہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد شامی حکومت کی کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار کو نشانہ بنانا اور نہتے شہریوں پر اس کا استعمال روکنا ہے۔

ان سب کے درمیان روس نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو شام میں کی گئی کارروائی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔امریکا میں روس کے سفیر  اینٹولی ایٹونو نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہاہے، امریکی اتحاد کا شام پر حملہ کھلی جارحیت ہے۔انہوں نے کہا کہ روس کے صدر کی توہین ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔

اُدھر ایران نے بھی شام پر حملوں کو خطے کے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ شام پر حملے شام کے اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی ہیں،شام پر امریکی حملوں کے خطے میں نتائج بھگتنا ہوں گے.

خیال رہے کہ 7 اپریل کو شامی فورسز کی جانب سے دوما میں حملہ کیا گیا تھا۔ جس میں بچوں سمیت 40 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ مقامی سطح پر کام کرنے والے حکومت مخالف رضا کاروں کے مطابق یہ کیمیائی حملہ تھا۔

اس حملے کے بعد امریکا، فرانس سمیت یورپی اور عرب ممالک نے شام کی حکومت اور اتحادیوں کی جانب سے دمشق کے قریب باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے دوما میں کیمیائی حملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا تھا۔ مگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اقوام متحدہ سے اجازت لیے بغیر ہی شام پر حملہ کر دیا۔ سمجھا جارہا ہے کہ  امریکہ کا اس طرح جلدی میں شام پر حملہ کرنے کا  ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح شام میں روسی ہتھیاروں کے ذخائر کو تباہ کیا جائے۔ ابھی تک یہ تفصیلات  سامنے نہیں آ سکیں کہ اس حملہ میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں اور کتنی مقدار میں اسلحہ تباہ ہوا  ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

انیس عامری ایک ’دہشت گرد سیل‘ کا حصہ تھا: جرمن میڈیا

برلن میں دو برس قبل ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے والا انیس عامری’تنہا بھیڑیا‘ نہیں تھا بلکہ ممکنہ طور پر اس کا تعلق ایک سلفی سیل سے تھا، جس نے اسے اس حملے میں مدد دی تھی۔جرمن میڈیا پر ہفتے کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق برلن کرسمس مارکیٹ حملے کے فقط دو ...

فرانسیسی شہروں میں زرد جیکٹوں والے مظاہرین کا احتجاج

فرانس کے مختلف شہروں میں زرد جیکٹوں والے حکومت مخالف مظاہرین مسلسل پانچویں ویک اینڈ پر احتجاج کے لیے جمع ہیں۔ صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا یہ سلسلہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مظاہرین کی پرتشدد کارروائیوں کو ...

سری لنکا کے برخاست وزیراعظم پر پارلیمان کا اعتماد

رواں برس اکتوبر میں برخاست کیے جانے والے سری لنکن وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے نے پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ آج بدھ کو ہونے والی رائے شماری میں 225 رکنی ایوان میں وکرمے سنگھے کی حمایت میں 117 اراکین نے ووٹ ڈالا

امریکی فوج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں

امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اْس کی افواج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں ہیں۔ اس اعلان میں ان چوکیوں کی تعداد اور مقامات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اسی علاقے میں شامی کردوں کی ملیشیا وائی پی جی ایک بڑے علاقے پر قابض ہے

برطانوی وزیر اعظم کو درپیش قیادت کا چیلنج: کیوں اور کیسے؟

برطانوی پارلیمان کے ارکان نے قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے، جس پر رائے شماری آج بدھ بارہ دسمبر کو ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تحریک پیش کیے جانے کے بعد اب ہو گا کیا ۔برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اسی ہفتے پیر کا دن یورپ کے مختلف ممالک کے ...