یوپی الیکشن: سیکولر پارٹیوں کا اتحاد ناگزیرمکرمی!

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th September 2016, 3:40 PM | اسپیشل رپورٹس |

آئندہ سال پانچ صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، ان میں سب سے اہم یوپی کا انتخاب ہے، جس کا ہندوستان کے سیاسی داؤ پیچ کو سلجھانے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں اہم رول ہوتا ہے، چنانچہ تمام بڑی پارٹیوں کی نظریں اسی صوبے پر ٹکی ہوئی ہیں، حکومت کی باگ ڈور کس پارٹی کے ہاتھ میں جائے گی یہ فیصلہ تو الیکشن کے بعد آنے والے نتائج ہی بتا سکتے ہیں، البتہ موجودہ صورت حال کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہے کہ کوئی پارٹی تن تنہا اکثریت کے ساتھ حکومت کی تشکیل نہیں کرپائے گی، مگر کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔


پچھلے چار پانچ سالوں کی کارکردگی اور اس دوران رونما ہونے والے فسادات کو دیکھ کر سماجوادی پارٹی کو جہاں منھ کی کھانی پڑ سکتی ہے، وہیں جھوٹے وعدوں اور فرقہ پرستی پر مبنی سیاست کی وجہ سے بی جے پی کی حالت بھی کوئی بہت زیادہ مستحکم معلوم نہیں ہوتی، لیکن چوں کہ بی جے پی ہمیشہ سے مسلم و دلت ووٹوں کو منتشر کرنے اور مذہبی issues کو ہوا دے کر اکثریتی طبقہ کا ووٹ حاصل کرتی رہی ہے، اور اس کا اس کو فائدہ بھی حاصل ہوا ہے، جیسا کہ ۲۰۱۴ کے لوک سبھا الیکشن میں ہوا تھا، اگر اس اسمبلی انتخاب میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا اور سیکولر پارٹیوں نے باہم اتحاد نہیں کیا، تو بی جے پی کیلئے آگے نکل جانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ لہذا اگر فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینا ہے اور ملک وملت کے لئے امن و شانتی مطلوب ہے تو پھر بی ایس پی اور کانگریس کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ناگزیر ہے، جیسا کہ بہار اسمبلی انتخاب میں آر جے ڈی، جے ڈی یو اور کانگریس نے ایک ساتھ ملکر مہاگٹھ بندھن بنایا تھا، جس کا خاطر خواہ نتیجہ بھی برآمد ہوا، ایسے ہی گٹھ بندھن کی شدید ضرورت یوپی میں بھی ہے۔ عوام بطور خاص مسلم اور دلت رائے دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر ووٹ کریں، اور اپنی سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ووٹوں کو انتشار کا شکار نہ ہونے دیں۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی علاقائی پارٹیوں کو بھی چاہئے کہ انانیت کو پس پشت ڈال کر اتحاد کی صورت اختیار کریں، تاکہ صوبے میں امن وامان کی فضا عام ہو، اور مذہب وفرقہ پرستی سے آزاد ایک صاف ستھری حکومت قائم ہوسکے۔


امتیاز شمیم (ندوی)علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، علیگڑھ 

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...

کیرالہ اور مڈکیری میں پہاڑ کھسکنے کے واقعات کے بعد کیا بھٹکل محفوظ ہے ؟

جب کسی پر  بوجھ حد سے زیادہ  بڑھ جاتا ہے تو انسان ہو یا  جانور اس کو جھکنا ہی پڑتاہے، اس میں پہاڑ، چٹان، مٹی کے ڈھیر،تودے  سب  کچھ شامل ہیں۔ قریبی ضلع کورگ اورپڑوسی ریاست کیرالہ میں شدید بارش کے نتیجے میں جس طرح پہاڑ کے پہاڑ کھسک گئے اور چٹانیں راستوں پر گرنے کے ساتھ ساتھ  ...