طلاق ثلاثہ سے متعلق بل کے مسودے پر اتفاق کرنے و الی اُترپردیش بنی پہلی ریاست

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th December 2017, 10:23 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ، 6 دسمبر ( ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے تین طلاق کو لے کر مرکز کے مجوزہ بل کے مسودے سے اتفاق کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ایسا کرنے والی وہ ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔وزیر اعلی کی صدارت میں کل شام ہوئی ریاستی کابینہ کے اجلاس میں تین طلاق پر مجوزہ بل کے مسودے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔

مسودے میں تین طلاق یا طلاق بدعت کو سنگین اور غیر ضمانتی جرم قرار دیتے ہوئے اس کے مجرم کو تین سال قید کی سزا کا قانون منظور کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی تین طلاق دینے پر بیوی اور بچوں کے پرورش کا خرچ بھی شوہر کو دینا ہوگا۔ریاستی حکومت کے ترجمان وزیر صحت سددھارتھ ناتھ سنگھ نے یہاں بتایا کہ مرکز نے ریاستی حکومت کو وہ مسودہ بھیجتے ہوئے 10 دسمبر تک اس پر رائے دینے کو کہا تھا۔ کابینہ کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد اسے واپس مرکز کے پاس بھیجا جائے گا۔۔ایک اعلی سطحی افسر نے بتایا کہ اتر پردیش تین طلاق سے متعلق بل کے مسودے پر اتفاق کرنے والی پہلی ریاست ہے۔ اس بل کو پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس کے دوران ایوان میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سال گزشتہ 22 اگست کو سپریم کورٹ کی طرف سے تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کے بعد ملک میں تین طلاق کے 68 کیس سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں اتر پردیش اول ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی لگائے جانے کے باوجود ملک میں تین طلاق کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس آن میریج بل کا مسودہ تیار کیا ہے۔ اسے مختلف ریاستی حکومتوں کے پاس غور کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اس مسودے کو مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت والے کابینہ گروپ نے تیار کیا ہے۔مجوزہ قانون صرف طلاق بدعت کی صورت میں ہی لاگو ہوگا اور اس سے متاثرہ خاتون اپنے اور اپنے بچوں کی گذر اوقات کے لیے نان و نفقہ حاصل کرنے کے لیے مجسٹریٹ کے دروازے کھٹکھٹا سکے گی۔مجوزہ بل کے تحت ای میل، ایس ایم ایس اورواٹس ایپ سمیت کسی بھی طریقے سے دیے گئے تین طلاق کو غیر قانونی تصور کیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اے ایم یوریزرویشن: مولانا ولی رحمانی نے پیش کیا 50-50 کا فارمولہ، اولڈ بوائزنے ٹھکرائی تجویز

مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے متعلق  بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے ایم یوکو لے کرپولرائزیشن کی سیاست کی جارہی ہے۔ اس پرپرسنل لا بورڈ نے 50 فیصد مسلم اور 50 فیصد دلت ریزرویشن  کی تجویز پیش کردی۔

چنئی میں 12سالہ بچی کی 7 مہینوں تک عصمت دری ؛ 17 گرفتار؛ عدالت میں وکیلوں نے کیا ملزموں پر حملہ؛ کوئی نہیں لڑے گا کیس

چنئی میں 11سال کی بچی کی مبینہ طور سے عصمت دری کرنے کے الزام میں پولیس نے18  لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک اپارٹمنٹ میں سات مہینوں تک بچی کا جنسی استحصال کیا۔ گرفتار ملزموں کو منگل کو کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں مشتعل ہجوم نے ملزموں کی پٹائی کردی۔