گجرات کا ایک گاؤں جہاں آوارہ کُتّے بھی کروڑپتی ہیں!

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th April 2018, 6:49 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

مہسانہ (گجرت) 11؍اپریل (ایس او نیوز)ریاست گجرات جو کہ دنیا بھر میں مختلف عنوانات سے اپنی شہرت رکھتی ہے وہاں پر ایک گاؤں ایسا بھی ہے ، جہاں پر کروڑوں روپے مالیت کی زمین کے مالکانہ حقوق ’آوارہ کُتّوں ‘کے نام پر ہیں۔

شاید قارئین کو یہ بات عجیب سی لگے کہ ملک میں ہزاروں شہری ایسے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔ علاج و معالجہ کے وسائل نہ ہونے سے جہاں سینکڑوں موتیں واقع ہوتی ہیں، وہاں پر اتنے ’خوشحال کُتّے‘ بھی ہوسکتے ہیں اور وہ بھی اس ریاست میں جہاں انسانوں کو زندہ جلایاگیا۔ اس گاؤں میں جہاں حاملہ خواتین کے پیٹ چیر کر معصوم بچوں کو ذبح کیاگیا۔جہاں چھوٹی چھوٹی بچیوں کو قتل کرنے سے پہلے ظالمانہ طریقے پر عصمت دری کا شکار بنایا گیا۔لیکن یہ سچ ہے کہ اسی ریاست گجرات اور اسی گاؤں میں جانوروں پر مہربانی کرنے والی ’دیالو‘ قوم اور ’کروڑپتی آوارہ کُتّے‘ پائے جاتے ہیں۔

کہانی یہ بتائی جاتی ہے کہ جانوروں پر رحم کرنے والے ’جیو دَیا‘ نظریے کے تحت قوم کے مالدار لوگ زمین کا کچھ حصہ کتوں کے نام پر عطیہ کردیتے ہیں۔ یا پھر زمین کی دیکھ بھال کرنے یا ٹیکس وغیرہ بھرنے کی طاقت نہ رکھنے والے بھی زمین کا ٹکڑا کتوں کو عطیہ کردیتے ہیں۔اور اس کے بعداس زمین سے ہونے والی آمدنی کو کتوں اور دیگر جانوروں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جا تا ہے۔ مہسانہ کے قریب پانچوٹ گاؤں میں 1980سے شروع ہونے والی اس تحریک کی وجہ سے اس وقت 21بیگھہ (تقریباً84ایکڑ) زمین کتوں کے نام پر ہے جہاں 70کے قریب کتے رہائش پزیر ہیں۔ اس زمین کی موجودہ قیمت 3.5کروڑ روپے فی بیگھہ ہے ۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو ہرکتا کم ازکم ایک کروڑ روپے مالیت کی زمین کاحقدار بن جاتا ہے۔ اس زمین کی دیکھ ریکھ ’مادھ نی پاٹی کوتریا ٹرسٹ‘ نامی ادارہ کررہا ہے۔

ان کتوں کو روزانہ آٹے کی مل سے مفت میں فراہم ہونے والے20تا30کیلو گرام آٹے سے بنی ہوئی روٹیاں (جسے روٹلاکہتے ہیں) کھلائی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ہر مہینے چاند کی پہلی اور چودھویں رات کو لڈو بھی پیش کیے جاتے ہیں!

انسانوں کے ساتھ کتوں سے بھی زیادہ بدتر سلوک اور انسانیت کو شرمسار کرنے والے مظالم ڈھانے والوں کی کتوں کے لئے ایسی رحمدلی تعجب خیز تو ہے ، مگر سچائی یہی ہے کہ ایک خاص نظریے والوں کے لئے گائے اورکتے ، انسانوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔لہٰذا جیسا کہ مشہور ہے ’ہر کتے کاایک دن ہوتا ہے‘، تو ان کتوں کو بھی کچھ دن عیش کرنے دو۔

ایک نظر اس پر بھی

اپریل فول منانا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا! ۔۔۔۔۔ از: ندیم احمد انصاری

مزاح کرنا انسان کے لیے ضروری ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان بہت سے غموں کو بھلا کر تروتازہ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے مزاح کرنا اسلام اور انسانی فطرت میں معیوب نہیں سمجھا گیا، البتہ مزاح کے طریقوں پر ضرور غور کرلینا چاہیے۔

ہندوستانی فوجی جنرل نے جمہوری لائن آف کنٹرول کو پھلانگ دیا .... تحریر: مولانا محمد برہان الدین قاسمی

ہندوستانی افواج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے سیاسی جماعتوں پر تبصرہ کر کے ۲۱ فروری، بروز بدھ ملک میں ایک غیر ضروری طوفان برپا کر دیا۔ مولانا بدرالدین اجمل کی نگرانی میں چلنے والی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ آسام کی ایک مقبول سیاسی جماعت ہے۔ جنرل بپن راوت نے دعوی کیاہے کہ ...

اسلام میں عورت کے حقوق ...............آز: گل افشاں تحسین

صدیوں سے انسانی سماج اور معاشرہ میں عورت کے مقام ومرتبہ کو لیکر گفتگو ہوتی آئی ہے ان کے حقوق کے نام پر بحثیں ہوتی آئی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے عورت کے حقوق کے نام پرمختلف تحریکیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں اور صنف نازک کے مقام ومرتبہ کی بحثوں نے سنجیدہ رخ اختیار کیا ...

بابری مسجد، مسلم پرسنل لابورڈ اور مولانا سید سلمان ندوی : سوشل میڈیا پر وائر ل سید سعادت اللہ حسینی کی ایک تحریر

بابری مسجد ،پرسنل لابورڈ اور مولانا سلمان ندوی صاحب وغیرہ سے متعلق جو واقعات گذشتہ چند دنوں میں پیش آئے ان کے بارے میں ہرطرف سے سوالات کی بوچھار ہے۔ ان مسائل پر اپنی گذارشات اختصار کے ساتھ درج کررہاہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی صحیح اور مبنی برعدل و اعتدال ، سوچ کی طرف رہنمائی ...

آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ ماضی اور حال کے آئینے میں ..... آز: محمد عمرین محفوظ رحمانی (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) ۔

آج جمعہ بعد نماز مغرب سے حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا تین روزہ اجلاس شروع ہورہا ہے، جس میں مسلمانوں کے شرعی مسائل پر کھل کر گفتگو ہوگی۔ اسی پس منظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ایک تعارف بورڈ کے سکریٹری کے ذریعے ہی یہاں قارئین کے لئے پیش خدمت ہے