سوشیل میڈیا پر انتخابی مہم چلانے والے ہوشیار!۔بی جے پی کی حمایت اور کانگریس کی مخالفت پراڈپی میں کیس درج

Source: S.O. News Service | Published on 15th April 2018, 1:09 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

اڈپی 15؍اپریل (ایس او نیوز) کرناٹکا اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں سوشیل میڈیا پر خاص کر الیکشن گروپس بناکر بحث و مباحثہ چھیڑنے والے انٹرنیٹ شہری (Netizens) ہوشیار ہوجائیں کیونکہ سوشیل میڈیا پرکسی بھی پارٹی یا امیدوار کی حمایت یا مخالفت والی پوسٹنگ بھی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتی ہے اور ایسے افراد پر کیس بھی درج کیے جاسکتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ اڈپی میں پیش آیا ہے جہاں اکشئے پی شیٹی نامی شخص کے خلاف الیکشن سے متعلقہ فلائنگ اسکواڈ نے کیس درج کردیا ہے کیونکہ اس نے اڈپی بی جے پی سوشیل میڈیاگروپ پر بی جے پی کی حمایت میں ووٹ مانگنے کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی کے خلاف ہتک آمیز ریمارکس اورتصویریں پوسٹ کی تھیں۔اکشئے شیٹی نے اپنی پوسٹ میں ’ترشول‘ نامی ویب سائٹ سے کلپنگس اور تصاویر منسلک کی تھیں جو کانگریس پارٹی کے خلاف اور بی جے پی کی حمایت میں پروپگنڈہ کرنے والی تھیں۔
اکشئے کی اس پوسٹ کے تعلق سے پرمود ایس آر نے الیکشن کمشنراور ڈپٹی الیکشن کمشنر کو ای میل بھیج کر شکایت درج کرواتے ہوئے اکشئے کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ دونوں انتخابی افسران نے شکایت قبول کرتے ہوئے اڈپی انتخابی فلائنگ اسکواڈکے افسر دیانند بینّور کوایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی۔جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اڈپی پولیس نے اکشئے شیٹی کے خلاف ’عوامی نمائندگی قانون 1951اور1998کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی:مذاہب کے تقابلی مطالعہ میں  ماہر نہال احمد اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیاکرناٹکا  (SIO) کے ریاستی صدر منتخب

گلبرگہ کے ہدایت سنٹر میں منعقدہ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کرناٹکا کے اسٹیٹ ایڈوائزی کونسل کی انتخابی  نشست میں  اُڈپی ضلع  سے تعلق رکھنے والے ایس آئی اؤ کے فعال و متحرک ممبر نہا ل احمد کدیور کو ایس آئی اؤ کی اگلی میقات 20196-2020کے لئے ریاستی صدر کی حیثیت سے منتخب ...

بھٹکل میں کنٹیروا فرینڈ س کے زیراہتمام خوبصورت کبڈی ٹورنامنٹ : میزبان ٹیم نے ہی جیتا خطاب

مٹھلی گرام پنچایت حدود والے  تلاند کے کٹے ویرا مہاستی میدان میں کنٹیروا فرینڈس کے زیراہتمام منعقدہ تعلقہ سطح کے 55کلو   کبڈی ٹورنامنٹ میں میزبان  کنٹیرو فرینڈس  نے فائنل  میں مہاستی منونڈو ٹیم کو شکست دیتے ہوئے خطاب جیت لیا ۔

بھٹکل میں 1009آخری رسومات امداد کی عرضیاں  باقی : دوبرسوں سے عوام امداد کے انتظار میں

آخری رسومات منصوبے کے تحت اترکنڑا ضلع کو سال 2018-2019میں 38.10لاکھ روپئے کی امداد منظور کی گئی ہے، تیسری قسط کے طورپر 20.30لاکھ روپئے منظور کئے جارہے ہیں، کل 1009عرضیوں کو معاشی امداد  باقی رہنے کی ریاست کے وزیر تحصیل آر وی دیش پانڈے نے  سرمائی اجلاس کے دوران تحریری جانکاری دی ہے۔

کرناٹکا سے گوا کے لئے  مچھلی سپلائی پابندی میں ڈھیل:چھوٹی سواریوں کے ذریعے مچھلی سپلائی کی اجازت: دیشپانڈے کی کوشش رنگ لائی  

ریاست سے گوا کوچار پہیہ سواری سمیت چھوٹی سواریوں کےذریعے مچھلی   سپلائی پر کوئی پابندی نہیں ہونے کی ریاستی کابینہ کے اسکل ڈیولپمنٹ اور تحصیل وزیر آر وی دیش پانڈے نے جانکاری دی ہے۔

مینگلور میں سابق وزیر پلّم راجو نے کیا ریفائیل معاہدے کے سلسلے میں جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ

سابق مرکزی وزیر پلّم راجو نے منگلورو میں میڈیا سے بات چیت کے دوران مطالبہ کیا کہ جنگی ہوائی جہاز ریفائیل کی خریداری میں ہوئی بدعنوانی کے تعلق سے تحقیقات کے لئے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے ۔

کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں سدرامیا پھر غالب، ہنگامہ خیزی کے اندیشوں کے برعکس میٹنگ میں کسی نے بھی زبان نہیں کھولی

حسب اعلان 22دسمبر کو ریاستی کابینہ میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے آج سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر سدرامیا نے تمام کانگریسی اراکین کو خاموش کردیا۔

مندروں کو دئے جانے والے فنڈز کو فرقہ وارنہ رنگ دینے بی جے پی کی مذموم کوشش، اسمبلی میں اسپیکر نے فرقہ پرست جماعت کی ایک نہ چلنے دی

وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن اسمبلی سی ٹی روی کی طرف سے سوالات تک خود کو محدود رکھنے کی بجائے ایک معاملے پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو جب اسپیکر رمیش کمار نے روک دیا تو اس بات پر بی جے پی اراکین اور اسپیکر کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی۔

ریاست کرناٹک میں 800 نئے سرویرس کا تقرر

وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے آج ریاستی اسمبلی کو بتایاکہ ریاست بھر میں اراضی سروے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے محکمے کی طرف سے 800نئے سرویرس کا تقرر کیا گیا ہے۔

پسماندہ طبقات کے سروے کی رپورٹ تیاری کے مراحل میں: پٹ رنگا شٹی

ریاستی وزیر برائے پسماندہ طبقات پٹ رنگا شٹی نے کہا ہے کہ سابقہ سدرامیا حکومت کی طرف سے درج فہرست طبقات کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے جو سماجی ومعاشی سروے کروایا گیا تھا اس کے اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کرنے کا عمل جاری ہے۔