چار ملکی بائیکاٹ کے بعد قطر کی بوکھلاہٹ کے 60روز

Source: S.O. News Service | Published on 6th August 2017, 10:07 PM | خلیجی خبریں |

دوحہ،6اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)قطر کے بحران کا آغاز ہوئے 60روز گزر چکے ہیں۔ اس بحران کا آغاز سعودی عرب، مصر، امارات اور بحرین کی جانب سے دوحہ کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے بعد ہوا۔ تاہم مذکورہ چاروں ممالک نے مشروط طور پر قطر کی خلیجی ایوان میں واپسی کا دروازہ کُھلا رکھا۔اس سلسلے میں شرط یہ ہے کہ قطر بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک کی جانب سے پیش کردہ تیرہ مطالبات کا مثبت جواب دے جن میں دہشت گردی کے ساتھ دوحہ کا تعلق منقطع ہونا اور اشتعال انگیزی پھیلانے والے چینلوں کو روک دینا شامل ہے۔ تاہم قطر نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی اور ایسے راستے پر ڈٹا رہا جو اُس کو اپنے محور سے دُور سے دُور کرتا جا رہا ہے۔
 سیاسی طور پر قطر نے کویت کی جانب سے مصالحت کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی اور ساتھ ہی "محاصرے" کا جُھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا۔حد تو یہ ہے کہ دوحہ کو فریضہ حج کو سیاست سے آلودہ کرنے، اپنے شہریوں کو حج ادا کرنے سے روکنے اور یہاں تک کہ حرمین کو بین الاقوامی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ پیش کرنے میں بھی کوئی شرمندگی محسوس نہ ہوئی۔
ان گزرے ہوئے 60روز کے دوران دوحہ کے تہران کے ساتھ تعلقات کی گہرائی کا بھی انکشاف ہوا۔ قطر نے ایران کو اپنے خلیجی پڑوسیوں پر فوقیت بخشی اور اپنے وزیر معشیت و تجارت احمد بن جاسم آل ثانی کو ایرانی صدر حسن روحانی کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے بھیجا۔قطر کی ڈِھٹائی کے باوجود چار ملکی بائیکاٹ نے اُس کی معیشت پر گہرا اثر ڈالا۔ اس دوران اس کی اکلوتی زمینی سرحدی گزرگاہ کے راستے تجارت کا سلسلہ رک گیا اور فضائی اور سمندری جہاز رانی بھی سبوتاژ ہوئی۔قطر کے مرکزی بینک کی جاری کردہ معلومات کے مطابق صرف جون کے ایک ماہ کے دوران ملک کے ذرِ مبادلہ کے ذخائر میں 10ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی آئی۔ ساتھ ہی 2022ء کے فٹ بال عالمی کپ کے انعقاد کے حوالے سے بھی اندیشوں کے بادل منڈلا رہے ہی۔

ایک نظر اس پر بھی

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔