گنگولی میں دکان اور کارکو نذر آتش کرنے کا معاملہ۔ عدالت میں ہوا، دو ملزمین پر جرم ثابت۔10دسمبر کو سنائی جائے گی سزا

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th December 2018, 7:01 PM | ساحلی خبریں |

کنداپور6؍دسمبر (ایس او نیوز)تقریباً تین سال قبل گنگولی میں دکان اور موٹر گاڑی کو نذرِ آتش کیے جانے کا جرم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس کورٹ میں دو ملزمین پر ثابت ہوگیا ہے اور عدالت نے 10دسمبر کو سزاسنانے کی بات کہی ہے۔

جن 2ملزمین کو عدالت نے مجرم قرار دیا ہے ان کے نام محمد جنید اور ویلڈنگ جعفر بتائے جاتے ہیں جو کہ گنگولی کے رہنے والے ہیں۔ ان دونوں پر 21؍جنوری 2015کی رات میں گنگولی کے رہنے والے وینکٹیش شینوئی کی ملکیت والی دکان وینکٹیشورا اسٹورس اور اس سے ملحقہ گودام کے علاوہ گھر کے سامنے پارک کی گئی کار کو نذرآتش کرنے کا الزام تھا۔اس وقت کے بیندور سرکل پولیس انسپکٹر سدرشن کی قیادت میں تشکیل دی گئی تفتیشی ٹیم نے مذکورہ بالا ملزمین کو گرفتار کیا تھا۔ 

سیشنس عدالت کے جج پرکاش کھانڈیری نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد کہا کہ انڈین پینل کوڈ کی دفعات 451, 436 اور 427 کے تحت ان دونوں ملزمین پردائر کیے گئے مقدمے میں جرم ثابت ہوگیا ہے،جس کے لئے سزا کی مقدار کا اعلان وہ 10دسمبر کوکریں گے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گنگولی میں آتش زنی کے اس واقعے کے بعدسنگھ پریوار کے لیڈروں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔ بی جے پی کی رکن اسمبلی شوبھا کرندلاجے نے 23؍جنوری 2015کواڈپی میں پریس کانفرنس کے دوران سنگین الزام لگاتے ہوئے اس واقعے کو بھٹکل کے دہشت گردوں کی کارروائی قراردیا تھا اور کہا تھا ’’کہ اس میں گنگولی کے مقامی لوگ ملوث نہیں ہیں بلکہ یہ دہشت گردی میں مہارت رکھنے والوں کی کارستانی ہے ، کیونکہ آتش زنی کے لئے 10لیٹر پٹرول استعمال کیا گیا ہے، انہوں نے کہا تھا کہ وہ لوگ بھٹکل کے ہوسکتے ہیں اور یہ ایک منصوبہ بند واردات ہے شوبھا نے یہاں تک کہا تھا کہ  پولیس کو جرم میں استعمال کی گئی کار کا جو رجسٹریشن نمبر معلوم ہو اہے وہ اڈپی ضلع کا نہیں ہے۔‘‘ 

ایک نظر اس پر بھی

21مارچ سے ایس ایس ایل سی امتحانات : اترکنڑا ضلع میں کل 9766طلبا و طالبات کی سالانہ امتحانات میں شرکت

طلبا کی تعلیمی  زندگی کا پہلا اہم مرحلہ   ایس ایس ایل سی کے سالانہ امتحانات 21مارچ 2019سے 04 اپریل 2019منعقد ہونگے ۔ جس کے لئے اترکنڑا ضلع محکمہ  تعلیمات عامہ پوری طرح تیار رہنے کی  ڈپوٹی ڈائرکٹر کے منجوناتھ نے اطلاع دیتے ہوئے جانکاری دی ہے کہ اترکنڑا تعلیمی ضلع کے 5تعلقہ جات میں ...

اُڈپی : آر ایس ایس مسلمانوں سے زیادہ دلت مخالف ہے: سابق بجرنگ دل لیڈر مہیندر کمار

 آر ایس ایس حقیقت میں  دلت، شودر، مظلوم ، پسماندہ طبقات ، ہندو  اور ملک مخالف ہےوہ  مسلم مخالف نہیں ہے ،کیونکہ  یہ سب صرف نوجوانوں کو غلط راستے پر لے جانےکے لئے انہیں استعمال کرتی ہے۔ اگر اس کو اب نہیں سمجھیں گے تو پھر ایک بار ملکی آزادی کے لئے جدوجہد کی ضرورت پڑے گی۔ سماجی مفکر ...

بھٹکل کے ایک اُردو اسکول کے کمپائونڈ میں خون کے دھبے اور کھڑکی کے ٹوٹے گلاس پائے جانے کے بعد زبردست ہاتھاپائی ہونے کا شبہ

یہاں مدینہ کالونی ، محی الدین اسٹریٹ  میں واقع  اُردو ہائیر پرائمری اسکول  کی دیوار اور صحن پرجابجا  خون کے دھبے سمیت ایک کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا پائے جانے  کے بعد شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہاں رات کو زبردست ہاتھاپائی یا ماردھاڑ کی واردات رونما ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد  اسکول کے ...

ضلع شمالی کینرا کا انتخاب۔ منووادی اور غیر منووادیوں کے درمیان مقابلہ ہے؛ سیکولراُمیدوار کو جیت دلانا اہم مقصد ہونا چاہئے؛ سابق وزیر آر این نائک کا بیان

درپیش پارلیمانی انتخابات اور خاص کرکے ضلع شمالی کینرا کی سیٹ کو کانگریس کی طرف سے جنتا دل ایس کو مختص کیے جانے کے بعد سابق وزیر اور کانگریسی لیڈر ایڈوکیٹ آر این نائک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بار ہونے والا انتخاب پارٹیوں کی جیت یا پارلیمان میں امیدواروں کی تعداد بڑھانے والا ...