جرمنی میں ایک با ر اسلام مخالف لہر ، مسجد نذ رآتش، شرپسندانہ کاروائی کو بچوں سے منسوب کرکے میڈیا خوش 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th March 2018, 12:02 PM | عالمی خبریں |

برلن 12مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) جرمن دارالحکومت برلن کی ایک مسجد پر آتش گیر مادہ پھینکتے ہوئے آگ لگا دی گئی۔ پولیس کے مطابق برلن کے رائنکن ڈورف علاقے میں واقع اس مسجد کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ مسجد پر آتش گیر مادہ پھینکنے والوں کا تعلق کس گروپ سے ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز آتش گیر مادہ پھینکنے کے اس واقعے میں تین کم عمر لڑکے ملوث ہو سکتے ہیں۔ اس مناسبت سے تحقیقی عمل شروع ہے لیکن اندازوں کے مطابق اس حملے کے پس پردہ سیاسی محرکات ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ مسجد ترک حکومت کی ایک مذہبی تنظیم دیتیپ کے زیر انتظام ہے۔مسجد انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق مسجد کا اندرونی حصہ تقریبا مکمل طور پر خاکستر ہو گیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ حالیہ دو ایام کے دوران دیگر دو مقامات پر واقع مساجد پر بھی آتش گیر مادے پھینکے جا چکے ہیں۔ پولیس میشیڈے اور لاؤفن نامی علاقوں میں پیش آنے والے ان دونوں واقعات کی بھی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔جرمن حکومت کی طرف سے حال ہی میں جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق گزشتہ برس اس یورپی ملک میں مسلمان مردوں، خواتین اور مساجد پر قریب ایک ہزار حملے کیے گئے جبکہ ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں ملوث تقریبا سبھی ملزمان کا تعلق دائیں بازو کے انتہاپسندوں سے تھا۔مسجد انتظامیہ کے مطابق مسجد کا اندرونی حصہ تقریبا مکمل طور پر خاکستر ہو گیا ہیان ’حملوں‘ میں مسلمانوں کو لکھے گئے دھمکی آمیز خطوط، اسکارف پہننے والی مسلم خواتین یا پھر عوامی مقامات پر مسلمان مردوں کے خلاف کسے جانے والے نفرت انگیز جملے بھی شامل ہیں۔ گزشہ برس کیے گئے ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم تینتیس افراد زخمی بھی ہوئے۔جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے حملوں کے اعدا و شمار جمع کرنے کا سلسلہ گزشتہ برس شروع کیا گیا تھا اور اسی وجہ سے ان کا ماضی کے کسی سال سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔قبل ازیں’دی لِنکے‘ نامی سیاسی جماعت سے وابستہ جرمنی کے داخلی سیاسی امور کی ماہر خاتون سیاستدان اولا ڑیلپکے کا کہنا تھا، ’’اسلام دشمن اب گلیوں سے نکل کر پارلیمان تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ پارلیمانی اسٹیج کو استعمال کرتے ہوئے جرمنی میں مسلمانوں کی زندگی کے خلاف سماجی ماحول کو زہریلا بنا رہے ہیں۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

انجلینا جولی کی عید پرعراق کے شہر موصل کے پناہ گزینوں سے ملاقات

اقوام متحدہ کی پناہ گزین کی خصوصی ایلچی انجلینا جولی نے عراق میں دہشت گردی سے سب سے متاثرہ علاقے موصل کا دورہ کیا اور عالمی برادری سے تباہ حال شہر کے بے گھر رہائشیوں کی دوبارہ اپنے گھروں میں آبادکاری کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔

ننگر ہار: طالبان پر خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہو گئی

صوبہ ننگرہار میں کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر نجیب اللہ کماوال کے حوالے سے کہا ہے کہ ہفتہ کو ہونے والے اس حملے میں 65 افراد زخمی بھی ہوئے۔افغان حکام نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران مشرقی صوبہ ننگرہار میں افغان جنگجوؤں کے ایک اجتماع پر خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہو گئی ہے۔

جاپان میں.1 6 شدت کا زلزلہ، تین افراد ہلاک

اوساکا اور اس کے گرد و نواح کا شمار جاپان کے اہم ترین صنعتی مراکز میں ہوتا ہے اور زلزلے کے بعد علاقے میں واقع بیشتر کارخانوں میں کام بند کردیا گیا ہے۔جاپان کے دوسرے بڑے شہر اوساکا میں آنے والے 6.1شدت کے زلزلے سے اب تک تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔

نیو جرسی: آرٹ فیسٹول میں فائرنگ، حملہ آور ہلاک

امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں ایک آرٹ فیسٹول کے دوران فائرنگ سے 22 افراد زخمی ہوگئے ہیں جب کہ ایک مبینہ حملہ آور مارا گیا ہے۔حکام کے مطابق واقعہ اتوار کو نیوجرسی کے شہر ٹرینٹن میں پیش آیا جہاں رات بھر جاری رہنے والے آرٹ فیسٹول کے دوران دو متحارب گروہ آپس میں لڑ پڑے۔

افغان طالبان کا جنگ بندی میں توسیع سے انکار

افغان طالبان نے کہا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز سے تین روزہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے حوالے سے کہا ہے کہ جنگ بندی 17 جون کی رات ختم ہو رہی ہے جس کے بعد طالبان کی کارروائیاں ...

ترک فوج کی عراق میں بمباری، 35 کرد جنگجو ہلاک

ترکی کی مسلح فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے شمالی علاقے جبل قندیل میں کرد علاحدگی پسند گروپ کردستان ورکرز پارٹی "PKK" کے ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 35 کرد باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔