دفاع کے شعبے میں ترکی اور روس کے بڑھتے روابط

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 11:24 AM | عالمی خبریں |

انقرہ،12ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)یہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے باہر کے کسی ملک کے ساتھ ترکی کی پہلی بڑی ڈیل ہے۔ کئی مقامی اخبارات نے اس بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے حوالے سے لکھا ہے، روس سے S-400 دفاعی نظام خریدنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور اس سلسلے میں پیشگی رقم بھی ادا کر دی گئی ہے۔ ایردوآن نے مزید کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور وہ اس ڈیل کو آگے بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں۔ اس ڈیل کی تصدیق ماسکو حکومت کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق زمین سے فضا میں مار کرنے والے اس میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر مغربی ممالک میں تحفظات سامنے آ سکتے ہیں۔ ترکی کے نیٹو اتحادی ملکوں کے لیے یہ معاملہ غور طلب ہے کہ آیا یہ روسی دفاعی نظام ان کے اسی طرز کے نظام کے ساتھ کام کر سکے گا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون پہلے ہی اس سلسلے میں اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے البتہ کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دفاع کے لیے کیے جانے والے یا پھر انقرہ حکومت کے انفرادی فیصلوں پر بات چیت کے۔ ان کے بقول ترکی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے آزادانہ فیصلے کرے۔S-400طرز کا میزائل دفاعی نظام کافی پیچیدہ اور جدید ترین مانا جاتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ایجنسیوں سے بہتر رپورٹیں تو میڈیا سے مل جائیں گی: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق خفیہ اداروں کی رپورٹوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے نئی رپورٹیں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے جج قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیے ہیں کہ جب ریاست ختم ہو جائے گی تو قتل سڑکوں پر ہوں گے۔

نائیجیریا میں نمازیوں پر حملہ انتہائی قابلِ مذمت: ترجمان

امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو نائجیریا میں ریاستِ ادماوا میں موبی کے مقام پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔ترجمان ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ ’’اِس جانی نقصان پر ہم نائجیریا کے عوام اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں‘‘۔

بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے 6 رہنمائوں کو سزائے موت

 بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے بدھ کو جماعتِ اسلامی کے 6 ارکان کو 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگِ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے مبینہ الزامات پر موت کی سزا سنادی۔ان افراد کو انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل کے ایک تین رکنی پینل نے سزاسنائی ۔