ٹرمپ کی جیت نے ساری دنیا کو حیرت میں ڈالدیا ہے آز: پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th November 2016, 6:31 AM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

ڈونالڈ ٹرمپ 14جون 1946کو امریکہ کے کے شہر نیو یارک سٹی میں ایک اسٹیٹ بلڈر کے گھرانے میں پیدا ہوئے ۔پنسلونیہ یونیور سٹی سے معاشیات میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ٹرمپ نے کاروباری میدان میں بہت نام اور پیسہ کمایا۔ان کو 2016کے دنیا کے 324 دولت مند ترین افراد میں گنا جاتا ہے۔ جو امریکہ کے156 ، امیر ترین افراد میں شمار کئے جاتے ہیں۔جنہیں 2016کے انتخابات میں ریپبلیکن پارٹی نے اپنا صدارتی امیدوار چنا تھا۔انہوں نے ہیلری کلنٹن کو 8نومبر 2016کے انتخابات میں شکست فاش سے ہمکنار کر کے اپنے آپ کو ری پبلیکن پارٹی کا مضبوط ترین امیدوار ثابت کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے پینتالیسویں اور عمر کے لحاظ سے پہلی ٹرم کے معمر ترین صدر بنیں گے۔ جو20جنوری 1917کو ریپبلیکن پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے ایوانِ صدر میں صدارت کی کرسی پر براجمان ہوجائیں گے ۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات کا ساری دنیا میں چرچہ تو تھا ہی، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعلق دنیا کے خیالات موجودہ انتخابی نتائج کے بالکل بر عکس تھے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی عوام نے ساری دنیا کے اندازوں پر پانی پھیر دیا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات او زندگی بھرکی بد اخلاقیوں سے امریکیوں کے علاوہ بھی ساری دنیا پورے طور پرواقف تھی۔ ان پر یہ الزامات کھل کر امریکی خوتین نے بھی لگائے۔جو انتہا درجے کی بد اخلاقی پر مبنی تھے۔یہ خواتین میڈیا پر آ آ کر ان کا کچا چٹھا کھولتی رہیں۔ ٹرمپ کی انتخابی تقاریر مسلم تعصبات کا ملغوبہ تھیں ۔ جس نے نا صرف امریکی مسلمانوں کو ہرٹ کیا بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمانوں کو بھی ٹرمپ نے کھل کر چیلنج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے صدارتی انتخابات جیتنے پر ان کے صدر بننے کے بعد مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کا امریکہ میں رہنا محال کر دیں گے اور ان کی امریکی نیشنلٹی ختم کر کے تمام مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کو امریکہ سے دیس نکالا دلا کر ہی دم لیں گے۔وہ پاکستانیوں کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کرنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ کی صدارتی انتخابی انٹری کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ دھواں دار رہی انہوں نے آتے ہی اسلام کا تعلق انتہا پسندی سے جوڑ کر ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی باتیں شروع کر دی تھیں۔ ٹرمپ نے ایسے امریکیوں کی ترجمانی کی جو مذہب کا تعلق انتہا پسندی سے جوڑتے ہیں۔اسلام مخالف بیانات نے ٹرمپ کو مسلمانوں کا مخالف تو ہندوانتہا پسندوں کا ہیرو بنا دیا۔ 

ساری دنیا کے بڑے بڑے اخبارات صحافی اور اینکر پرسن اور میڈیا کے لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہونے پربہت زیادہ خوشی کا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ ہر جانب سے افسوس کا اظہارہورہاہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مہذب دنیا کا ہر ذی شعورانسان ٹرمپ کی کامیابی پر نوحہ کُنا ں ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کا ماضی کا اخلاق سے گرا ہواکردار دکھائی دیتا ہے۔ٹرمپ کے متعلق عام خیال یہ ہی ہے کہ وہ کوئی بھی بد اخلاقی کو موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔ ٹرمپ کے مقابلے میں ہیلری کلنٹن کو اخلاقی اور سماجی نقطہِ نظرسے ایک قسم کا وقار اور عزت حاصل ہے جو ٹرمپ کے قریب سے بھی نہیں گذری ہے۔ ٹرمپ کی کامیابی نے ساری دنیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان پیدا کر دیا ہے۔امریکہ،برطانیہ ،جاپان،ہانگ کانگ، پاکستان اور ممبئی کی اسٹاک مارکیٹیں نہایت ہی مندی کا شکار ہوگئی ہیں۔ڈالر کی قدر میں کمی اورعالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا ہو گیا ہے۔ 

ٹرمپ کی زبان پاکستان کے عمران خان کی زبان سے بالکل مختلف نہ تھی۔ ان کی تقاریر میں انسانیت کا جنازہ  نکال دیا جاتارہا ہے۔ ٹرمپ کا کردار بھی ہمارے بعض سیاسی کرداروں سے ذرہ برابر بھی مختلف نہیں رہا ہے۔عملی زندگی میں انتہائی لُوز کردار کے مالک ڈونلڈ ٹرمپ آج امریکہ کی راج گدی پر براجمان ہونے کے حقدار بن چکے ہیں۔ ان کے بارے میں ساری دنیا کے سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے اکثر افراد منفی سوچ رکھتے ہیں۔ بعض افراد کا تو یہ بھی خیال ہے کہ ٹرمپ اقتدار میں آنے کے بعد دنیا کو تباہی کے گڑھے کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ان کی انتہا پسندانہ سوچ نے ساری دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے اپنے خیالات نہ بدلے تو دنیا کو تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ اسوقت ٹرمپ کی کامیابی نے ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ 

یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں، جس سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...

کورگ میں بارش کی بھاری تباہی ، تین اموات،زمین کھسکنے کے متعدد واقعات 

جنوبی ہند کا کشمیر کہلانے والے ریاست کے کورگ ضلع میں بارش نے زبردست تباہی مچادی ہے۔ ایک طرف بارش کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے تو دوسری طرف پڑوسی ریاست کیرلا میں طوفانی بارش کے سبب وہاں کی ندیوں کا پانی بھی کرناٹک کی طرف بہادیا گیا ہے،

مہادائی ٹریبونل کے فیصلے کا چیلنج کرنے ریاستی حکومت تیار

ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے بعض اضلاع کو پینے کے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ مہادائی کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں حال ہی میں ٹریبونل نے جو فیصلہ صادر کیا ہے ریاستی حکومت اس کا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔