ایران پر لازم ہے کہ خطّے کو غیر مستحکم کرنے سے رْک جائے : ٹرمپ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th January 2018, 10:16 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن12جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں سے ٹیلی فون پر رابطے میں اس امر کی اہمیت پر زور دیا ہے کہ ایران خطّے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سرگرمیاں روک دے۔ یہ بات وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتائی گئی۔فرانسیسی صدارتی محل الیزے کے مطابق فرانسیسی صدرعمانوئل ماکروں نے اس موقع پر باور کرایا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے تمام فریقوں پر معاہدے کا احترام لازم ہے۔ معاہدے پر درست طریقے سے عمل درآمد کے علاوہ ایران کے ساتھ اْس کے بیلسٹک پروگرام اور اْس کی علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے بات چیت ہونی چاہیّے تا کہ مشرق وسطی میں زیادہ بڑے پیمانے پر استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

توقع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اْن پابندیوں کو دوبارہ عائد نہیں کریں گے جو جوہری معاہدے کے تحت تہران پر سے اٹھائی گئی ہیں۔دوسری جانب ایران نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ یورنیئم کی افزودگی کا عمل تیز کرنے کے لیے تیار ہے۔ایرانی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے نائب سربراہ نے باور کرایا کہ اگر پابندیاں اٹھائے جانے کے نظام میں توسیع نہ کی گئی تو اْن کا ملک ضروری اقدامات کرے گا۔

برسلز میں یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سے یہ نقطہ نظر سامنے آیا ہے کہ جوہری معاہدے کا متبادل نہ ہونے کے سبب اسی معاہدے کو برقرار رکھا جائے۔ تاہم یورپی یونین نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

شاہ سلمان ریلیف مرکز کے زیراہتمام جنگ سے متاثر80 یمنی بچوں کی بحالی

یمن میں حوثی شدت پسندوں کی جانب سے جنگ میں جھونکے بچوں کی بحالی کے لیے شاہ سلمان ریلیف سینٹر بحالی پروگرام کے پانچویں اور چھٹے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔ اس مرحلے میں جنگ سے متاثرہ 80 بچوں کو بحالی پروگرام سے گذارنے کے بعد ان کے گھروں کو بھیجا جائے گا۔

کانگریس ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے کوشاں

امریکا کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی کانگریس نے ایران کی منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔